اہم خبریں
کابینہ سے برطرفی کا معاملہ : پارٹی کا فیصلہ قبول تاہم ذرائع ابلاغ کو مجھ سے پہلے بتانا تکلیف دہ تھا : درابو
سرینگر//کابینہ سے برطرفی کے معاملہ پر خاموشی توڑتے ہوئے سابق ریاستی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے کہا ہے کہ جو ’ طریقہ اور انداز‘ اختیار کیا گیا اور جس طرح سے انہیں فیصلہ سے آگاہ کیا، وہ کسی صدمہ اور دکھ سے کمنہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ نئی دہلی میں منعقدہ کانفرنس میں کئے گئے خطاب کی وضاحت کرنے کیلئے موقعہ نہیں دیاگیا جو ان کی برطرفی کا موجب بن گیا۔پی ڈی پی نے ڈاکٹر درابو کوکشمیر پر دیئے گئے بیان کہ ’کشمیر مسئلہ سیاسی نہیں لیکن یہ سماجی معاملہ ہے‘،کو واپس واپس لینے کیلئے کہا تھا ، ایک دن بعد سوموار کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر درابو کو کابینہ سے ہٹایا تھا ۔ پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے درابو سے دیئے گئے بیان کی وضاحت کرنے کیلئے کہا تھا جو پی ڈی پی کے موقف سے مخالف ہے۔ 3صفحوں پر لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر درابو نے کہاکہ ’کابینہ سے مجھے ہٹانے کی اطلاع ملی وہ حیران کن اور صدمہ سے کم نہیں تھا، پارٹی کا فیصلہ میں سمجھ سکتا ہوں اور اسے قبول بھی کرتا ہوں لیکن مجھ سے بات نہ کرکے میڈیا میں معاملہ کو لانا تکلیف دہ تھا اور مجھے کئے گئے خطاب کی وضاحت کرنے کا موقعہ نہیں دیاگیا“۔ درابو نے کہاکہ ’جب میں یہ بیان جاری کررہا ہوں، مجھے کوئی رسمی یا ذاتی اطلاع پارٹی یا حکومت کی طرف سے نہیں دی گئی کہ مجھے کابینہ سے 12مارچ کو فارغ کیا گیا ہے، مجھے ذرائع ابلاغ سے اس کی اطلاع قیاس آرائی کی طرح ملی لیکن بعد میں یہ حقیقت ثابت ہوئی‘۔
درابو نے اپنے طویل بیان میں کہا کہ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر میں خطاب کے دوران9 مارچ 2018 کو میں نے اس سوچ پر توجہ دی،جو میرے ذہن میں تھا،اور وہ یہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سیول سوسائٹی کا کردار تھا۔ بیان کے مطابق منتخب سفارتکاروں اور صنعت کاروں،جو جموں کشمیر میں قیام امن میں ممکنہ طور پر شامل ہوسکتے ہیں،میں نے یہ نکتہ ابھارنے کی کوشش کی کہ” کشمیر نہ صرف سیاسی مسئلہ ہے،جس کو حکومت ہند اور مسلسل حکومتوںکو حل کرنا ہے،بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے جس کو سیول سوسائٹی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے“۔انہوں نے کہا کہ یہ بیان وسیع تناظر میں دیا گیا کہ ہمارا سماج کس طرح تباہ ہوگیا اور اس سے کسی طرح ہماری حقیقی زندگی کی صورتحال اور نوجونوں کی سوچ خراب ہوئی۔بیان کے مطابق” وہاں پر موجود سفارتکاروں کے مطابقت، میں نے کئی ملکوں کی طرف سے سفری مشارکی(ٹرائیول ایڈویزری) کی مثال اس تناظر میں پیش کی کہ،جس کی سیاسی طور پر حوصلہ افزئی ہوسکتی ہے،تاہم زمینی سطح پر یہ کشمیر کو سماجی بائیکاٹ کے طور پر متاثر کر رہی ہے“۔بیان کے مطابق ” تقریر میں،میں نے صاف کیا کہ سیول سوسائٹی اداروں کو ضرورت ہے کہ وہ ا پنے اپنے علاقوں میں مداخلت کریں،اور یہ سماجی مسئلہ حل کریں جو ہمارے سماج کو در پیش ہے۔
