تازہ ترین
ڈی اے وائی- این آر ایل ایم تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ روزگار اور تغذیاتی تحفظ کی صورت حال کو بہتر بنایا جاسکے
نیتا کیجریوال
کووڈ-19 کی وبا کے سبب روزگار، غذائیت اور صحت خدمات کے متاثر ہونے کے سبب ڈی اے وائی- این آر ایل ایم پوشن ماہ 2020 کے دوران تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مہم کی قیادت کررہا ہے۔ اس سے تغذیاتی تحفظ اور غریب ترین اور سوئے تغذیہ سے متاثرہ لوگوں کے لیے آمدنی کے اسباب پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
کووڈ-19 کی غیرمعمولی وبا کے سبب متعدد سوالات کھڑے ہورہے ہیں، جن میں دیہی برادریوں کے روزگار، خوراک اور تغذیاتی تحفظ سے متعلق مسائل کا ازالہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران غذائیت پر مبنی روزگار جیسے تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری میں شروع شروع کی سرمایہ کاری ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔ اس سے کنبوں کو مقامی سطح پر اس وقت انڈوں اور غذائیت بخش سبزیوں تک رسائی میں مددملی، جب سپلائی چین، نقل وحمل اور بازاروں تک رسائی بری طرح متاثر تھی۔ دیہی ترقیات کی وزارت کے تحت دین دیال انتودیہ یوجنا –قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) نے اس تجربے سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ژچگی کی عمر والی 50 فیصدسے زیادہ خواتین میں خون کی کمی کی شکایت ہے اور تقریبا 23 فیصد بی ایم آئی کی قلت کا شکار ہیں۔ اس بات کا اظہار این ایف ایچ ایس -4 (2015-16) کے اعداد وشمار سے ہوتا ہے۔ صحت اور تغذیاتی خدمات تک حقدار خواتین کی رسائی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان 51.2 فیصد خواتین میں سے محض 4 یا اس سے زیادہ خواتین اینٹی نیٹل کیئر وزٹ کرسکیں اور 30.3 فیصد خواتین نے کم از کم 100 دنوں تک آئی ایف اے لیا۔ (ایل ایف ایچ ایس-4) رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب خواتین اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے لیے ضروری خدمات سے متعلق التزامات کی راہ میں رخنہ پڑا،جس سے پہلے ایک ہزار دنوں کے دوران خواتین کی غذائیت اور صحت کو بہتر بنانے کے سلسلے میں جوکامیابیاں ملی تھیں،ان کو دھچکا پہنچا۔
63.3لاکھ سے زیادہ ایس ایچ جی اور6.98کروڑخواتین اراکین پرمشتمل اپنے نیٹ ورک کے ساتھ ڈی اے وائی –این آرایل ایم غذائیت اور صحت کے متعلق اپنی صورتحال میں بہتری سمیت غریب کنبوں کی غریبی کودورکرنے اورسماجی ترقی کی سمت میں کام کرنے کے لئے قدم اٹھارہاہے ۔ مشن اپنی سرگرمیوں کا از سر نو آغاز کررہا ہے، جس میں خصوصی توجہ کمیونٹی پر مبنی اداروں کے لچیلے پن کو مضبوط کرنے پر ہے، تاکہ ہنگامی حالات کے سبب غذائی اور تغذیاتی تحفظ پر،جو ضرب پڑی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے۔
ایس ایچ جی اور ان کے فیڈریشنوں کی طاقت ان کے آؤٹ ریچ، نیٹ ورک اور سماجی سرمایے میں مضمر ہے۔ صلاحیت سازی، کمیونٹی پر مبنی ایس ایچ جی اداروں کو مضبوط بنانا اور غذائیت نیز غذائی عناصر کے تئیں حساس زرعی ماڈل پر کمیونٹی میں ری سورس پرسنس کی ٹریننگ، حکمت عملی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ ان ابتدائی سرمایہ کاریوں نے ان سرگرمیوں کو بڑھانے کےلیے کمیونٹی پر مبنی مطلوبہ ادارہ جاتی آرکیٹکچربھی فراہم کیا ہے۔ یہ بات تب ہے جب ریاستیں کووڈ-19 کے انفیکشن کے بڑھتے معاملات سے نبردآزما ہیں۔
اس ثبوت کی بنا پر کہ خواتین کی فیصلہ سازی اور اقتصادی آزادی کو بڑھاوا دینے سے کمیونٹی اور کنبے کی سطح پر کھانے پینے اور غذائی تنوع کے تعلق سےاپنی آمدنی میں سے مختص کی جانے والی رقم کی صورت حال بہتر بنتی ہے، مشن نے 2010-11 میں مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا (ایم کے ایس پی) کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تعلق سے ایم کے ایس پی کو آفاتی حیثیت دے دی گئی ہے اور زرعی روزگار کے فروغ کو سبھی ریاستوں کے دیہی روزگار مشن سے متعلق سالانہ کارروائی منصوبے میں شامل کیا جارہا ہے۔ اب تک 40.22 لاکھ کنبوں کو تغذیاتی باغیچوں کے قیام کے کام میں مدد دی گئی ہے۔ ریاستی مشنوں کو تعاون دینے کےلیے بہترین طور طریقوں پر مبنی کی ایک قومی ایڈوائزری بھی لائی گئی تھی۔ ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اگائی جانے والی سبزیوں کے غذائی مشمولات سے متعلق بیداری پیدا کرنے کا کا م بھی کیا جارہا ہے۔
