تازہ ترین
دسویں کے کامیاب طلبہ اور تعلیم
الطاف جمیل ندوی
کل یعنی ۲۶ فروری کو صبح ہی صبح یہ نوید مسرت سنائی دی کہ ہماری وادی کے دسویں جماعت کے طلبہ و طالبات کی کامیابی و ناکامی کا اعلان ہوچکا ہے تو اس لحاظ سے سوشل میڈیا پر مبارکبادیاں پیش کی گئی ہر جگہ یا تو مبارکباد لکھی گی یا انگریزی زبان میں congratulations یا best wishes جیسے الفاظ کا تبادلہ ہوتا رہا کسی نے اپنے بچوں کی کامیابی پر اظہار مسرت کیا تو کسی نے اپنے کسی عزیز کی کامیابی پر خوشی کا اظہار اچھی بات ہے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی چھوٹی یا بڑی کامیابی پر ان سے اظہار محبت کرنا ان معصوم بچوں کو حوصلہ دینے کے لئے اہم ہے ان کی کامیابی پر انہیں تہنیت دینا ایک طرح سے انہیں تحریک دینا ہے مزید کامیابی سمیٹنے کے لئےاکثر یہ سب ہوتا رہا ہے کہ جب بھی خاص کر دسویں یا بارہویں جماعت کے نتائج ظاہر کئے جاتے ہیں تو بچوں میں امید اور خوف کی کیفیت یکساں ہوتی ہے تب تک جب تک انہیں آئے نتائج معلوم نہیں ہوتے اپنے بارے میں اب جوں ہی انہیں معلوم ہوجاتا ہے یا تو کھلکھلا جاتے ہیں چہرے ان کے اپنی کامیابی کی نوید سن کر یا مرجھا جاتے ہیں ان کی پیاری اور حسین صورتیں پر امسال آئے نتائج اس لحاظ سے کچھ زیادہ اہم نہیں ہیں اہل تفھیم کی نظر میں کیونکہ پورے سال کبھی طلبہ نے ایک لفظ بھی اساتذہ سے نہیں پڑھا
پورے سال طلبہ نے تعلیم سے آشنائی تو کیا ملاقات تک بھی نہیں کی اور آخر پر انہیں کامیابی اور ناکامی کی نوید سنائی گئی جب کہ سوائے پرچہ دینے کے طلبہ نے کبھی اسکول کالج کو مسلسل ایک سال تک دیکھا بھی نہیں خیر یہ ایک ایسا نقصان ہے کہ جس کی بھرپائی کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ ایک سال بیکار ہوجانا یا تعلیمی کوششوں سے دور ہوجانا نقصان ہے پر جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس پر آنسو بہانے سے کیا ہوگا اصل میں ہماری تعلیمی پالیسی ہی کچھ ایسی ہے کہ جہاں یہ ممکنات میں سے ہے کہ تعلیم کا کچو مر ہی کیوں نہ نکل جائے تو بھی ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ ایسا ہوا ہے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ایران چین وغیرہ جیسے ممالک میں تعلیمی اداروں نے کوشش کی کہ بچوں کو دوران لاک ڈاؤن تعلیم سے محروم نہ ہونے دیا جائے اس کے لئے انہوں نے جہاں مختلف کام کئے وہیں انہوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھا اس کے لئے کسی خاص کلاس کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ پہلی کلاس سے آخری کلاس تک کے بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش مسلسل کی گئی ہم اپنی وادی کی بات کریں تو ہم اس سلسلے میں انتہائی بدنصیب لوگ ہیں کہ اس تیز رفتار اور ترقی پذیر دور میں بھی ہمیں انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لئے لیپ ٹاپ موبائل میں سگنل آنے کے لئے اس قدر انتظار کرنا پڑتا ہے کہ بال سیاہ سے سفید تو ہوجاتے ہیں پر انٹرنیٹ سگنل کو نہیں آنا ہوتا ہے وہ آتا نہیں ہے نتیجہ پہلے ہمارے لمحے پھر دن پھر مہینے اسی انتظار میں بیت جاتے ہیں کہ کب سگنل آجائے اور میں پڑھنا شروع کر دوں پر اسے نہیں آنا تھا نہیں آیا اور بچے دیکھتے ہی رہ گئے