بیان میں ڈاکٹر درابو نے کہا”اس بات کا اشارہ دیا جا رہا ہے کہ میں نے یہ کہا،یا میں نے یہ ایک در پردہ مقاصد کیلئے کہا،تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک طویل مدتی اعتقاد ہے اور میں یہ متواتر کہتا رہوں گا کہ کشمیر میں کئی سطحوں پر جڑنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جب میں جموں کشمیر بنک کا چیئرمین تھا،تو مجھے پتہ چلا کہ بنک کے40فیصد حصص غیر ملکی سرمایہ اداروں کے پاس ہیں جبکہ بھارت کا ایک بھی ادارہ جموں کشمیر بنک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا تھا اور14جون2014کو سرینگر میں،میں نے انہی خطوط پر کلیدی خطبہ دیا تھا۔سابق وزیر خزانہ نے اپنے طویل بیان میں کہا”کچھ دنوں کے بعد میں نے انڈئن اکنو میٹرک کانفرنس“ میں بھی تقریر کی اور محققین سے کہا تھا کہ وہ ایک تحقیق دکھائے،جو انہوں نے جموں کشمیر میں کی ہو۔انہوں نے کہا میں نے اس ک”تعلیمی اداروں کی بے حسی“ کہا تھا اور یہی انفرادی ،تجارتی،حرفت اور دانشورانہ سطح پرمصروفیت یا سرگرمیوں کے اعتبار سے حقیقت ہے۔
درابو نے کہا”جن لوگوں نے میری تقریر سنی یا غیر جانبدارنہ طور پڑھنے کی زحمت گوارہ کرنا چاہتے ہیں،اس بات سے باخبر ہونگے کہ جب میں ہمارے احساسات اور از خود دریافتوں کی بات کر رہا تھا،تو میں منتخب سامعین کے سامنے پی ڈی پی کے موقف کو حقیقی معنوں میں اسی کے انداز میں پیش کر رہا تھا۔انکا کہنا تھا”میری سمجھ اور معلومات کے مطابق ،یہ کسی بھی صورت میں پی ڈی پی کی بیان کردہ سیاسی پوزیشن سے متضاد نہیں ہے اور نہ ہی اسکی شبیہ کو متاثر کرتاہے ،یہ در حقیقت پی ڈی پی کے سیاسی فلسفے اور مفاہمتی ایجنڈا کا ہی حصہ ہے “۔درابو کے مطابق ”پی ڈی پی کی سیاسی آئیڈیالوجی کے حوالے سے میری سمجھ کے مطابق ،یہ میرے تحریر کردہ کئی انتخابی منشور ،حوصلہ بخش ایجنڈا اور اہم سیلف رول دستاویز کی بنیاد ہے ،جو مفتی مرحوم نے لکھنے کیلئے شامل کیا۔درحقیقت انہی کی رہنمائی میں پی ڈی پی۔بی جے پی الائنس کے خد وخال تیار کرنے میں انہی شرائط کو درج کیا گیا “۔
ڈاکٹر درابو نے کہا کہ ’میں نے اپنی تقریر پی ایچ ڈی سی سی آئی کی تقریب میں 9مارچ کی شام کو کی۔11مارچ کو دلی سے میری واپسی پر ،میں نے نائب صدر سرتاج مدنی کا ایک پریس بیان دیکھا ،جس میں کہا گیا تھا کہ جموں وکشمیر کے سیاسی مسئلے کا حل پی ڈی پی کا بنیادی ایجنڈا ہے اور مجھ سے کہا گیاکہ وہ دلی میں دئے گئے بیان سے منحرف ہوجائیں،12مارچ کی شام کو پارٹی کی انضباطی کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمان ویری کا ایک خط مجھے ملا جس میں مجھے اپنے اس بیان کی وضاحت کیلئے کہا گیا تھا جس کی وجہ سے بقول ان کے پارٹی کی شبیہ کو شدید نقصا ن پہنچا ہے‘۔میں نے ویری صاحب کو فون کیا لیکن وہ مصروف رہنے کی وجہ سے میرا فون اٹھا نہ سکے بعد میں میں نے ان کی ایک مسڈ کال دیکھی اور فون پر بات نہ ہوسکی۔دوسرے روز صبح کو میں نے ویری صاحب سے بات کی۔
انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں پارٹی صدر اور وزیراعلیٰ سے بات کروں۔میں نے وزیراعلیٰ کی دلی رہائش پر کال کی جہاں مجھے بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ مصروف ہیں اور10منٹ میں مجھے کال کریں گی لیکن وہ کال ابھی تک نہیں آئی۔دوپہر کے وقت میں نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ فون کیا اور ایک ملاقات کیلئے وقت مانگا۔حالانکہ میں ان کے جواب کا انتظار کرتا رہا کہ گریٹر کشمیر کی ویب سائٹ پر یہ خبر آئی کہ وزیراعلی نے مجھے وزارتی کونسل سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے گورنر کو لکھا ہے۔بہر حال مجھے وزیراعلیٰ سے ملنے کیلئے7;15شام کو ملاقات کیلئے طلب کیا گیا۔مجھے وزارتی کونسل سے برطرف کرنے کا فیصلہ میرے لئے باعث حیرت تھا لیکن اس کیلئے جو طریقہ اور وطیرہ اپنایا گیا وہ باعث تکلیف تھا۔حالانکہ میں اپنی پارٹی کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کرتا لیکن مجھ سے پہلے میڈیا سے بات کیا جانا تکلیف دہ امر ہے۔
