تازہ ترین
عرب دنیا میں بااثر خواتین
بااثر خواتین ’آواتارز‘ کی طرح بالکل بے روک ٹوک اور بڑی آسانی سے ہائبرڈ کائنات میں نقل وحرکت کرتی ہیں جبکہ ہماری طرح کے باقی لوگ اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ان متاثر کنندگان اور بالخصوص خواتین نے پہلے تو اپنی نج کی زندگیوں میں تغیّر وتبدل کا فن سیکھا۔ان کی آراء، طرز زندگی اور روزمرہ کے معمولات کو ایک قدری قیمت میں تبدیل کیا۔ اب یہ ہے کہ ان کے پُروقار انداز میں عوامی منظرنامے پر نمودار ہونے کی نقالی کی جاتی ہے۔ ہاں، البتہ ان کے پیروکار تو ان کے دلدادہ ہوتے ہیں لیکن ناقدین صرف تنقید کرتے ہیں۔ اثر ورسوخ کی حامل خواتین نے کامیابی سے آن لائن دنیا میں دوسری خواتین کے لیے بھی جگہ پیدا کرلی ہے۔اس ضمن میں ان کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہیے اور انھیں تحفظ مہیّا کیا جانا چاہیے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اسکول اور جامعات بند ہو چکی ہیں۔افرادی قوت نے تھوک کے حساب سے اپنے کام کا طریق کار تبدیل کر لیا ہے اور اب وہی افرادی قوت آن لائن ہمہ نوع کام کر رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکاری میدان کے متوازی ایک نجی میدان عمل ظہور پذیر ہو چکا ہے۔ ماضی میں ان دونوں میں ہمیشہ ہم آہنگی نہیں ہوتی تھی اور اب بھی شاید نہ ہو لیکن آج ہم سب ہی اس نئی حقیقت اور تبدیل شدہ منظر نامے کو روادارانہ انداز میں قبول کر رہے ہیں۔
ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ وہ گھروں میں ہماری موجودگی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کامیابی سے کوئی حل ڈھونڈ نکالے اور دنیا کو اس نئے ’’گھریلو مدار‘‘ میں لا ڈھیر کرے۔ ہم میں سے سب لوگ بااثر خواتین کی طرح کے ماہر نہیں ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات بچے انٹرویوز، آن لائن کلاسوں یا کانفرنس کالز میں اچانک دخیل ہو جاتے ہیں اور وہ سب کچھ تہ وبالا کر دیتے ہیں۔
چند ہفتے قبل کی بات ہے۔میں اپنی ایک آن لائن کلاس کے دوران میں ’’والدین اور ان کے بچّوں کے درمیان حدِ فاصل کھینچنے‘‘ کی وضاحت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور یہ بتا رہی تھی کہ یہ سرحدیں بچوں کی تعلیم، ان کے احترام، انفرادیت کی تشکیل اور آزادی کے لیے کیوں ضروری ہیں؟ اس دوران میں میرا پانچ سالہ بیٹا آن ٹپکا اور بولا:’’ممی مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سنتے ہی پوری جماعت قہقہے لگانے لگی جبکہ میں اس کو دوپہر کے کھانے کا انتظار کرنے، اشاروں سے خاموش رہنے اور اپنی آواز کو نیچا رکھنے کی تلقین کرتے ہی رہ گئی۔
میرے ساتھ پیش آنے والے اس ناخوشگوار واقعہ کے برعکس بااثر خواتین شعوری طور پر اپنی نج کی زندگیوں کے واقعات شیئر کرتی ہیں۔کسی خاتون کی نجی زندگی کو پبلک کرنے کی قیمت ہمیشہ بھاری ہی ہوتی ہے کیونکہ خواتین کو مردوں کی بہ نسبت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آن لائن ان کے بارے میں نازیبا مواد پوسٹ کیا جاتاہے یا انھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ بعض خواتین کو آن لائن موجودگی کی بھاری قیمت کیوں چکانا پڑتی ہے؟ حتیٰ کی ان کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔
ہمیں اس سوال کاجواب دیتے وقت پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آن لائن موجودگی یا حاضری کا حقیقی مطلب کیا ہے اور کون سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے صارفین کو یہ موقع مہیّا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے کا موقع فراہم کرتا ہے لیکن بالمشافہ یا جسمانی طور پر نہیں۔ یہ دراصل تبادلے کی معیشت ہے، نظریات کا میدان جنگ ہے اور بعض لوگوں کو غیر مرئی انداز میں محبت کی تلاش کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بڑے مؤثر انداز میں ’’ورچوئل شہری ریاستیں‘‘ تخلیق کی ہیں۔