ہمارے ہاں بھی تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے زوم یا ویڈیوز کے ذریعے پڑھانے کی کوشش کی پر نیٹ کا سگنل نہ ہونے کے سبب یہ تعلیم سے زیادہ وقت کا زیاں ثابت ہوا کئی ایسے بچوں کو بھی دیکھا کہ جو آنسو بہا رہے تھے کہ اب کیا ہوگا ہماری پڑھائی کا بہرحال تعلیم کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہمارے بچے کامیاب ہوگئے یہ ایک معجزہ یا کرامت ہی ہوسکتی ہے اب ایسا کیا کیا جائے کہ تعلیم کی یہ کمی پوری ہوسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو اس بات کے لئے آمادہ کرلیں کہ تعلیم کی اپنی اہمیت ہے اور ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم علم کے زیور سے آراستہ ہوجائین ایسا نہیں کہ صرف ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ لگا کر ہم صاحب استعداد ہیں یہ سوچ و فکر انتہائی درجہ کی پستی کی علامت ہے کہ ڈگری حاصل کرکے کوئی کبھی کمال کرسکے ایسا نہیں ہوا ہے جو لوگ بھی علمی دنیا خواہ وہ دنیاوی علوم ہوں یا مذہبی علوم دونوں کے لئے ایک چیز لازم ہے کہ مسلسل اس تاک میں رہا جائے کہ علم سے مزید آشنائی کے ذرائع میسر ہوں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے مطالعہ کتب علم کی دنیا کا سب سے کارآمد وسیلہ ہے مطالعہ سے ہی آدمی کسی بھی بات کو سمجھ سکتا ہے جیسے کہ گر آپ پی ایچ ڈی کسی بھی شعبہ یا شخصیت پر کر رہے ہیں اس کے لئے لازم ہے کہ آپ اس شعبے یا شخصیت کا خاکہ بنانے کے لئے اس بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہوں اور معلومات سوائے مطالعہ کتب کے میسر ہونا ناممکن ہے آپ چاہیں کتاب نیٹ پر پڑھیں یا کتاب اصلی صورت میں پڑھیں دونوں صورتوں میں کتاب تو پڑھنی ہی پڑھنی ہے اس کے سوا کوئی صورت ہے ہی نہیں معلومات کی جو تعلیمی نقصان امسال کرؤنا وائرس کے چلتے ہوا ہے اس کا ازالہ کرنے کے لئے آپ سب پیارے بچوں کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے
تعلیم سے ہی ہے وجود اقوام عالم
تعلیم زندہ اقوام کی زندگی کے لئے ایسی ہی حیثیت رکھتی ہے جیسے کہ انسانی جسم کے لئے اس کا سانس لینا لازم ہے اس کی نگاہ کے لئے روشنی ایسے ہی تعلیم بھی لازم ہے میں اپنے ان پیارے اور ذہین و فطین بچوں سے مخاطب ہوں جو وادی کشمیر یا بیرون وادی کے مکین ہیں پہلی بات جو آپ کو سمجھنا لازمی ہے آپ کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب کو لے لیجیے تعلیم کے لئے ہر مذہب ترغیب ہی دیتا ہے اسی طرح ہمارے دین اسلام میں تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت بھی اور فضائل بھی بیان کئے گئے ہیں آپ قرآن کریم احادیث سیرت طیبہ یا فقہ میں سے کوئی سی بھی کتاب اٹھائیں ہر جگہ تعلیم کے سلسلے میں ترغیب کے احکام و فضائل واضح بھی اور اشارے کنایہ میں بھی مل جائیں گئیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہو تعلیم کے سوا اہل ایمان کو چارہ ہی نہیں تعلیم کے سلسلہ میں ہمارے اسلاف نے کس قدر آلام و مصائب برداش کئے یہ معلومات ہم آسانی سے ان کی کتابوں سے حاصل کرسکتے ہیں یہ فرائض سے بھی ہے اور سنن واجبات آپ جہاں چاہیں اس کے احکام مل جائیں گئے آسان لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں بنا تعلیم کے ہمارا ایمان مکمل ہونا محال اور دشوار ہے جہالت اور لاعلمی اسلام میں ایک نا پسندیدہ کام ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنا اہم ہے
والدین کی خوشی
آپ کے والدین اپنا وجود کھو دیتے ہیں رات دن محنت و مشقت بھوک پیاس برداشت کر لیتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے بچے کامیاب ہوکر ہمارے مصائب کا مداوا کریں گئے کیا آپ نے کبھی یہ تصور کیا ہے کہ آپ کے والد جو صبح سویرے ہی گھر سے نکل جاتا ہے اور دن پر بھر کام میں مصروف رہ کر تھکاوٹ سے چور ہوکر شام کو گھر پہنچ جاتا ہے وہ آپ کو خوشیاں میسر رکھنے کے لئے اپنا آرام اپنا درد اپنی کمزوری اپنی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتا ہے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ گر آپ اس کی امیدوں کو پورا نہیں کرتے یا اس کے لئے کوشش بھی نہیں کرتے تو یقین کریں آپ کا والد ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے پر آپ کو احساس تک نہیں ہونے دیتا پر یہاں والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ فضول قسم کے مشورے دے کر بچے کو پریشان نہ کریں اپنی تمنائیں سوچ کر ان کی تکمیل کے لئے اپنے بچوں کو مختلف کورسسز کرنے کے لئے دباؤ نہ ڈالیں اس صورت میں بچہ پڑھنے کے بجائے الٹا پریشان ہوکر اپنی پسند سے بھی دور ہوجاتا ہے نتیجہ نہ ہی ادھر رہتا ہے نہ ادھر مثال کے طور پر بچے کی خواہش ہے اور اسکی پسند بھی کہ یہ انجینئر بن جائے اس کے لئے بچہ ہر طرح کی کوشش از خود کر رہا ہے پر اچانک والدین کہہ دیں کہ نہیں بیٹا آپ کو ڈاکٹر کسی صورت بھی بننا ہے تو یقین کریں بچہ کچھ بھی نہیں بنے گا الٹا یہ تعلیم سے بیزار ہوجائے گا بہتر ہے جن مضامین میں اس کی کارکردگی اچھی ہے اسے حق دیں ان کا ہی انتخاب کرنے کا
پیارے بچو
یہ جو ٘اپ اقوام عالم میں سے کچھ ممالک کو کامیاب یا کامیاب ممالک کہتے ہیں یا دیکھتے ہیں اس کے پیچھے بھی ان نوجوانوں کی محنت اور ہمت ہی پوشیدہ ہے جو تعلیم سے آراستہ ہیں ورنہ جاہل و مجہولوں کی افواج کتنی بھی زیادہ ہوں وہ کسی ملک اور قوم کی کامیابی اور فلاح کے ضامن ہو ہی نہیں سکتے آپ بڑے سے بڑے یا چھوٹے سائنس دانوں کو دیکھیں یا ڈاکٹر انجینئر دیکھیں ہر جگہ کامیابی کا واحد ذریعہ ہے تعلیم تو کیوں ہم اس جانب توجہ نہ دیں اور اپنی ملت و قوم کو ملک کا نام روشن کرنے کے لئے خود کو کیوں نہ زیور تعلیم مزین کریں اس میں صرف ہم دوسروں کے لئے ہی نہیں بلکہ خود اپنے لئے بھی کامیابیاں اور عزت نفس کے حصول کی راہ پاتے ہیں
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
