تازہ ترین
5اگست2019کے فیصلوں کی منسوخی کیلئے آخری دم تک لڑیں گے:عمر عبداللہ
سرینگر:5اگست2019کے فیصلوں کی منسوخی کیلئے آخری دم تک لڑنے کا عزم دہراتے ہوئے جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ”نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی اور ہم آخری سانس تک لڑتے رہیں گے، یہ انصاف اور سچائی کی لڑائی ہے اور سچائی کی لڑائی میں پیچھے نہیں ہٹا جاتا اور ہم پیچھے ہٹنے والے لوگو ں میں سے نہیں۔“
سی این آئی کے مطابق عمر عبداللہ خطہ چناب کے دورے کے دوران ضلع رام بن کے گول میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ اُن کے ہمراہ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، سیاسی صلح کار تنویر صادق، سینئر لیڈران عبدالغنیملک، اعجاز جان، سجاد شاہین اور ڈاکٹر شمشاد شاہ کے علاوہ ڈی ڈی ممبران اور مقامی عہدیداران بھی موجود تھے۔ عمر عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”جب ہم 5اگست2019کی بات کرتے ہیں تو ہم اپنے گھر کی بات نہیں کرتے، ہم اُن حقوق کی بحالی کی بات کرتے ہیں جو تینوں خطوں کے عوام سے چھینے گئے، ہم نوجوانوں کی نوکریوں کی بات کرتے ہیں، ہم غربت کو کم کرنے کی بات کرتے ہیں، ہم تعمیر و ترقی کی بحالی کی بات کرتے ہیں، ہم اُس سب چیزوں کی بحالی کی بات کرتے ہیں جو 5اگست2019کے بعد ہم سے چھینے گئے ہیں۔“
عمر عبداللہ نے کہا کہ ”آج ہم یہ پوچھنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں جموں وکشمیر کے نوجوانوں اور لداخ کے بچوں کے مستقبل میں فرق کیوں کیا جارہاہے؟کیا ہم ایک ہی ریاست کے باشندے نہیں ہیں؟ کیا 5اگست2019سے پہلے ہم ایک ہی ریاست نہیں تھے پھر آج جموں وکشمیر اور لداخ کے بچوں میں کیوں فرق کیا جارہا ہے؟ لداخ میں بچوں کیلئے نوکریاں کیلئے ریزرویشن اور لداخ میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون برقرار رکھا گیا ہے۔ وہاں باہر کا شہری نہ زمین خرید سکتا ہے، نہ نوکری حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی سکالرشپ لیکن جموں وکشمیر میں باہر کے لوگ نوکریاں بھی حاصل کرسکتے ہیں، زمین بھی حاصل کرسکتے ہیں؟ سکالرشپ بھی حاصل کرسکتے ہیں اور ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ جب ہم 5اگست کے فیصلوں کیخلاف آواز بلند کرتے ہیں تو ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ایک ملک میں ایک ہی نظام ہونا چاہئے لیکن یہاں تو ایک ریاست کے اندر دو نظام کھڑے کئے گئے ہیں۔“
اُن کا کہنا تھا کہ ”جموں وکشمیر میں ایک عجیب سی صورتحال ہے، سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اس ریاست کو کس طرف دھکیلا جارہا ہے، حکمران کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے ارادے کیا ہیں؟“ عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بات کے دعوے کئے جارہے ہیں کہ 2019سے پہلے چند خاندانوں نے حکمرانی کی اور یہاں کچھ نہیں کیا۔ ”اگر کچھ 2019سے پہلے کچھ نہیں ہو تو خدارا بتایئے کہ جو اس وقت سکول، کالج، ڈگری کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال، سڑکیں، بجلی پروجیکٹ، پُل، فلائی اوور، سرکاری عمارات اور ادارے قائم ہیں وہ کہاں سے آئے؟ کیا وہ 2019کے بعد قائم کئے گئے؟حقیقت تو یہ ہے کہ 2019کے بعد یہاں کوئی تعمیر و ترقی نہیں اور لوگوں کی فلاح و بہبود کا ذرا برابر کام تک نہیں ہوا۔ اس لئے ہم یہ بات پوچھنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ 2019کے بعد آخر کار جموں و کشمیر میں کیا گیا؟ یہاں کے لوگوں کیلئے کیا بدلا گیا؟ کس نوجوان کو روزگار دیا گیا؟ کون سے ترقیاتی کام ہوئے؟ کون سا نیا نلکا یا واٹر سپلائی سکیم تعمیر ہوئی، کہاں پر بجلی کی نئی تار بچھی یا کہاں پر نیا بجلی کا پروجیکٹ شروع کیا گیا؟ ذرا ہمیں بھی تو دکھائے۔“
این سی نائب صدر نے کہا کہ 5اگست2019کے بعد اس بات کے دعوے کئے گئے کہ اب یہاں تعمیر و ترقی کا دور شروع ہوگا، روزگار کے بے شمار مواقعے دستیاب ہونگے اورآپ کو مانگنے کی ضرورت نہیں پڑ ے گی۔ ٹاٹا، برلا اورامبانی آئیں گے اور یہاں ہزاروں فکٹریاں لگائیں گے لیکن 27ماہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی نہیں آیا، نہ ٹاٹا آیا، نہ برلا آیا، نہ امبانی اور نہ کوئی اور آیا،اور نہ کسی کو روزگار ملا۔ اُلٹا جو اپنی روزی روٹی کماتے تھے وہ بھی اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔
ہمارے بچے آج روزگار کی تلاش میں در بہ در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ دفعہ 370کے بعد جس امن آنے کے دعوے کئے تھے کہاں ہے وہ امن؟ جو انصاف دلانے کی بات کہی تھی، کہاں ہے وہ انصاف؟انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اگر کچھ نہیں کیا تھا تو کم از کم لوگوں کو زمینوں پر مالکانہ حقوق دلوائے۔انہوں نے کہا کہ روشنی سکیم کے تحت غریب لوگوں نے پیسے جمع کرکے زمینیں حاصل کیں لیکن اسے زمینی جہاد کا نام دیا گیاہے اور آج ان غریبوں کی زمینیں چھینی جارہی ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے یہاں کے لوگوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دی تھی، بولنے کا حقدیا تھا، لیکن 5اگست2019کے بعد یہاں اظہارِ رائے کی آزادی بھی سلب کی گئی ہے۔
اگر آج اخبار والا سچ لکھتا ہے تو اُسے نہ صرف ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے بلکہ اُس کے اشتہار بھی بند کئے تھے اور اگر کوئی چینل والا کوئی سچ خبر دکھاتا ہے تو کیبل والے پر اس چینل کو غائب کرنے پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے حالات اتنی بدترین سطح پر آ پہنچے ہیں کہ ”آج کسی بے گناہ کی لاش حاصل کرنے کیلئے ہمیں احتجاج کرنا پڑتا ہے، گول کے نوجوان عامرماگرے، جو سرینگر روزگار کیلئے گیا تھا اور انکاؤنٹر میں مارا گیا، کا باپ آج بھی اپنے بیٹے کی لاش کی حصولی کیلئے حکومت کی منت سماجت کررہا ہے تاکہ وہ اسے کی مذہبی قوائد و ضوابط اور اپنے گھر کے نزدیک دفن کرسکے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عامر کا والد اگر اس وقت اپنے بیٹے کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کا ارادہ کرے تو اُسے اُس کی قبر بھی نہیں ملے گی۔“
انہوں نے کہا کہ ”کہاں گئے وہ لیڈر جو جموں جموں کی رٹھ لگائے بیٹھے ہیں، وہ عامر کے حق میں لب کشائی کیوں نہیں کرتے؟ کیا عامر گول اور گول جموں کا حصہ نہیں ہے؟یا پھر عامر کے حق میں بات کرنا اُن کی فرقہ پرست سیاست کیلئے سود مند نہیں؟نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے عوام سے اپیل کہ وہ اُن سازشوں کو پہچانیں جن کے تحت خطہ چناب، پیرپنچال اور کشمیر میں ووٹوں کا بٹوارا کیا جارہاہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی تمام پارٹیوں اور عناصر کو مسترد کریں جو لوگوں کی آواز کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
عوامی اجتماع کے بعد عمر عبداللہ پارٹی لیڈران کے ہمراہ مہلوک نوجوان عامر ماگرے کے گھر گئے اور وہاں اُن کے والدین کی ڈھارس بندھائی اور اُن کی تعزیت پرسی کی۔ انہوں نے مرحوم کے لواحقین سے کہا کہ نیشنل کانفرنس اس غم میں برابر شریک ہے اور عامر کی لاش کا مطالبہ کرتی ہے۔
دنیا
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
تل ابیب، اسرائیل کے فضائی حملوں میں لبنانی سرحد کے جنوبی حصے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کے دوران، وزیر دفاع کاٹز نے اسرائیل افواج کو لبنان، شام اور غزہ کے مقبوضہ علاقوں میں برقرار رکھنے کا واضح عہد کیا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے ماحول میں ہوئے جہاں اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کے خاتمے کے عالمی مطالبات کے باوجود، بیروت کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جو لبنانی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کا تقاضا کرتا ہے۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کی رپورٹ کے مطابق، بنت جبیل کے علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے کفرا میں ایک سڑک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے حدّاثا میں ایک بڑا دھماکہ کیا اور ایک اسرائیلی ڈرون نے بیت یہون کے بیرونی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد گرایا۔
این این اے کے مطابق، اسرائیلی افواج نے مرجعیون کے علاقے میں دیر سیریان کے قریب فضائی حملہ کیا اور وادی سلوقی روڈ پر واقع وادی تولین میں دھماکے ہوئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صور کے علاقے میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو الگ الگ حملے کیے، جب کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے اس قصبے پر ایک شاک بم گرایا۔این این اے کی خبر کے مطابق، اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کی فضاؤں میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جو دارالحکومت کے جنوبی مضافات تک پہنچ گئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے یہ بیانات جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ ایک علاقے سے اپنے ریکارڈ شدہ خطاب میں دیے۔
