ہندوستان
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کسی بھی بحران سے نمٹنے میں اہم : اسمرتی
نئی دہلی:خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے بدھ کو کہا کہ کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری اہم ہے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ (یکم ستمبر سے 30ستمبر 2022)کے دوران ملک بھر میں مختلف موضوعات کے تحت 15کروڑ سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جو سوپوشت بھارت کے لئے وزیر اعظم کے وژن میں تعاون کرتی ہے۔ 5ویں پوشن ماہ سے قبل ، ابھیان کے آغاز کے بعد سے 40کروڑ سے زیادہ کی اجتماعی سرگرمی کے ساتھ 4پوشن ماہ اور 4پوشن پکھواڑا منعقد کئے جاچکے ہیں۔
اس سال پوشن ماہ کے دوران گرام پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کا نقطہ بنایا گیا۔اس سے زمینی سطح پر مختلف کمیٹیوں کو منظم کرنے میں مدد ملی۔ جس میں دیہی صحت، صفائی اور تغذیہ کمیٹی (وی ایچ ایس این سی)، اسکول انتظامیہ کمیٹی(ایس ایم سی)؍تعلیمی کمیٹی، آبی اور ماحولیاتی رکھ رکھاؤ کمیٹی، منصوبہ اور ترقیاتی کمیٹی ، سماجی انصاف اسٹینڈنگ کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔پوشن پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کے مرکز کی شکل میں دیکھتے ہوئے وسیع تر پوشن ماہ 2022 کے لئے مہیلا اور سواستھیہ ، بچہ اور شکشا، صنفی حساسیت آبی نظم اور خواتین و بچوں کے لئے روایتی غذا جیسے موضوعات شامل تھے۔
’مہیلا اور سواستھیہ‘موضوع کے تحت ملک بھر میں اہم سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں انیمیا جانچ اور بیداری مہم (تقریباً 32لاکھ)، زچگی سے قبل جانچ کیمپ(تقریباً 11لاکھ)، ماہواری صفائی پر بیداری مہم (تقریباً 7لاکھ)، ہاتھ دھونےاور صاف صفائی (تقریباً 41لاکھ)وغیرہ پر سرگرمیاں شامل ہیں۔
دیگر اہم موضوع بچہ اورشکشا-پوشن بھی، پڑھائی بھی، جس میں 6 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے معیاری پری اسکول تعلیم پر ماہ 2022 کے دوران توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا۔اس موضوع کے تحت ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم پر مرکوز 81لاکھ کے قریب سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ علاوہ ازیں ابتدائی سیکھ کے لئے عام حساسیت پیدا کرنے کی غرض سے آنگن واڑی مراکز میں سودیشی اور مقامی طور سے دستیاب کھلونوں کے استعمال اور فروغ کو قومی سطح پر بڑھاوا دیا گیا۔
خواتین و اطفال ترقی کی مرکزی وزیر کی صدارت میں دہلی میں ابتدائی بچپن میں نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونوں پر ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔آنگن واڑی کارکنان؍معاونین تک تمام آئی سی ڈی ایس عہدیداران کے فائدے کے لئے ورکشاپ؍ سیمینار کا براہ راست نشریہ یوٹیوب پر کیاگیا۔ماہرین کے ذریعے عمر کے حساب سے کھلونوں اور کھلونوں کی اہمیت پر پینل مباحثے کے علاوہ ورکشاپ میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنگن واڑی کارکنان کے ذریعے مقامی کھلونوں کی تعمیر کے ماسٹر آرٹسٹوں-افراد کے ذریعے سودیشی کھلونوں کی تعمیر کا لائیو مظاہرہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد ریاستوں نے اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ جیسے منی پورمیں اسٹیٹ ٹوائے تھن ؍کھلونا میلہ، گجرات کے اے ڈبلیو سی میں چھوٹے بچوں کے کھلونوں ؍کھیلو اور پڑھو میلہ منعقد کیا گیا۔ جھارکھنڈ میں اے ڈبلیو سی میں مقامی کھلونوں کی تعمیر سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد ہوا اور اُڈیشہ کے اے ڈبلیو سی میں بچوں اور ماؤں کے ذریعے کھلونوں کی تعمیر کا پروگرام منعقد ہوا۔
اس کے علاوہ پوشن پکھواڑا 2022 میں آنگن واڑی مراکز میں آبی رکھ رکھاؤ اور نظم پر صنفی حساسیت بیداری اور قبائلی علاقوں میں روایتی غذائی اشیاء پر مرکوز موضوعات کے تحت کامیاب سرگرمیوں کے بعد ان اہم موضوعات کے تحت سرگرمیاں پوشن ماہ 2022 میں بھی جاری رہی ہیں۔بارش کے پانی کے رکھ رکھاؤ کے لئے بنیادی ڈھانچے کے قیام کی غرض سے آنگن واڑی مراکز کی شناخت کے لئے ورکشاپ، سمپوزیم اور ڈرائیو کے توسط سے صنفی حساسیت آبی نظم اور رکھ رکھاؤ کے موضوع پر تقریباً 43لاکھ سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔
سوستھ بالک اسپردھا کو چار ریاستوں، اترپردیش ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور آسام میں پوشن ماہ کے دوران کامیابی کے ساتھ چلایاگیا۔ اس مقابلے کا اہم مقصد ’صحت مند بچہ‘کی شناخت کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور اس طرح بچوں اور خاندانوں میں اچھی صحت اور تغذیہ کی صورتحال کے لئے مقابلے کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ پروگرام کے دوران پانچ سال کے کم عمر کے بچوں کے لئے نشو و نما ناپ سے متعلق اہم سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔فاتحین کا اعزاز کرنے کے لئے فاتح بچے اور والدین کو سرٹیفکیٹ مہیا کرنے کے پس منظر میں تغذیہ کِٹ ؍صاف صفائی کِٹ، مقامی طور سے دستیاب سودیشی کھلونے، پانی کی بوتل وغیرہ جیسے انعامات ؍تحائف تمام چار ریاستوں میں تقسیم کئے گئے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ کا اختتام 30ستمبر سے 2؍اکتوبر 2022 تک کرتویہ پتھ نئی دہلی میں پوشن اُتسو کے ساتھ ہوا۔ پوشن اُتسو نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو درست تغذیہ کی اہمیت پر اہم پیغامات کی تشہیر کے لئے ایک پلیٹ فارم کی شکل میں کام کیا، خاص طور سے بچوں کے لئے۔ ملک میں عدم تغذیہ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے چھوٹے بچوں اور خواتین کو عمر کے حساب سے بہترین صحت روایتوں کے بارے میں بیدار کرنا اس اُتسو کا بنیادی مقصد تھا۔ پوشن اُتسو میں پوشن سے متعلق پوشن پریڈ ، صحت مند –غذا اسٹالوں، صحت جانچ اسٹالوں وغیرہ پر ثقافتی پروگراموں کے ساتھ اور عزت مآب وزیر اعظم کے ساتھ اے آر فوٹو سیشن شامل تھے، جس نے بچوں اور دوسرے لوگوں کو بڑے پیمانے پر متوجہ کیا۔
اُتسوکے حصے کی شکل میں آیوش وزارت نے نمائش ؍فروخت کے لئے آیوش تغذیاتی روایتوں اور آیوروید مصنوعات ؍یوگا سے متعلق لیٹریچر کے ساتھ اسٹال نصب کئے۔مفت صحت جانچ کے لئے بوتھ بھی لگائے گئے، جس میں مہمانوں کی بی ایم آئی جانچ کے لئے مشینیں بھی شامل تھیں۔چونکہ آنگن واڑی مراکز میں بچوں کی ابتدائی سیکھ اور نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونے ایک اہم سامان ہے، اس لئے ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 9مقامی روایتی کھلونوں کے گروپ جیسے ایٹی کوپکّا(آندھر پردیش)، کونڈا پلّی(آندھر پردیش)، چترکوٹ(اترپردیش)، وارانسی (اتر پردیش)، کٹھ پتلی دستکاری(راجستھان)، میسور (کرناٹک)، منگلور(کرناٹک)، چنّا پٹنا(کرناٹک)، اندور(مدھیہ پردیش)وغیرہ کے گروپ شامل تھے۔
بڑے پیمانوں پر بچوں اور عوام کو متوجہ کرنے کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کے لئے ایک اے آر فوٹو بوتھ قائم کیا گیا تھا۔تمام آنے والوں کے لئے ایک بڑی کشش کا مرکز تھا۔ اندازہ ہے کہ 3دنوں میں تقریباً 1.5 سے 2لاکھ افراد نے اس پوشن اُتسو میں حصہ لیا۔
8مارچ 2018 کو وزیر اعظم کے ذریعے شروع کیا گیا پوشن ابھیان بچوں ، نو عمر بچیوں ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے تغذیہ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لئے حکومت ہند کا اہم پروگرام ہے۔عوامی تحریک کے توسط سے ابھیان کا مقصد پورے ہندوستان میں تغذیہ سے جڑے رویے میں تبدیلی لانا ہے، جس سے وزیر اعظم کے سوپوشت بھارت وژن میں تعاون ملتا ہے۔
15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے لئے آنگن واڑی خدمات (اے ڈبلیو ایس)اور نو عمر بچیوں کےلئے اسکیم(ایس اے جی)کے ساتھ پوشن ابھیان سے مربوط آنگن واڑی اور پوشن 2.0نامی ایک مربوط پوشن امدادی پروگرام کا حصہ ہے۔پوشن ابھیان کے تحت تغذیہ پر مرکوز جن آندولن پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ کی شکل میں سال میں دو بار منعقد ہوتا ہے، جو لوگوں کے درمیان خواہش کے مطابق رویے میں تبدیلی لانے کے لئے اہم اکائیوں میں سے ایک بنا ہو اہے۔
یو این آئی۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
