تجزیہ
کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل
کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل
۲۵ ربیع الثانی ۲٤٤١ ھ
بمطابق 11 دسمبر 2020ء
مفتی نذیر احمد قاسمی حفظہ اللہ
رکن فقہ اکیڈمی
سوال :1
صورت ِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے زید کو بطورِ خانہ داماد گھر میں لایا ، اُس کی شادی اپنی بیٹی سے کرلی اور اُس کو حصۂ وراثت سے بھی نوازا اور زید کے بچے بھی ہوئے۔ چنانچہ زید اس علاقہ کا پشتینی باشندہ نہیں تھا ، جہاں وہ خانہ داماد لایا گیا ۔ اب پوری زندگی دوسرے علاقہ میں گذارنے کے بعد زید وفات پاگیا۔ حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زید کو اپنے سُسر کے قبرستان میں دفن کرنے کا شرعی جواز ہے یا نہیں؟ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کو یہاں قبرستان نہیں ملے گا بلکہ زید وہاں ہی دفن ہوگا جہاں کا وہ پشتینی باشندہ تھا اور نہ ہی زید کے بچوں کو نانا کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق ہے۔
براہِ کرم اس مسئلہ پر تفصیلاً روشنی ڈالیں تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کے لئے پوری وادی بالعموم شہر سرینگر میں ختم ہوجائے گا ۔
طارق احمد ملہ۔ نور باغ سرینگر
جواب :1
مقبرہ جب بستی کے تمام باشندگان کے لئے وقف ہو اور تمام باشندے اس میں اپنے مُردے دفن کرتے آئے ہیں تو اب اس بستی یا محلہ میں جو بھی آباد ہوجائے ، اُس کو اِس میں دفن ہونے کا حق ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اُسے اس حق سے محروم کرے۔ حقِ تدفین بلا تخصیص سب کا حق ہے ، لہٰذا وہ شخص جو خانہ داماد بن کر، اپنے گاؤں کو چھوڑ کر دوسری بستی میں یا اپنے محلے کو چھوڑ کر دوسرے محلے میں رہائش پذیر ہوگیا ، اُسے اس نئی جگہ کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ شرعی حق ہے۔ جیسے اس شخص کو مسجد میں آنے کا حق ہے ایسے ہی مقبرہ بھی وقف ِعام ہوتا ہے۔ ہاں! اگر کوئی مقبرہ کسی خاص قوم ، ذات یا طبقہ کے لئے پہلے سے مخصوص ہو تو اُس کا حکم الگ ہے۔
جو شخص خانہ داماد بن کر اپنے سُسرال میں رہائش پذیر ہوا، اگر بالفرض یہ مرد نہیں عورت ہوتی اور وہ خاتون جو اس کے نکاح میں آئی وہ مرد ہوتا ، مثلاً شفیق احمد اگر شفیقہ بیگم اور عارفہ بیگم اگر محمد عارف ہوتا ، تو پھر اس خاتون کو اپنے سُسرال کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق ہوتا ، اسی طرح اس داماد کو بھی اپنے سُسرال میں دفن ہونے کا پورا حق ہے۔۔۔۔، یعنی یہ خانہ داماد اگر بہو بن کر آئے تو حق ِ دفن حاصل ہے ۔ ایسے اس میں بھی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خانہ داماد کو اپنے پشتینی مقبرہ میں ہی دفن ہونے کا حق ہے کیا وہ یہ ہمت کرسکتے ہیں کہ ہر گھر میں آنے والی بہو کو بھی یہ کہیں کہ اس کو پشتینی مقبرہ میں دفن ہونے کا حق ہے اور ہم اپنے مقبرے میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ یاد رکھیں ! مقبرہ کے لئے پشتینی باشندہ یا نئے باشندہ ہونے کی کوئی تقسیم اسلام میں نہیں ہے۔ غور کیا جائے کہ : حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام خلفائے راشدین اور تمام مہاجر صحابہ، مدینہ منورہ کے پشتینی باشندے نہیں تھے، یہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے اور جب جس وقت یہ دنیا سے رخصت ہوئے ، اُس وقت سارا مکہ مسلمان تھا اور مکہ مکرمہ کا مقبرہ جس کا نام ’’المعلاۃ‘ ہے ، میں بہت سارے صحابہ اور حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ بھی مدفون تھیں۔۔۔
کیا اہلِ مدینہ حضرات مہاجر صحابہ کو کہہ سکتے تھے کہ آپ کا پشتینی مقبرہ مدینہ میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں ہے ، لہٰذا مدینہ میں دفن کرنے کا حق نہیں۔پھر اسی مدینہ کے مشہور مقبرہ ’ البقیع الغرقد ‘ میں آج تک اور آج بھی وہ تمام مسلمان دفن ہوتے ہیں جو مدینہ میں فوت ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر خانہ داماد کو بلکہ محلہ کے ہر باشندے کو اس محلے کے مقبرہ میں دفن ہونے کا برابر حق ہے ۔ محلہ کا قدیم باشندہ اور نیا باشندہ اس حق میں مساوی درجہ کا شریک ہے ۔ وقفِ عام مقبرہ کا یہ حکم دنیا بھر کے تمام مقبروں کے لئے ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اسی پر عمل رہا ، کوئی بھی وہ مسلمان جو دوسری جگہ فوت ہوتا ہے وہ اس جگہ کے مقبرہ میں غیر پشتینی ہونے کے باوجود دفن ہوتا ہے ، یہی اخوت اسلامی ہے۔
سوال : 2
بہت سارے لوگ اپنے بال قسم قسم کے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔ کئی ایک اپنی داڑھی کو کبھی سیاہ اور کبھی کبھی دوسرے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا خضاب کرنا جائز ہے اور اس میں کون کون سا رنگ لگانا جائز ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔
