تازہ ترین
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوت عثمان و علی و جابر کے گھر

مصنف:جاوید اختر بھارتی
جنگ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شکم انور پر پتھر بندھا دیکھا تو بیچین ہو گئے صبر کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگئے گھر پہنچ کر اپنی بیوی سے کہا کہ کیا گھر میں کچھ ہے تا کہ ہم آقا صل اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ پکائیں اور انہیں کھلائیں؟ بیوی نے جواب دیا تھوڑا سا جو ہے اور یہ بکری کا چھوٹا سا بچہ ہے اسے ذبح کرلیتے ہیں
آپ حضور صل اللہ علیہ وسلم کو بلا لائیے مگر چونکہ وہاں لشکر بہت زیادہ ہے اس لیے آقا سے تنہائی میں کہئیے گا کہ وہ اپنے ہمراہ کچھ کم ہی آدمیوں کو لائیں- جابر نے کہا کہ اچھا تو لاؤ میں بکری کے بچے کو ذبح کرتا ہوں اور تم کھانا پکاؤ میں حضور کو بلالاتا ہوں،، چنانچہ حضرت جابر بارگاہ نبی میں پہنچے اور کان میں عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ میرے گھر تشریف لے چلیں اور اپنے ساتھ کچھ تھوڑے سے آدمیوں کو لیلیں حضور نے سارے لشکر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا چلو میرے ساتھ چلو جابر نے کھانا پکوایا ہے
ادھر جابر حیران ہوئے کہ کھانا کم ہے آدمی زیادہ ہیں لیکن دل سے یہ صدا بھی ارہی تھی کہ نبی کی دعوت میں نے دی ہے اور لشکر کو دعوت نبی نے دی ہے اور سارے لشکر کو لیکر نبی کریم جابر کے گھر تشریف لاتے ہیں ادھر جابر اپنی بیوی سے کہتے ہیں کہ میں نے تنہائی میں نبی کو دعوت دی اور دس آدمیوں سے کم ساتھ میں لے کر تشریف لانے کو کہا مگر حضور نے سارے لشکر کو مخاطب کرکے کہا کہ چلو جابر کے گھر دعوت ہے اور سارے لوگ آ بھی گئے،، حضرت جابر کی بیوی پوچھتی ہے کہ نبی پاک تشریف لائے کہ نہیں تو جابر نے کہا کہ نبی پاک بھی تشریف لائے ہیں تب بیوی کہتی ہے کہ اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے آپ نے نبی کو دعوت دی اور نبی نے لشکر کو دعوت دی ہے،، نبی کریم نے آٹے میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور گوشت میں بھی لعابِ مبارک ڈال دیا اور فرمایا کہ ہانڈی چولہے پر چڑھا دو اور روٹیاں پکانا بھی شروع کردو گوشت اور روٹی یعنی کھانا تیار ہوگیا
پھر نبی نے فرمایا کہ اسے کپڑے سے ڈھک دو اور اس میں سے نکال نکال کر دسترخوان پر لے آؤ دسترخوان لگ گیا نبی کریم اور صحابہ کرام بیٹھ گئے فرمانِ نبی کے مطابق دسترخوان پر کھانا آنے لگا اٹھائیے احادیث کی متعدد کتابیں اور نبی کریم کے لعاب دہن کی برکت دیکھئیے اتنی برکت ہوئی کہ ایک ہزار آدمیوں نے کھانا کھایا نہ روٹی کم ہوئی نہ بوٹی کم ہوئی صحابہ کرام کی جماعت کھانا کھا کر شکم شیر ہوگئی (مشکوٰۃ شریف ص 524)
آئیے ایک دوسری دعوت کا بھی ذکر کیا جائے ایک مرتبہ سخاوت کے دھنی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کی اور عرض کیا یارسول اللہ! میرے غریب خانے پر آپ تشریف لائیں اور دوستوں سمیت تشریف لائیں اور ماحضر تناول فرمائیں نبی پاک نے عثمان غنی کی دعوت منظور فرمائی اب آقائے دوعالم تشریف لے جارہے ہیں عثمان غنی کے گھر اور نبی کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں عثمان غنی اور نبی پاک کے قدموں کو گنتے جارہے ہیں کہ معلوم ہوسکے کہ میرے گھر تک آنے میں نبی کونین کے قدموں کی تعداد کتنی ہے جب حضرت عثمان کا یہ طریقہ نبی نے دیکھا تو پوچھا اے عثمان یہ کیا کررہے ہو کیوں میرے قدموں کی گنتی کررہے ہو،،
یہاں یہ بات بھی بتادینا ضروری ہے تاکہ آج دنیا بھر کے حکمرانوں کو ہوش آجائے کاروں کے قافلے کے جھرمٹ میں چلنے والوں دیکھو، غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر عیش و آرام کرنے والوں دیکھو، گارڈ آف آنر کی سلامی لینے دینے والے پوری دنیا کے حکمرانوں دیکھو غربت کو چھپانے کے لئے دیوار کی تعمیر کرنے والوں دیکھو، پھول اور مالا پہن کر اپنے استقبال پر ناز کرنے والوں دیکھو نبی کا استقبال ہورہا ہے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم کا استقبال کررہے ہیں کہتے ہیں کہ یارسول اللہ اس لئے آپ کے قدموں کی گنتی کررہا ہوں کہ میں نے پروگرام بنارکھا ہے آپ کے ہر ہر قدم پر ایک ایک غلام آزاد کرونگا میرے گھر تک تشریف لے جانے میں آپ کے جتنے بھی قدم پڑیں گے میں آپ کے استقبال میں اتنے غلام آزاد کروں گا جامع المعجزات میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی کے گھر تک پہنچ نے میں نبی پاک کے جتنے بھی قدم پڑے عثمان غنی نے نبی کی تعظیم و توقیر میں اتنے غلام آزاد کئے –
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سخاوت کے دھنی تھے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے محب اور طالب تھے آپ کے عقد میں یکے بعد دیگرے سرکار دو عالم کی دو دو بیٹیاں بھی آئیں یہ شان ہے عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی-
