جموں و کشمیر
سپریم کورٹ کی طرف سے 11جولائی کو دفعہ370کی سماعت کی تاریخ مقرر کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں: عمرعبداللہ
سری نگرجموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے منگل کے روز کہاکہ پارٹی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 کے حوالے سے ہمارا کیس بہت مضبوط ہے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے مانسبل گاندربل میں پارٹی کنونشن سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتوں میں بہت فرق ہے۔ باقی جماعتیں صرف اقتدار چاہتی ہیں، ہم بھی اقتدار چاہتے ہیں لیکن ہم اس کیلئے اپنے اصولوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی اقتدار ہماری منزل ہے۔انہوں نے کہا کہ ”باقیوں نے پہلے ہی دفعہ370پر ہار مان لی ہے اور کہتے ہیں کہ دفعہ370گیا تو گیا بس اور کچھ ہاتھ لگ جائے ، سٹیٹ ہڈ ہی آجائے وہی کافی ہے لیکن ہم (نیشنل کانفرنس) اقتدار بھی چاہتے ہیں، سٹیٹ ہڈ بھی چاہتے ہیں اور ہم دفعہ370کی لڑائی بھی چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ “
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے موقف میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ہم آج بھی اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم پُرامن ، جمہوری اور قانونی طریقے سے جموں و کشمیر کے حقوق کیلئے آخری دم تک لڑیں گے لیکن ہم نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر اور بندوق نہیں دیں گے اور ہم ماحول نہیں بگاڑیں گے ، ہم نے پُرامن جدوجہد کا عزم کیا ہے اور ہم اپنی جدوجہد میں ثابت قدم ہیں۔
سپریم کورٹ کی طرف سے 11جولائی کو دفعہ370کی سماعت تاریخ مقرر کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم چیف جسٹس صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں، دیر آید درست آید۔تاہم کچھ لوگ شنوائی سے پہلے ہی ہاتھ اُوپر کررہے ہیں، یہ ان کا حق ہے لیکن جیسے ہاتھ کھڑے کرکے پیچھے ہٹنا ان کا حق ہے ویسے ہی ناانصافی کیخلاف لڑنا ہمارا حق ہے اور ہم لڑتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحیح انداز میں پیش کیا جائے تو ہمارا کیس بہت ہی مضبوط ہے۔ یہاں گورنر نے پہلے خود کو اسمبلی کے اختیارات دیئے اور پھر خود آئین ساز اسمبلی کے اختیارات بھی تفویض کئے۔ پہلے کہا کہ میں جموں وکشمیر کے عوام کا نمائندہ ہوں اور پھر یہ بھی کہا کہ میں اُن لوگوں کا بھی نمائندہ ہوں جو لوگ آج زندہ بھی نہیں ہیں، یہ ساری باتیں سپریم کورٹ کے سامنے ہونگی اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ وہاں سے ہمیں انصاف ملے گا۔
موقعہ پرست عناصر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے پہلے ہی بھاجپا کیساتھ اتحاد کر رکھا ہے وہی لوگ کہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس اور بھاجپا مل کر اگلی حکومت بنائیں گے۔ ”ارے جناب ہم کیوں بھاجپا کیساتھ مل کر حکومت بنائیں گے، ہم تو اپنے دم پر حکومت بنانے کی کوشش کررہے ہیں، ہم تو لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر آپ نے ماضی میں مخلوط حکومتیں نہیں بنائیں ہوتیں تو آج ہماری یہ حالت نہیں ہوئی ہوتی اور ہم لوگوں کو یہ سچائی بھی بتارہے ہیں کہ اگر نیشنل کانفرنس کمزورنہیں ہوئی ہوتی تو یہ لوگ (بھاجپا والے)دفعہ370اور 35اے کو کبھی بھی چھونے میں کامیاب نہیں ہوئے ہوتے۔“
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے 1996میں جس طرح سے دوتہائی اکثریت حاصل کرکے اٹانومی کا مسودہ تیار کرکے اسے اسمبلی سے منظوری دلوائی ، اُسی دن سے نئی دلی اس سازش میں لگ گئی کہ نیشنل کانفرنس کبھی اکثریت حاصل نہ کرسکے اور 5اگست2019اسی سازش کا نتیجہ ہے۔“
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