نور الحق کسانہ ۔ ڈوڈہ
خضاب کا استعمال۔ چند اہم مسائل
جواب :2
خضاب کرنے کے مختلف حالات میں مختلف احکام ہیں ، اُس کو مختلف صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
پہلی صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سفید ہی رکھنا بھی جائز اور ہر طرح درست ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سیاہ خضاب کے علاوہ ہر قسم کا خضاب لگانا درست ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو مکمل طور پر خالص سیاہ خضاب کیا جائے تو یہ سخت منع ہے۔ اس کے لئے حدیث میں جو وعید ہے وہ یہ ہے:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آْخری زمانہ میں ایسے لوگ ہونگے جو سیاہ خضاب کرتے ہونگے، جیسے کبوتر کے پپوٹے ہوتے ہیں۔ وہ جنت کی بُو بھی نہیں سونگھ پائیں گے ۔ یہ حدیث نسائی اور ابو داؤد میں ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے حکم یہ ہے کہ سیاہ خضاب منع کرنا ہے۔
یہ جو آخری صورت ہے ، اس میں وہ شخص کہ جس کا نکاح ہونے والا ہو اور سَر کے بال سفید ہوگئے ہوں اور وہ نکاح کرنے میں رکاوٹ پاتے ہوں ، اُن کو سیاہ رنگ کا خضاب کرنے کی وقتی اجازت ہے ۔ اگر کسی کے بال سیاہ ہوں اور وہ اپنے بالوں کو براؤن یا زعفرانی بنانے کے لئے اس طرح کا خضاب کرتے ہوں، بالکل جائز نہیں ۔اس لئے کہ یہ فطری رنگ کو تبدیل کرنے کا عمل جو جائز نہیں کیونکہ یہ عمل صرف فیشن کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ نماز اور سنتوں کی ادائیگی
سوال:-3
نماز جمعہ سے پہلے کتنی رکعت سنت ہیں ؟ اور نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعت سنت پڑھنی چاہئے۔ جواب حدیث سے نقل کرتے ہوئے باحوالہ درج فرمائیے ۔
عاشق احمد وانی… سرینگر
جواب:-3
جمعہ کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت موکدہ ہے ۔ اس سلسلے میں صحاح ستہ کی کتابوں میں سے ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت پڑھتے تھے ۔
اور ترمذی میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓجمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ۔
ظاہر ہے صحابی کوئی بھی عمل اگر انجام دیتا ہو تو وہ خود اپنی طرف سے وضع کردہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے حنفیہ نے جمعہ سے پہلے چار رکعت کو سنت قرار دیا ہے ۔ نماز جمعہ کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ اور دو رکعت سنت غیر مؤکدہ ہیں ۔ حدیث یہ ہے : حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو پھر اُس کے بعد چار رکعت ادا کرو اور ایک روایت میں ہے جب تم نمازِ جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعت پڑھو۔ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔ ابن ماجہ میں بھی ہے ۔
حضرت عبداللہ ؓ بن عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ وہ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر گھر آتے تھے تو دو رکعت پڑھتے تھے اور پھر فرماتے تھے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ یہ حدیث بھی مسلم میں ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہؓ میں ہے ابو عبد الرحمان ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود ہم کو حکم دیتے تھے کہ جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھا کریں ۔
پھر حضرت علیؓ کا ارشاد ہم نے یہ سنا کہ وہ چھ رکعت پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔ حضرت علی کا ارشاد سن کر ہم نے چھ رکعت پڑھنے کا معمول بنایا۔
ترمذی میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود جمعہ سے پہلے چار رکعت اور جمعہ کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور حضرت علی ؓسے منقول ہے کہ وہ یہ حکم دیتے تھے کہ نمازِ جمعہ کے بعد پہلے دورکعت پھر چار رکعت پڑھا کرو۔
مسلم ترمذی اور مصنف ابن ابی شیبہ کی ان احادیث کی بناء پر حضرت علامہ کشمیری نے فرمایا کہ ان احادیث کی بناء پر امام شافعی ؒ نے فرمایا نماز جمعہ کے بعد دو رکعت ، امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا چار رکعت ، اور قاضی ابو یوسف اور امام محمد نے فرمایا چھ رکعت سنتیں پڑھی جائیں۔
حنفیہ کی تمام کتابوں میں چھ رکعت کا قول لکھا گیا کیونکہ کثرت عبادت ہرحال میں مطلوب ہے اور حضرت علی ؓخلیفہ راشد ہیں وہ جب تاکید سے اس کا حکم فرماتے تھے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دے سکتے ۔ جو خود اُن کی خودساختہ ہو۔ یقیناً اُن کے سامنے عمل نبیؐ ہوگا۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)
بہرحال چار رکعت سنت مؤکدہ اور دو سنت غیر مؤکدہ میں ہیں۔ کفایت المفتی میں یہی خلاصتہً لکھا گیا ۔
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