آئیے تیسری دعوت کا بھی ذکر کریں جب عثمان غنی کے گھر دعوت ہو چکی تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے گھر تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ آپ کچھ مغموم ہیں چہرے سے کسی خاص خواہش کا اظہار ہورہا ہے حضرت فاطمہ نے پوچھا کہ اے میرے سرتاج آپ پریشان کیوں ہیں تو علی نے کہا کہ اے فاطمہ آج میرے بھائی عثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی شاندار دعوت کی ہے اور حضور کے ایک ایک قدم کے بدلے انہوں نے غلام آزاد کیا ہے اے کاش! ہم بھی حضور کی ایسی دعوت کرتے لیکن ہمارے پاس اتنا مال و دولت نہیں ہے، ہمارے پاس اتنی وسعت نہیں ہے آخر ہم کیسے نبی پاک کی دعوت کریں تو حضرت فاطمہ نے کہا کہ اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ جائیے اور رسول اللہ کی دعوت بول آئیے حضرت علی نے کہا کہ اتنا زبردست انتظام اور ہر قدم کے عوض غلام آزاد یہ کیسے ممکن ہے ہم کیسے یہ سب کچھ کریں گے تو فاطمہ نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، پریشان نہ ہوں انشاءاللہ سارا انتظام ہو جائے گا آپ جاکر حضور کی دعوت بول دیجیے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوکر دعوت عرض کردی اور نبی نے دعوت قبول فرمالی اور اپنے اصحاب سمیت فاطمہ کے گھر تشریف لے چلے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی پاک کو اور اصحاب کرام کو بیٹھایا اور خود خلوت میں تشریف لے جاکر سجدہ ریز ہو گئیں –
آج بڑی بڑی شادیاں کرنے والوں، اس میں قسم قسم کے لوازمات کا انتظام کرنے والوں، امیری و غریبی کا دسترخوان الگ الگ کرنے والوں، اپنی شادیاں اور دعوت کی ویڈیو بنا کر یادگار بنانے والوں دیکھو یادگار کسے کہتے ہیں، ذکر کس کا ہوتا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا الہ العالمین میں نے تیرے محبوب کی دعوت کی ہے اب تو ہماری لاج رکھ تیری بندی کا تجھی پر بھروسہ ہے اور یقین کامل ہے کہ تیری بندی کو شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا پھر اس کے بعد چولہے پر ہانڈی چڑھائی اور پھر سجدے میں سر رکھ کر رورو کر عرض کیا اے اللہ میں نے چولہے پر ہانڈی چڑھادی ہے اب انتظام کرنا تیرا کام ہے تو اپنی بندی کی لاج رکھ لے ادھر رحمت کا دریا جوش میں آیا اور اللہ نے اس ہانڈی کو جنت کے کھانوں سے بھر دیا حضرت فاطمہ نے اس ہانڈی سے دسترخوان پر سب کے لیے کھانا بھیجنا شروع کیا نبی کریم نے اور اصحاب کرام نے کھانا کھایا لیکن اس ہانڈی میں کھانا کم نہیں ہوا اب کھانے کا ذائقہ ایسا تھا کہ سب کے سب حیرت میں مبتلا تھے کہ ایسا عظیم الشان ذائقہ کہ آج سے پہلے کبھی ایسے لذیذ کھانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا تب نبی کریم نے فرمایا کہ جانتے ہو یہ کھانا کہاں سے آیا ہے،، یہ کھانا جنت سے آیا ہے یہ جنتی کھانا جب یہ سنا تو صحابہ کرام بہت خوش ہوئے –
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پھر خلوت میں گئیں اور سجدہ ریز ہوکر یہ دعا کرنے لگیں،،
اے اللہ! عثمان نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدم کے بدلے ایک ایک غلام آزاد کیا ہے اے اللہ تیری بندی فاطمہ کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے رب العالمین جہاں تونے میری خاطر جنت سے کھانا بھیج کر میری لاج رکھی وہاں تو میری خاطر اپنے محبوب کے ان قدموں کے برابر جتنے قدم چل کر وہ میرے گھر تشریف لائے ہیں محبوب کی امت کے گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کردے،،
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب اس دعا سے فارغ ہوئیں تو جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور سید الکونین سے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بشارت دے کر بھیجا ہے کہ آپ کی صاحبزادی کی دعا قبول فرماتے ہوئے آپ کے ہر قدم کے عوض ایک ہزار گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کردیا گیا یہ بشارت سن کر نبی پاک اور اصحاب کرام بیحد خوش ہوئے –
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام و مرتبہ بڑا بلند ہے آپ کی خاطر اللہ نے جنت سے کھانا بھیجا اور کل بروز قیامت جب پل صراط سے فاطمہ کی سواری گذرے گی تو اعلان کردیا جائے گا کہ سارے مرد اپنی نگاہیں نیچی کرلیں خاتون جنت فاطمہ کی سواری گذرنے والی ہے،، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ شان ہے –
تحریر: جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، Javedbharti508@gmail.com
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
