تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار بھاری برفباری کا تیسرا دن
جنوبی کشمیر زیادہ متاثر،سرینگر میں ریکارڈ برفباری
مسافر طیارے گراؤنڈ،شاہراہیں بند،نظامِ زندگی مفلوج،کئی ایڈ وائزریاں جاری،لوگوں سے تعاؤن طلب
خبراردو
سرینگر:پیر پنچال کے آر پار منگل کے روز مسلسل تیسرے روز بھی برف باری کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا جسکے نتیجے میں وادی کشمیر میں نظام ِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوا جبکہ زونی مر سرینگر میں ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا۔سرینگر کے بین الا قوامی ائر پورٹ پر مسلسل تیسرے روز بھی سبھی پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ سمیت بین الضلعی سڑک رابطے بھی بند ہیں۔
اس دوران سڑکوں اور شاہراہوں سے برف ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کے سبب اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے کئی ایڈ وائزریاں جاری کیں،جن کے تحت صارفین کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے میں کمی لانے کا اعلان کیا گیا جبکہ نجی گاڑیوں کی غیر ضروری نقل وحرکت پر روک اور لوگوں سے تعاؤن طلب کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کا مسلسل تیسرے روز بھی منگل کو بھاری برفباری کے سبب بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے۔سرینگر کے بین الاقوامی ائر پورٹ پرمسافر طیارے گراؤنڈ کردئے گئے۔ائرپورٹ حکام نے بتایا کہ مسلسل برفباری،خراب موسم اور حد نگاہ کم ہونے کے سبب منگلوار کو سرینگر سے پروازیں بھرنے والے مسافر طیاروں کے شیڈول کو پہلے معطل اور بعد ازاں منسوخ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہوائی سروس کو بحال کرنے کے لئے ”رن وے“ سے برف ہٹانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،تاہم موسم میں بہتری آنے کیساتھ ہی یہ سروس بحال کردی جائیگی۔ادھر پروازوں کی آوا جاہی منسوخ ہونے سے مسافروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سرینگر۔
جموں شاہراہ بھی منگل کو مسلسل تیسرے روز بند رہی۔حکام نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے آر پار 3فٹ برفباری ہوئی جسکی وجہ سے یہ شاہراہ ٹریفک کی آمد ورفت کے قابل نہیں رہی۔شاہراہ بند ہونے سے 4500مسافر ومال بردار گاڑیاں شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں۔
270کلو میٹر لمبی سرینگر۔جموں شاہراہ واحد زمینی رابطہ ہے، جو کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے۔شاہراہ مسلسل بند رہنے سے کشمیر میں غذائی اجناس اور دیگر اشیاء ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی کیوں کہ درماندہ گاڑیوں میں بیشتر ٹرکیں بھی شامل ہیں،جو کشمیر اشیاء ضروریہ لے کر آرہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کی وجہ سے اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں گر آنے کیساتھ ساتھ لینڈ سلائڈنگ ہوئی اور کئی مقامات پر پہاڑی سلسلہ بھی کھسک آیا ہے۔وادی کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کو پونچھ اور راجوری سے جوڑ نے والا تاریخٰ مغل روڑ بھی بھاری برفباری کے سبب بند ہے۔ادھر سرینگر۔لہیہ شاہراہ کو 31دسمبر کے روز آئندہ چار مہینوں کے لئے بند کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ریکارڈ برفباری ہوئی۔
شام چار بجے تک سرینگر میں ایک سے ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی تھی۔سرینگر میں منگلوار کو دن بھر وقفے وقفے سے برفباری ہوتی رہی۔دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک برفباری ایک گھنٹے کے لئے تھم گئی،تاہم منگلوار کو سرینگر میں دن بھر برفباری ہوئی جسکی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہوئے۔شہر میں بھاری برفباری کے سبب ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی متاثر ہوئی۔سرینگر میں یہ ریکارڈ توڑ برفباری ہوئی۔گزشتہ سرینگر میں ڈیڑھ فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔رواں برس یہ برفباری گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
شہر میں بیشتر بازار بشمول تجارتی مرکز لالچوک بند رہا۔منگلوار کے روز سرینگر میں مجموعی طور پر تجارتی وکاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔گاڑیوں کی آمد ورفت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے گاڑیاں ہچکولے کھانے پر مجبور ہورہی تھیں۔
