تازہ ترین
چینی صدر کا دورہ سعودی عرب علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے پر اتفاق ،مشترکہ اعلامیہ جاری
ریاض، 9دسمبر(یواین آئی)چین کے صدر شی کے سعودی عرب کے تین روزہ دورے کے اختتام پر تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جس میں تیل کی ایک مستحکم عالمی مارکیٹ کی اہمیت پر مشترکہ طور پر زور دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں روس یوکرین تنازع اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پر امن حل کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایران پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں یمن اور شام کے سلسلے میں پر امن حل کی کوششوں کی تائید کی گئی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے کوششوں کی بات کی گئی ہے۔۔ چین نے روس یوکرین ، یمن اور شام کے سلسلے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں نے علاقائی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بایمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کرتے ہئے دو طرفہ سرمایہ کاری منصوبوں اور توانائی اور تجارت کے امور پر اعلی سظح کی دوطرفہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘ ایس پی اے ‘ کے مطابق اعلامیے میں چین نے تیل کی مستحکم اور متوازن عالمی منڈی کے لیے مملکت کے کردار اور حمایت کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ چین کو خام تیل کی بڑی اور قابل بھروسہ برآمد کنندہ مملکت کے طور پر بھی سعودی عرب کو سراہا گیا ہے۔مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں اتفاق کیا ہے کہ جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے لیے باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور صدر شی کے درمیان ملاقات میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود رہے۔ یہ اہم ملاقات الیمامہ محل میں جمعرات کے روز ملاقات ہوئی ۔ اس اعلی ترین ملاقات کے لیے صدر شی سات دسمبرکو بدھ کے روز سعودی عرب پہنچے تھے ۔الیمامہ محل ہو ہونےو الی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔ اس تعاون کے لیے علاقائی اوربین الاقوامی سطحوں پر ہونے والی پیش رفت کے تناظر کے حوالے سے دیکھا گیا۔
چینی صدر کے دورے کے موقع پر دونوں مملکوں گرین انرجی، گرین ہائیڈروجن ، فوٹو وولٹائک انرجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کلوڈ سروسزکے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔فریقین نے 12 معاہدات اور مفاہمتی یادداشتوں پر ہائیڈروجن انرجی ، عدالتی شعبے، چینی زبان کی تعلیم ، ہاوسنگ، ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ، ریڈیو ، ٹی وی ، ڈیجیٹل اکانومی ، معاشی ترقی ، سٹینڈرائزیشن ، خبری کوریج ، ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور اینٹی کرپشن سے متعلق موضوعات پر دستخط کیے گئے۔علاوہ ازیں’ ایس پی اے ‘ کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے میں 9 معاہدوں اور مفاہمت یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ جبکہ دونوں مملکت اور چین کے درمیان دونوں کی نجی کمپنیوں نے 25 معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔
چینی صدر نے سعودی عرب کی طرف سے زبردست میزبانی کی تعریف کی اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورہ چین کی دعوت دی گئی۔ شاہ سلمان نے یہ دعوت قبول کر لی۔ تاہم شاہ سلمان کے دورہ چین کی تاریخ بعد ازاں دونوں طرف کے مشورے اور سہولت کے مطابق طے کی جائے گی۔
دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں چین کی طرف سے مملکت کی سلامتی و استحکام کے لیے مسلسل حمایت کااظہار کیا گیا۔ نیز سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی اقدامات کی مخالفت کے عزم کااظہار کیا گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو ٹارگیٹ کر کے کیے جانے والے اور مملکت کے مفادات پر کیے جانے والے حملوں کی بھی مخالفت کا اندیہ دیا گیا۔ خلیجی ممالک کی سربراہی کانفرنس سے پہلے دونوں طرف سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ اور گہرے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔نیز اس پر بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک پلس چین یعنی 6 جمع 1 کے انداز میں خلیجی ممالک اور چین کے معیشت و تجارت کے امور کے وزیر وں کو فورم تشکیل دیا جائے۔