اپنے خطاب میں کاٹز نے مغرب میں بحیرہ روم کے ساحل سے لے کر مشرق میں قلعہ بوفورٹ اور جبل شیخ (ہرمون) کے دامن تک پھیلے ہوئے اس خطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “جیسا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور میں نے واضح طور پر کہا ہے، ہم اس سیکیورٹی زون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اور انخلا نہیں کریں گے۔
ہم اس علاقے کو محفوظ بنائیں گے اور شمالی شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔”
کاٹز نے کہا کہ اسرائیل لبنان، شام یا غزہ کے سیکیورٹی زونز سے کسی بھی صورت حال میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی افواج کو شمالی اسرائیلی بستیوں اور اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے اس علاقے میں تعینات کیا گیا ہے؛ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ فوج نے قلعہ بوفورٹ پر قبضہ کر لیا ہے، جو ان کے بقول میتولا اور دیگر شمالی بستیوں کی حفاظت کرتا ہے۔
دوسری جانب، ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے جنوبی لبنان میں قبضہ برقرار رکھنے کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیانات امریکی اور لبنانی فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی حکومت کے وعدوں کے خلاف ہیں۔
ایکسیسوس کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ تمام فریقین اس فریم ورک کے مطابق کام کریں جس پر اتفاق ہوا ہے؛
اسرائیل نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان میں اس کا کوئی علاقائی مقصد نہیں ہے۔
جنوبی لبنان میں مستقل فوجی موجودگی، نہ تو متعلقہ فریم ورک کے تحت کیے گئے وعدوں سے میل کھاتی ہے اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے طویل مدتی امن اور سلامتی کے موافق ہے۔”
یو این آئی۔ْ ع ا۔
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
تبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے، اتحاد قائم رکھنے، آزادی کو برقرار رکھنے اور آئین کے تحفظ کے لیے مضبوط سیاسی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کے روز یہاں ‘رچناتمک کانگریس’ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی طاقت کے بغیر وسیع تر تبدیلی لانا اور آئین و جمہوریت کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی حمایت سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے کچھ رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بی جے پی اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکتی ہے اور اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ لوگوں کو مذہب کے نام پر بانٹتے ہیں اور ایسا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک میں تعمیری پروگرام ہونے چاہئیں، جن سے ہر شخص معاشی اور سماجی طور پر آگے بڑھ سکے۔ ترقی کا فائدہ صرف کارپوریٹ اور صنعت کاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی کے حوالے سے اپوزیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر دکھانے کے لیے نہیں ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ میں آتے ہیں اور وہاں تمام خیالات کو سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی تمام فریقین کے نظریات کو سامنے رکھنے کی توقع ظاہر کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد اورملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں کے بارے میں بھی عوام کو بتایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز)، اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں سمیت متعدد اداروں کی تعمیر میں کانگریس کا اہم کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرینِ اقتصادیات اور تاجر موجود ہیں، لیکن ان کی تیاری میں پہلی حکومتوں اور اداروں کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ تاریخ کو سمجھے بغیر ملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی جمہوریت، آئین اور آزادی کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے جدوجہد کریں، کیونکہ اگر آج کی نسل ملک کے لیے نہیں لڑے گی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوگا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
