تازہ ترین
ہندوستانیوں کے فرض کے احساس کو بیدار کرنے میں طاقت لگائیں روحانی ادارے: مودی
نئی دہلی ماؤنٹ آبو، (یو این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کے روحانیت کےمیدان میں کام کرنے والوں سے کہا کہ وہ ملک کے شہریوں میں فرض شناسی کا احساس پیدا کرنے میں اپنی توانائی صرف کریں تاکہ آنے والے 25 سالوں میں ہندوستان وہ سب کچھ حاصل کرسکےجسے ہم نے سینکڑوں سالوں کی غلامی میں گنوایا ہے۔
مسٹر مودی نے یہاں راجستھان کے ماؤنٹ آبو میں واقع پرجاپِتا برہما کماری ایشوریہ وشو ودیالیہ اور برہما کماری سنستھا کے ذریعہ منعقدہ پروگرام ’ آزادی کے امرت مہوتسو سے سورنِم بھارت کی اور‘ میں ورچوئلی کلیدی خطاب میں یہ اپیل کی۔ انہوں نے اس طرح کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ جن ممالک میں کام کرتے ہیں وہاں ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوششوں کے مقابلے سچائی سےلوگوں کو آگاہ کریں۔
اس پروگرام میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، راجستھان کے گورنر کلراج مشرا، وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، مرکزی وزیر سیاحت اور ثقافت جی کشن ریڈی، مرکزی وزراء ارجن رام میگھوال اور کیلاش چودھری بھی موجود تھے۔
مسٹر مودی نے’ آزادی کے امرت مہوتسو سے سورنِم بھارت کی اور‘کے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں ’سنہرےہندوستان‘کے لیے احساس ہے اور روحانی مشق بھی ہے۔ اس میں ملک کے لیے ترغیب کے ساتھ ساتھ برہما کماریوں کی کوششیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا،’ ہماری ترقی ملک کی ترقی میں مضمر ہے۔ ہم سے ہی ملک کا وجود ہے اورملک سے ہی ہمارا وجود ہے۔ یہ احساس، یہ شعور نئے ہندوستان کے تعمیر میں ہم ہندوستانیوں کی سب سے بڑی طاقت بن رہا ہے۔ ملک آج جو کچھ کر رہا ہے اس میں ’سب کی کوشش‘ شامل ہے‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم ایسا نظام بنا رہے ہیں جس میں تفریق کی کوئی جگہ نہ ہو، ہم ایک ایسا معاشرہ بنا رہے ہیں جو برابری اور سماجی انصاف کی بنیاد پر مضبوطی سے کھڑا ہو، ہم ایسا ہندوستان ابھرتا دیکھ رہے ہیں جس کی سوچ اور اپروچ نئی ہے، اور جس کے فیصلے ترقی پسند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا تاریکی کے گہرے دور میں تھی، خواتین کے بارے میں پرانی سوچ میں جکڑی تھی، اس وقت ہندوستان دیوی کے روپ میں ماں شکتی کی پوجا کرتا تھا۔ ہمارے یہاں گارگی، میتری، انوسویا، اروندھتی اور مدالسا جیسےگیانی سماج کو علم دیتے تھے۔ یہاں تک کہ قرون وسطیٰ کے مشکل دور میں بھی اس ملک میں پنّادھیائے اور میرا بائی جیسی عظیم خواتین ہوئیں۔
اور امرت مہوتسو میں، ملک جدوجہد آزادی کی تاریخ کو یاد کر رہا ہے، اس میں بھی بہت سی خواتین نے اپنی قربانیاں دی ہیں۔ کِتّور کی رانی چینما، متنگنی ہزارہ، رانی لکشمی بائی، ویرنگنا جھلکاری بائی سے لے کر اہلیابائی ہولکر اور ساوتری بائی پھولے تک سماجی میدان میں ان دیویوں نے ہندوستان کی شناخت کو برقرار رکھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہمیں اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اپنے سنسکاروں کو زندہ رکھنا ہے، اپنی روحانیت کو، اپنے تنوع کو برقرار رکھنا ہے اور اسے بڑھانا ہے، اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت کے نظام کو مسلسل جدید بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امرت کال کا یہ وقت سوتے ہوئے خواب دیکھنے کا نہیں ہے بلکہ جاگ کر اپنے عزم کو پورا کرنے کا ہے۔ آنے والے 25 سال؛ محنت،قربانی، ’تپ-تپسیا‘کے 25 برس ہیں۔سینکڑوں سال کی غلامی میں ہمارے سماج نے جو گنوایا ہے، یہ 25 برس کی مدت، اسے دوبارہ حاصل کرنے کا ہے ۔
….
