اہم خبریں
‘ایرانی ماڈل’ یا کوئی اور طریقہ، پاکستان افغان مہاجرین کی ممکنہ لہر سے کیسے نمٹے گا؟
افغانستان میں جہاں ایک جانب امریکی افواج صدر جو بائیڈن کی انخلا کی پالیسی کے تحت تیزی سے وطن واپس لوٹ رہی ہیں وہیں افغان طالبان ملک کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ افغانستان کی اس صورتِ حال پر پاکستان مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کرتا آ رہا ہے۔
پاکستان پہلے ہی ملک میں آباد لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی معیشت پر بوجھ اور مکمل امن کے قیام میں ایک رکاوٹ قرار دیتا ہے اور ان کو بار بار جلد واپس جانے کی ہدایت کرتا رہتا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم نے ابھی تک 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی ہوئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں کیوں کہ ہم ایک اور ‘انفلکس’ یعنی مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد نہیں چاہتے۔
پاکستان کے شہر کراچی میں کیمپ ‘جدید’ کے نام سے قائم افغان بستی میں افغان مہاجرین کے رہنما سیداللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
ان کے بقول، ’’کراچی میں آباد افغان مہاجرین افغانستان کے مختلف حصوں میں اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں سے رابطے میں ہیں اور یوں لگتا ہے کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں وہ پاکستان ہجرت کر سکتے ہیں۔
پاکستانی حکومت کیا منصوبے بنا رہی ہے؟
افغان مہاجرین کے ممکنہ ریلے کے پیشِ نظر لائحہ عمل طے کرنے کے حوالے سے اب تک متعدد اجلاس ہو چکے ہیں جس میں مہاجرین کے مسئلے کو احسن طریقے سے ڈیل کرنے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کے علاوہ بین الوزارت اور سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے اجلاسوں میں اس معاملے پر تفصیلاً غور و فکر کیا گیا۔
پاکستان میں وفاقی سطح پر افغان مہاجرین کی دیکھ بھال سے متعلق اُمور کی نگران وزارت برائے ریاستی اور سرحدی امور (سیفران) کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ “حکومتِ پاکستان سمجھتی ہے کہ ملک میں پانچ سے سات لاکھ نئے افغان مہاجرین داخل ہو سکتے ہیں جب کہ مہاجرین پر کام کرنے والے عالمی اداروں کے مطابق یہ تعداد دو سے تین لاکھ ہو سکتی ہے۔”
اہل کار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ پاک افغان سرحد پر افغان مہاجرین کے داخلے کے لیے صرف تین باضابطہ سرحدی راستے (یا بارڈر کراسنگ پوائنٹس) کھولے جائیں گے جس میں خیبرپختونخوا میں طورخم (خیبر)، غلام خان (شمالی وزیرستان) اور ارندو (چترال) شامل ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
پاکستان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایرانی ماڈل کی طرح مہاجرین کو سرحد میں قائم کیمپوں میں رکھا جائے۔
پاکستان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایرانی ماڈل کی طرح مہاجرین کو سرحد میں قائم کیمپوں میں رکھا جائے۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تقریباً 2500 کلو میٹر طویل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ سرحد کا تقریباً 1229 کلو میٹر پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا جب کہ بقیہ حصہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ لگتا ہے۔
کابل میں قائم ‘افغانستان انالسٹس نیٹ ورک’ نامی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد افغانستان کے ایک تہائی صوبوں سے منسلک ہے جب کہ سرحد پر 235 ایسے مقامات ہیں جہاں سے عوام، اسمگلرز اور شدت پسند غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے رہے ہیں۔
ایرانی ماڈل
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے بھی گزشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں پاکستان میں نئے آنے والے افغان مہاجرین کی آباد کاری کے لیے ’ایرانی ماڈل‘ اپنانے کا عندیہ دیا تھا۔
سیفران اہلکار کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی حکومت بڑی سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے حوالے سے ایرانی حکومت کی جانب سے اپنائے گئے ماڈل کو اپنائے جس کے تحت مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر پاکستانی حدود میں کیمپ بنا کر رکھا جائے اور ان کے پاکستانی شہروں اور قصبوں میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔”
خیال رہے کہ ہیومن رائٹس واچ سمیت متعدد عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ایرانی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ غیر انسانی سلوک اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔
مئی 2020 میں ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اپنے سرحدی علاقے میں مبینہ طور پر افغان مہاجرین کو ہلاک کیے جانے کے الزامات کے بعد تہران کی حکومت شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی۔
افغانستان کی حدود ہی میں مہاجرین کیمپس