مجھے اپنی تقریر کی تفصیل اور حقیقت پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔اس کے باﺅجود بھی میں مرحوم مفتی سعید اور محبوبہ باجی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں کسی بھی طریقے سے جموں و کشمیر میں سنگین صورتحال کے دوران کو بدلنے کے خواب ،جسکی وجہ سے سیکورٹی ، امن اور لوگوں کی خوشحالی خطرے میں پڑی تھی ،کو بہتربنانے اور برصغیر میں استحکام قائم کرنے کی خوب کو پورا کیا جاسکے۔ پی ڈی پی کے ساتھ ان دنوں سے جڑا ہوں جب میں رسمی طور پر سیاست میں نہیں آیا تھا اور جو سپورٹ مجھے مرحوم مفتی محمد سعید نے دیا اسکو میں زندگی بھر بھول نہیں سکتا ہوں، جو نہ ہلنے والا اعتماد اور بھروسہ مجھے ان سے ملا ہے وہ مجھے ان حالات سے لڑنے کی طاقت عطا فرمائے گا۔ صرف مجھ پر بی جے پی کے ساتھ بات چیت کرنے پر ہی بھروسہ نہیں جتایا گیا بلکہ میں نے ہی پی جے پی کے ساتھ ایجنڈا آف الائنس تیار کیا جو بعد میں محبوبہ مفتی نے جاری رکھا ہے۔ ہر ایک میٹنگ ، بات چیت اور بحث و مباحثے پارٹی سربراہ اور صدر کے مشورے کے بعد ہی کی گئی۔
اگر میں نے کشمیر میں اپنے سیاسی مستقبل کے دوران کبھی فخر محسوس کیا تو وہ یہ تھا کہ میں مرحوم مفتی سعید کا وزیر خزانہ تھا۔ میرے تعلقات مفتی صاحب سے سال 2003سے تھے جب انہوں نے مجھے اپنی سرکار کا اقتصادی مشیر مقرر کیا اور یہ مفتی صاحب ہی تھے جنہوں نے مجھے سیاست میں آنے کیلئے تیار کیا اور میری حوصلہ افزائی کی کیونکہ مرحوم مفتی سعید کے مطابق سیاست ہی لوگوں کی بہتر خدمت اور انکی زندگی بدلنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔جب پارٹی صدر نے مجھے سال 2014میں راجپورہ سے انتخابات لڑنے کا موقع فراہم کیا تو یہ میرے لئے فخر کا مقام تھا۔ میں اسوقت کافی خوش تھا جب سال 2014میں لوگوں نے پی ڈی پی کے ترقیاتی منصوبوں کا بھرپور ساتھ دیا جسکے نتیجے میں پہلی بار علاقے کا ایم ایل ائے بنا۔ میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ میں ان کیلئے کام کرتا رہوں گا۔ میں لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے پیا ر اور محبت دی ہے۔
میں محبوبہ جی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا اور جسکی وجہ سے کئی کام سر انجام دئے جاسکے مثلا ًسرکاری اخراجات کا نظام بہتر بنایا اور اقتصادیات میں ترقی کرنا بھی شامل ہے۔ میرے دل میں کسی کیلئے کوئی بھی دکھ نہیں ہے کیونکہ وہ میرا طریقہ نہیں ہے۔میں لوگوں کیلئے ہر ممکن کام کرنے کو تیار ہوں جو میرے حد اختیار میں ہوگا۔ میرے اور میرے اہلخانہ کیلئے یہ ایک ذاتی دھچکہ ہے مگر خدا ہمیشہ سے ہی میرے اوپر مہربان رہا ہے اور اسلئے کوئی بات نہیں ہے کہ میں اسکے انصاف پر بھروسہ نہ کروں۔ میں خود اپنے فیصلہ لیتا ہوں چاہئے وہ سیاسی ہو یا اور کوئی فیصلہ ہو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ خدا بہتر جانتا ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