مشترکہ بیان میں تونائی کے شعبے کے لیے انفراسٹرکچر کے امور بھی فوکس میں رہے۔ دونوں طرف سے اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مل کر مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے۔
یہ مواقع پیٹرو کیمیکلز کے شعبے کے علاوہ بجلی ، پی وی انرجی ۔ ونڈ انرجی سمیت قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے لیے ہم آہنگی ظاہر کی گئی۔دونوں ملکوں نے ہائیڈروجن سے متعلق وسائل کے استعمال ، توانائی کی مستعدی ، توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار کے اجزا اور فراہمی توانائی کے لیے اقدامات پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس تناظر میں سعودی عرب اور چین دونوں نے چین کے ‘ بیلٹ اینڈ روڈ ‘ انیشیٹو کے حوالے سے بھی دو طرفہ تعاون کو گہرا اور مضبوط کرنے پر زور دیا ۔ اس طرح توانائی کے منصوبوں میں بھی دونوں ملک علاقائی سطح کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں بھی منصوبے لگانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں مال کی نقل وحمل اور کے لیے دو طرفہ طور پر اتفاق کیا کہ تعاون کو بڑھایا جائے اوراس سلسلے میں فضائی کے علاوہ بحری روابط کو بھی فعال بنایا جائے۔ جبکہ شہریوں کو جدید سفری سہولتیں دینے کے لیے سفری ذرائع بشمول ریلوے کے حوالے سے مثبت انداز میں چیزوں کو دیکھا گیا۔
سعودی عرب کی طرف سے بھی چین کو دعوت دی گئی کہ ملک کے مستقبل میں میگا پارجیکٹس میں اپنی مہارت کے ساتھ شریک ہو۔ نیز چین کے تاجروں کو مملکت میں اپنا علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کی دعوت دی گئی۔
صدر شی کے دورے کے اختتام سے قبل جاری کردہ مشترکہ بیان میں اعلیٰ سطح کی دو طرفہ مشترکہ کمیٹی کے ذریعے دو طرفہ روابط کو موثر بنانے کے لیے بھی اتفاق کیا گیا ۔ تاکہ تجارتی شعبے میں تعاون کو تزی سے بڑھایا جا سکے۔ اس بات کا بھی ادراک کیا گیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسے منصوبے بھی ہونے چاہییں جو طرفہ تعاون و ترقی اور شراکت کی علامت کے طور پر نظرآنے والے ہوں۔
اس وقت دو طرفہ جاری تجارت کی مشترکہ بیان میں تعریف کی گئی ، جبکہ تیل کے علاوہ دیگر شعبوں کی تجارت کو بڑھانے پر بھی دونوں طرف سے زور دیا گیا۔ مشترکہ بیان نے سعودی عرب اور چین کے درمیان ‘ آٹو موٹوو انڈسٹری ، ان مشینیون کی سپلائی کے تسلسل، نقل و حمل سمیت انفراسٹرکچر اور مینو فیکچرنگ کے امور میں بھی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
خارجہ امور کا شعبہ اگرچہ چین کے صدر کے دورے میں اہم تر سمجھا گیا ہے تام اس مشترکہ بیان میں اس کو بظاہر کم اہمیت دی گئی ہے۔ خارجہ امور کے حوالے سے دونوں ملکوں نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کو پرامن طریقوں سے حل کیا جانے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر چین کی طرف سے سعودی عرب کے انسانی بنیادوں پر ادا کیے گئے کردار کی تعریف کی گئی جو روس اور یوکرین کے سلسلے میں پچھلے کئی ماہ سے مملکت ادا کر رہی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دونوں ملک اس بات پر متفق نظر آئے کہ باہمی تعاون کو مظبوط کیا جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کا پر امن حل نکل سکے۔
دونوں نے نے اس بات پر ایران سے اپیل کی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ساتھ پرولیفیشن کے حوالے سے تعاون کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہوئے دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
یمن کے بارے میں بات کرتے ہوئے چین نے مملکت کی طرف سے جنگ کی خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا اور یمن کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔دونوں ملکوں نے یمن کے صدارتی کونسل کی قیادت کی حمایتت پر زور دیا اس پر بھی زور دیا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ایک مستقل اور جامع سیاسی حل کی طرف بڑھا جاسکے۔
دونوں فریقں نے شام میں بحران کے سییاسی حل کے لیے کوششوں کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ شام میں دیشت گردی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی نمائندے کی خدمات کو سراہا۔
لبنان کے تحفظ، استحکام اور اتحاد کو درپیش مسائل پر تشویش ظاہر کی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے اصلاحات، بات چیت اور مشاورت پر زور دیا۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