وزیر اعظم نے کہا،’ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے 75 سالوں میں ہمارے معاشرے اور قوم میں ایک برائی نے ہر کسی کے اندر گھر کر گئی ۔ یہ برائی ہے، اپنے فرائض سے انحراف کرنا، اپنے فرائض کو مقدم نہ رکھنا۔ پچھلے 75 سالوں میں ہم نے صرف حقوق کی بات کی، حقوق کی لڑائی لڑی، وقت کھپاتے رہے ۔ حقوق کی بات، کسی حد تک، وقتی طور پر، کسی بھی صورت میں درست ہو سکتی ہے، لیکن اپنے فرائض کو پوری طرح بھول جانا‘ اس بات نے ہندوستان کو کمزور رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے 25 سالوں میں فرائض ادا کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ برہما کماری ہندوستان کے لوگوں کو فرض کے لیے بیدار کرنے کی ذمہ داری پوری کر سکتی ہیں۔ ہم سب کو ملک کے ہر شہری کے دل میں ایک چراغ جلانا ہے یعنی فرض کا چراغ۔ ہم سب مل کر ملک کو فرض کی راہ پر آگے بڑھائیں گے تو معاشرے میں پھیلی برائیاں بھی دور ہوں گی اور ملک بھی نئی بلندیوں پر پہنچے گا۔ برہما کماری ایشوریہ وشو ودیالیہ کو اپنی طاقت کا استعمال لوگوں میں فرض کے احساس کو بیدار کرنے میں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ کس طرح ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی مختلف کوششیں جاری ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہم اس سے یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ یہ صرف سیاست ہے۔ یہ سیاست نہیں، ہمارے ملک کا سوال ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب ہم آزادی کا امرت کا تہوار منا رہے ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ دنیا ہندوستان کو صحیح طریقے سے جانے۔ ایسی تنظیمیں جن کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی ہے، وہ ہندوستان کے بارے میں صحیح بات دوسرے ممالک کے لوگوں تک پہنچائیں، ہندوستان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کے بارے میں سچ بتائیں، انھیں آگاہ کریں، یہ ہم سب کا فرض بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں یہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان سے کم از کم پانچ سو افراد کو ہندوستان بھیجا جائے تاکہ وہ ہندوستان کی اچھی چیزیں دیکھ سکیں اور حاصل کرسکیں۔
مسٹر مودی نے برہما کماریوں کی سات پہل کا افتتاح کیا ۔ ان میں ’میرا بھارت سوستھ بھارت‘، آتم نر بھر بھارت: آتم نربھر کسان، خواتین: ہندوستان کی پرچم بردار، شانتی بس مہم کی طاقت، اَن دیکھا بھارت سائیکل ریلی، یونائیٹڈ انڈیا موٹر بائیک مہم اور سوچھ بھارت ابھیان کے تحت گرین انیشیٹیو شامل ہیں۔ میرا بھارت سوستھ بھارت پہل کے تحت میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں روحانیت، تندرستی اور غذائیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
ان پروگراموں میں میڈیکل کیمپ، کینسر کی ٹیسٹ، ڈاکٹروں اور دیگر صحت کی دیکھ بھال کرنے والےاہلکاروں کے لیے کانفرنسیں وغیرہ کا انعقاد شامل ہیں۔ آتم نر بھر بھارت: آتم نربھر کسان کے تحت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے 75 کسانوں کو بااختیار بنانے کی مہم، 75 کسان کانفرنسیں، 75 مسلسل کمپاؤنڈ ایگریکلچر ٹریننگ پروگرام اور اس طرح کے بہت سے اقدامات کا انعقاد کیا جائے گا۔ خواتین: ہندوستان کے پرچم بردار کے تحت، لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی۔
شانتی بس ابھیان میں 75 شہروں اور تحصیلوں کو شامل کیا جائے گا اور آج کے نوجوانوں کی مثبت تبدیلی کے بارے میں ایک نمائش کا اہتمام کیا جائے گا۔ وراثت اور ماحول کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے، مختلف ثقافتی مقامات پراَن دیکھا بھارت سائیکل ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ یونائیٹڈ انڈیا موٹر بائیک مہم ماؤنٹ آبو سے دہلی تک چلائی جائے گی اور اس کے تحت کئی شہروں کاکو شامل کیا جائے گا۔ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت کی جانے والی پہل میں ماہانہ صفائی مہم، کمیونٹی کی صفائی کے پروگرام اور بیداری مہم شامل ہوں گی۔
اس پروگرام کے دوران گریمی ایوارڈ یافتہ مسٹر رکی کیج کا امرت فیسٹیول آف انڈیپنڈنس کے لیے وقف ایک گانا بھی ریلیز کیا گیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