اگرچہ دوپہر تک سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ دوڑتا نظر آیا،تاہم دوپہر کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا۔شہر سرینگر کی گلی کوں میں برف جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نشیبی علاقے آب آنے سے لوگوں کو عبور ومرور میں مسائل کا سامنا ہے۔سرینگر کے میئر جنید متو کا کہنا ہے کہ صبح7بجے سے ہی ایس ایم سی عملہ شہر میں برف ہٹانے کے حوالے سے مصروف عمل ہوجاتا ہے جبکہ پانی کی نکاسی کے لئے85ڈیواٹر پمپ نصب کئے گئے جن میں 35موبائل پمپ ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں منگلوار کی صبح تک29.8سینٹی میٹربرف جمع ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ48گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر میں کل ملاکر80سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جنوبی کشمیر میں واقع مشہور معروف سیاحتی مقام پہلگام،جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں اس عرصے کے دوران 18سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ کوکرناگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران26سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کشمیر کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران20سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ یہاں منگلوار کو مزید برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپواری میں سب سے کم برفباری ہوئی،یہاں صرف 2سینٹی میٹر برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندر بل میں سرینگر کی طرح ہی برفباری ہوئی۔ان دونوں اضلاع میں 24سے30سینٹی میٹر تازہ برفباری ہوئی جبکہ شام دیر گئے تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری تھا۔پلوامہ،شوپیان،کولگام اور اننت ناگ میں بھی درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان میں بھاری برفباری نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔
شوپیان قصبہ میں دوفٹ کے قریب برف گری ہے جبکہ کنڈی اور بالائی علاقوں جیسے کلر،کاٹھوالن، ہیرپورہ، رام نگری، ریشی نگر،شمشی پورہ، سدھو، شاداب،دیو پورہ اور چھانچھ مرگ نصر پورہ،دوناڑو پہلی پورہ اور سعد پورہ وغیرہ علاقوں میں 3 فٹ سے بھی زیادہ برف پڑی ہیے، جس سے کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لگ بھگ سبھی بالائی علاقے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے کٹ کر رہ گے ہیں۔جس کی وجہ سے اور تو اور شدید طرح کے مریضوں اور زچگی کے عمل سے دوچار خواتین تک کو ہسپتال تک پہچانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے۔
ضلع کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو روڈ کنیکٹوٹی اور بجلی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔وادی بھر میں برفباری سے بین الاضلعی رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ شمال وجنوب میں درجنوں دیہات ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔حکام نے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگایا ہے۔
اس دوران صوبائی انتظامیہ نے کئی طرح کی ایڈوائزریاں بھی جاری کیں۔جن کے تحت عوام سے تعاؤن طلب کیا گیا۔ایک ایڈوائزی کے تحت پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کو 3لیٹر تک ہی پیٹرولیم مصنوعات دیں۔حکمنامے کے مطابق ٹو ویلر کے لئے 3لیٹر،تھری ویلر کے لئے5لیٹر،فور ویلر (پرائیویٹ) کے لئے 10لیٹر اور کمرشل گاڑیوں کے لئے20لیٹر تیل دینے کی ہدایت دی گئی۔ دریں اثناء سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.8ڈگری سیلشیس درج کیا گیا جبکہ پہلگام میں یہ درجہ حرارت منفی1.1ڈگری سیلشیس،گلمرگ میں منفی4.0ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں منفی0.2ڈگری سیلشیس،کپوارہ میں منفی 0.7ڈگری سیلشیس اور کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت منفی0.7ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
وادی کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردیوں کے ایام چل رہے ہیں،جنہیں عرف عام میں ”چلہ کلان“ کہا جاتا ہے۔چلہ کلان کی مدت40روز پر محیط ہوتی ہے اور یہ مدت31جنوری کو اختتام پذیر ہوجائیگی۔چلہ کلان کی مدت گزشتہ برس21دسمبر کو شروع ہوئی۔اس عرصے کے دوران وادی کشمیر میں برفباری ہونا فطری عمل ہے۔البتہ اس کے چلہ خرد کے20دن اور چلہ بچہ کے10دن بھی شدید سردیوں کے ایام ہوتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران بھی وادی کشمیر میں برفباری ہوتی رہتی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ سے موسمی صورت ِ حال میں تبدیلی آسکتی ہے اور برفباری کا جاری سلسلہ بھی تھمنے کا قوی امکان ہے۔(کے این ایس)
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