چھتیس گڑھ دیہی روزگار مشن (سی جی-ایس آر ایل ایم) نے تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے روزگار سے متعلق اپنے اقدامات کے تحت ایک ریاست گیر حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔یہ پائیں گاہ کچن گارڈن یا تغذیاتی باغیچے مختلف قسم کی غذائیت بخش سبزیوں کی کاشت میں لگے ہوئے ہیں، تاکہ کنبوں کےلیے سالوں بھر غذائی تحفظ کویقینی بنایا جاسکے۔ اس کا مقصد حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں اور بچوں سمیت ایس ایچ جی کنبوں کو مسلسل تغذیاتی تعاون فراہم کرنا بھی ہے۔ان باغیچوں کو لگانے میں خرچ بھی کم آتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کنبے کے استعمال شدہ پانی کو استعمال میں لاکر کی جاسکتی ہے۔
ریاست کے، برتاؤ میں تبدیلی سے متعلق مواصلاتی حکمت عملی میں خصوصی توجہ ماؤں اور نوجوانوں کی صحت پر مرکوز کی گئی ہے، جس میں ایک ہزار دنوں کے اندر ژچگی کی عمر سے متعلق گروپوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں پوشن سکھیوں، جنہیں ‘ماگن مٹس’ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر سیکھی گئی چیزوں اور تجزیاتی تکنیک کا استعمال حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے برتاؤ میں تبدیلی کے لیے کر سکیں۔ یہ کام چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں نافذ کیے جارہے ایک تجرباتی پروگرام ‘سوابھیمان’ کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کو تکنیکی تعاون یونیسیف انڈیا کے ذریعے فراہم کرایا جارہا ہے۔ ان ہدف شدہ گروپوں کے درمیان بیداری پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ تغذیاتی خدمات کے مطالبات بھی پیش کرتی ہیں۔ اس کے لیے وہ اے این ایم، اے ایس ایچ اے اور آگن واڑی کارکنوں کے ساتھ تال میل سے کام کرتی ہیں، تاکہ ٹیک ہوم راشن جیسے استحقاق کو یقینی بنایا جاسکے اور اس ہدف شدہ گروپ کو آئی ایف اے ٹیبلیٹس فراہم ہوسکیں۔
پوشن سکھیاں کچن گارڈن اور پائیں گاہ پولٹری کے قیام کے لیے کرشی سکھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔یہ سرگرمیاں ان موجودہ سرگرمیوں کے علاوہ ہیں، جن میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے ، بچوں کو لازمی طور پر ماں کا دودھ پلانے اور بچوں کی غذائیت پر زور دیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں اس پروگرام سے جو کچھ سبق ملا ہے، انہیں ریاست کے 6 اضلاع تک وسعت دی گئی ہے اور اسے مزید پھیلایا جائے گا۔
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم نے پی آراے ڈی اے این جیسی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ اشتراک کیاہے ۔ تاکہ غذائی اعتبارسے حساس زرعی طورطریقوں اور روزگارکو مختلف اضلاع میں فروغ دیاجاسکے ۔ چھتیس گڑھ –اسٹیٹ مشن میں زرعی محکموں سے بھی فائدہ اٹھایاہے تاکہ تغذیاتی باغیچوں کے فروغ کے لئے پودے اوربیج دستیاب کرائے جاسکیں ۔ اسی طرح کی کوششیں سبھی ریاستی مشنوں میں جاری ہیں ۔
مشن اپنی غذا، صحت اور واش ( ڈبلیو اے ایس ایچ ) سے متعلق حکمت عملی کو جینڈرٹرانسفارمیٹوبنانے کے تئیں بھی پابندعہد ہے تاکہ خواتین کو اتنابااختیاربنادیاجائے کہ وہ صنفی مسائل کا تدارک کرسکیں جس کا اثران خدمات تک رسائی پرپڑتاہے ۔ خواتین کی قیادت میں روزگاراور صنعتوں کو مضبوط کرکے خواتین کی صحت سے متعلق معاملے کو آگے بڑھایاجاناچاہیے۔خواتین کی صحت کو بہتربنانے اورڈی اے وائی ۔این آرایل ایم اورپوشن ابھیان کے ذریعہ طے شدہ تغذیاتی اہداف کے حصول کی خاطرپائیدارتبدیلی کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں ۔
(مضمون نگار محترمہ نیتا کیجریوال، حکومت ہند کی دیہی ترقیات کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری ہیں)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
