جموں و کشمیر
غیر مقامی افراد کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی سبھی سیاسی پارٹیوں نے یک زبان ہو کر سخت مخالفت کی
سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رائے دہندگان کی رجسٹریشن کے متعلق جاری تازہ حکمنامے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ جموں میں حکومت ہند کے نوآباد یاتی نظام کے پروجیکٹ پر کام شروع ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا پہلا دھچکا ڈوگرہ ثقافت، شناخت، روزگار اور تجارت کو پہنچے گا۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹس میں کیا۔
انہوں نے یہ ٹویٹس ضلع انتظامیہ جموں کے اس حکمنامے کے رد عمل میں کئے جس کے مطابق ریونیو کو اہلکاروں کو ان غیر مقامی لوگوں کو بھی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو جموں میں ایک سال کے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’الیکشن کمیشن آف انڈیا کے نئے ووٹروں کی رجسٹریشن کے بارے میں جاری تازہ حکمنامے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت ہند کا جموں میں نوآبادیاتی نظام کے پروجیکٹ کا کام شروع ہوا ہے‘۔
انہوں نے اس ٹویٹ میں کہا کہ اس سے سب سے پہلا دھچکا ڈوگرہ ثقافت، شناخت، روز گار اور تجارت کو پہنچے گا۔موصوفہ نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’بی جے پی کی جموں اور کشمیر کے درمیان مذہبی و علاقائی بنیادوں پر ڈالی جانی والی پھوٹ کی کوششوں کو ناکام بنایا جانا چاہئے کیونکہ چاہئے وہ کشمیری ہو یا ڈوگرہ،ہمارے حقوق اور شناخت کا تحفظ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم ایک ہو کر جد وجہد کریں گے‘۔
دریں اثنا جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے بھی اس حکمنامے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ میں ضلع انتظامیہ جموں کے اس حکمنامے کو مشکوک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حکمنامہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ہے۔
انہوں نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹ کرکے کہا ہے: ’ضلع مجسٹریٹ جموں کا حالیہ حکمنامہ، جس میں ریونیو اہلکاروں کو جموں میں ایک سال کے عرصہ سے زیادہ مدت سے مقیم غیر مقامی باشندوں کو رہائشی سند اجرا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے،مشکوک ہے اوراس کا مقصد انہیں ووٹ ڈالنے کے اہل بنانا ہے‘۔
ٹویٹ میں کہا گیا: ’یہ حکمنامہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ہے اور ہمارے شبہات کو غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور جموں و کشمیرانتظامیہ پر عائد ہوجاتی ہے، وہ یہ واضح کریں کہ کیا اس قسم کی ہدایت جائز ہے‘۔
ادھر کانگریس کے جموں وکشمیر یونٹ کے صدر وقار رسول وانی نے عجلت میں بلائی گئی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کا فیصلہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی الیکشن میں جیت حاصل کرنے کی خاطر مختلف ممالک کے ووٹروں کا یہاں پر اندراج کرا سکتی ہے کیونکہ بھاجپا کو کسی بھی صورت میں اقتدار چاہئے اس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ 25لاکھ ووٹروں کا اندراج کرنے کا ایک ہدف مقرر کیا گیااور جوں ہی اس کا بیان سامنے آیا تو سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس پر شدید رد عمل کا اظہا رکیا جس کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر نے سبھی سیاسی پارٹیوں کی میٹنگ طلب کی جس دوران غیر مقامی ووٹروں کے اندراج کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو ختم کیا لیکن ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کی جانب سے جو آرڈر جاری کیا گیا اُس سے بھاجپا کی نیت سب کے سامنے آشکار ہوئی ہے۔
اُن کے مطابق بی جے پی ہر حلقے میں لگ بھگ 90ہزار غیر مقامی ووٹروں کے اندراج کا منصوبہ بنا چکی ہے اور اس پر اب کام بھی شروع کیا گیا ہے۔ پردیش کانگریس کے صدر نے بتایا کہ فیصلہ کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف سبھی کو متحد ہو کر آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
علاوہ ازیں جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے انتظامیہ کی طرف سے غیر مقامی شہریوں کو باضابطہ طور پر ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے لئے جاری کئے گئے احکامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ عوامی ناراضگی اور بھاجپا کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجودبھی حکومت 25 لاکھ غیر مقامی افراد کو ووٹرفہرست میں شامل کرنے کے اپنے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
ان باتوں کا اظہار پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ترجمان نے کہا کہ جب پہلی بار سی ای او نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہاں غیر مقامی لوگوں کو ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کی بات کہی تو اس کے بعد عوامی ردعمل دیکھ کر حکومت کی طرف سے اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ زیر غور نہیں اور غیر مقامی لوگوں کو ووٹر فہرستوں میں شامل نہیں کیا جارہاہے۔
لیکن کل جس طرح سے ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کی طرف سے غیر مقامی شہریوں کو ووٹرفہرستوں میں شامل کرنے کا حکمنامہ جاری کیا گیا اْس سے عوامی خدشات سچ ثابت ہوگئے اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت غیر مقامی شہریوں کو یہاں کی ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے منصوبے کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھاجپا کے بغیر تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی اور عوامی سطح پر بھی اس منصوبے کیخلاف سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھاجپا انتخابی میدان میں اترنے سے خوفزہ ہے، اسمبلی نشستوں کی من پسند حدبندی اور سیٹوں کی ہیراپھیری کے باوجود بھی بھاجپا والوں کو انتخابات میں جیت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور اب اسی لئے ایسے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ بھاجپا جموں وکشمیر کے عوام کو بے اختیار کرنے پر تلی ہوئی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ لوگ ان منصوبوں کو وقت رہتے سمجھے اور اس سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اولین فرصت میں ووٹر فہرستوں میں نام درج کرائیں اور الیکشن کے وقت جوق در جوق نکل کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں اور جموں و کشمیر کیخلاف ہورہی سازشوں کو ناکام بنائیں۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ سارے اقدامات جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019کے تحت کئے جارہے ہیں، جسے نیشنل نے چیلنج کیا ہے اور جس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات براہ راست سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے اور ہمیں اْمید ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت جلد سے جلد اس کیس پر سماعت کرکے جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کو بحالی کریں۔
یو این آئی
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