سیفران اہلکار کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ افغانستان کی حدود میں ہی پاک افغان سرحد پر مہاجرین کی آباد کاری کے لیے کیمپ تعمیر کیے جائیں جن کی امداد پاکستانی حکومت کرے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے گزشتہ ہفتے وائس اف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اگر افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو پاکستان مہاجرین کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا بندوست بین الاقوامی قوتوں اور اقوامِ متحدہ کو افغانستان کے اندر ہی کرنا ہو گا۔”
ٹی ٹی پی کا خطرہ
پاکستانی حکومت کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغان مہاجرین کے بھیس میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد بھی پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے 10 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مہاجرین کی آڑ میں یا بھیس بدل کر پاکستان آ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے باڑ لگا کر بارڈر کراسنگ پر مؤثر نگرانی شروع کر دی ہے اور ساتھ ہی ساتھ افغان شہریوں کے لیے آن لائن ویزا کا اجرا بھی شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکام اور سیکیورٹی کے ماہرین افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار حملوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستان نے جون 2014 میں مختلف مقامی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی تھی جس کو آپریشن ‘ضربِ عضب’ کا نام دیا گیا تھا۔
اس آپریشن کے سبب شمالی وزیرستان سے ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے رہنما اپنے خاندانوں سمیت افغانستان کے سرحدی صوبوں میں منتقل ہو گئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ مہینوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اپنے ناراض دھڑوں، لشکرِ جھنگوی اور القاعدہ سے وابستہ چند گروہوں کی شمولیت کے بعد مزید منظم ہوئی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے سابق قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین پر حملوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔
پاکستانی سیاسی جماعتوں کی مخالفت
پاکستان کے چھوٹے صوبوں خصوصاً سندھ اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر ہی کیمپوں میں رکھا جائے اورشہروں تک نہ آنے دیا جائے۔
سندھ کے وزیر آب پاشی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما محمد اسماعیل راہو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان میں خانہ جنگی جیسی صورت حال کے سبب مزید افغان مہاجرین کی نقل مکانی روکنے کے لیے وفاقی حکومت فوری طور پر سرحد کو سیل کرے اور اگر نقل مکانی ناگزیر ہو تو انہیں افغانستان سے ملحقہ علاقوں تک محدود رکھا جائے۔
ان کے بقول،’’وفاقی حکومت افغان مہاجرین کے لیے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں مہاجرین کیمپس قائم کریں اور انہیں سندھ کی جانب نہ بھیجے کیوں کہ سندھ مزید کسی بڑی ہجرت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ضیا الحق کے دور میں لائے ہوئے افغان مہاجرین ابھی تک واپس نہیں گئے۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ( یواین ایچ سی ار) کے ترجمان قیصر آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو تین کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے۔
قیصر آفریدی کے مطابق پہلی کیٹگری میں وہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین شامل ہے ہیں جن کی تعداد صرف 14 لاکھ ہے۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے باقاعدہ نادرا کے رجسٹریشن کارڈز جاری کیے گئے ہیں جسے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز کہتے ہیں۔
ان کے بقول، ’’دوسری کیٹگری کو پاکستان کے ادارے نادرا نے افغان سٹیزن کارڈ جاری کیے ہیں اور ان کی تعداد آٹھ لاکھ 80 ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کی رجسٹریشن 2017 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ تیسری کیٹگری میں ایسے مہاجرین ہیں جن کے پاس ‘افغان سٹیزن کارڈ‘ اور ‘پروف آف رجسٹریشن‘ موجود نہیں ہیں۔ قیصر آفریدی نے سیفران کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے افراد کی تعداد چار سے پانچ لاکھ بتائی ہے۔
قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ یو این ایچ سی آر صرف پی او آر کارڈ ہولڈرز ہی کو افغان مہاجرین تسلیم کرتی ہے اور ان ہی کی کفالت پر مامور ہے۔
ان مہاجرین نے سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت یا بعد میں پسپائی کے بعد صورتِ حال کی وجہ سے نقل مکانی کی تھی اور افغان مہاجرین کی پاکستان کی موجودہ آبادی میں اکثریت وہ ہے جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف لینے کے ایک ماہ بعد کراچی میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ اُن کی حکومت ایسے افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دے گی جو یہیں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ مگر سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کی مخالفت کے سبب وفاقی حکومت اس منصوبے پرکام نہیں کرسکی۔
تاہم وزیراعظم نے 2019 میں افغان مہاجرین کی سہولت کے لیے انہیں بینک میں کھاتے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