یونانی فلسفی ارسطو کی جوہری تقسیم کے مطابق مرد عوامی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ خواتین نج کی سلطنت سے تعلق رکھتی ہیں۔اس نظریے کے عین مطابق قدیم یونان میں عورتوں کو شہری شمار نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ عوامی منظرنامے میں ان کی موجودگی عارضی نوعیت کی ہوتی تھی۔ارسطو کی اس شہری تقسیم کے بعض مسلمان بھی قائل اور مبلغ ہیں۔وہ اس عقیدے کی یونانی اساس سے لاعلم ہیں اوراس کو غلط طور پر اسلام پر مبنی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب ظہور اسلام کے بعد ابتدائی مسلم معاشروں میں ہمیں عوامی منظر نامے میں خواتین کی موجودگی ایک فطری انداز میں نظر آتی ہے اور اس میں کوئی اختلافی رائے نہیں ہے۔ پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجۂ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک متموّل تاجر تھیں اور وہ مردوں کے ساتھ تجارت کیا کرتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مردوں کے لشکر کی جنگ میں قیادت کی تھی۔امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو تو گھروں سے باہر آنے میں کوئی خوف وخطرہ لاحق نہیں ہوتا تھا۔اسی لیے مسلم خواتین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ان کی تقلید کریں اور انھیں رول ماڈل کے طور پر قبول کریں۔
آج کی دنیا میں بعض مسلم مردوں کے نزدیک کسی ایک خاتون کا سوشل میڈیا پر نامحرم ’’غیر ملکی‘‘ مردوں سے ہم کلام ہونا گناہ ہے۔ان کے نزدیک ایک عورت اگر اپنی ویڈیوز پوسٹ کرتی ہے تو وہ غلطی کی مرتکب ہوتی ہے۔اس لیے جو خاتون اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے اور اس کو آن لائن پوسٹ کرتی ہے تو اس کو خاموش کرادیا جانا چاہیے۔
عوامی منظرنامے میں صنف نازک کی عدم موجودگی کو صرف مرد ہی ختم کراسکتے ہیں۔ایک حکمت عملی کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کو کسی ایسے علاقے یاجگہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے جہاں انھیں جسمانی طور پر نقصان پہنچنے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔اس سب کے باوجود آن لائن نسوانیت کا خاتمہ اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔اسمارٹ فونز کی عام دستیابی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قابل رسائی بنا دیا ہے۔خواتین اب اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہی ہیں،وہ آن لائن عوامی منظرنامے میں ایسی جگہیں بنا رہی ہیں جہاں صنف نازک کی اپنی بالا دستی ہو۔
چناں چہ حکومتوں کو مسلسل ایسی قانون سازی کرنی چاہیے اور ایسے قوانین متعارف کرانے چاہییں جن کے تحت جنسی تشدد کی کسی بھی شکل کے مرتکبین کے خلاف فوجداری مقدمات چلائے جاسکیں۔
مثال کے طور پر مصر میں قومی کونسل برائے خواتین نے فیس بُک اور انسٹا گرام کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔اس کے تحت ’خواتین تحفظ اقدام‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد خواتین کے خلاف سائبر ہراسیت کا استیصال ہے۔ قانونی انسدادی تدابیر کے ساتھ سول سوسائٹی کو بھی خواتین کے خلاف ہر قسم تشدد کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔اس طریقے ہی سے خواتین کو آن لائن اور آف لائن بااختیار بنایا جا سکتا ہے اور ان کے لیے ایک پائیدار اور محفوظ ماحول کی تشکیل میں مدد مل سکتی ہے۔
آئیں! خواتین نے جن ورچوئل جگہوں کو اپنے لیے تخلیق کیا ہے، انھیں تسلیم کریں اور مرد وخواتین، سب کے لیے ایک بہتر دنیا بنائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہباء یوسری قاہرہ میں نفسیات اور فلسفہ پڑھاتی ہیں۔انھوں نے امریکن یونیورسٹی قاہرہ سے عربی ادب اور فلسفہ میں پوسٹ گریجوایٹ ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ تدریس کے ساتھ تحقیقی کام بھی کرتی ہیں اور جدیدیت، صنفی تفریق، مابعد الطبیعات اور زبان ان کی تحقیق کے خاص موضوعات ہیں۔ ان کا ٹویٹر ہینڈلر HebaYosry17@ ہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
