جموں و کشمیر
سرکاری محکموں میں 6 ماہ کے اندر تمام خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے گا:منوج سنہا
سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں میں تمام خالی اسامیوں کو ایک ‘بڑی بھرتی مہم’ کے تحت اگلے چھ مہینوں میں پُر کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سال گذشتہ یونین ٹریٹری کے ذریعے ایک بھرتی مہم شروع کی گئی تھی جس کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو شفاف طریقے سے بھرتی کیا گیا موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار منگل کو وسطی ضلع گاندربل میں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘سال گذشتہ یونین ٹریٹری انتظامیہ نے ایک بھرتی مہم شروع کی تھی جس کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘میں یہاں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ سرکاری محکموں میں تمام خالی اسامیوں کو شفاف طریقے سے اگلے چھ مہینوں میں پُر کیا جائے گا’۔انہوں نے کہا کہ ایک غریب آدمی کے بیٹے کو بھی افسر بننے کا حق ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ حال ہی میں ایک سبزی فروش کی بیٹی کے اے ایس افسر بن گئی۔انہوں نے کہا: ‘وہ (مذکورہ کے اے ایس افسر) مجھے ملی اور کہا کہ میں نے افسر بننے کا کبھی خواب بھی نہیں دیکھا تھا، میں نے اس کو یقین دلایا کہ غریبوں کے بچوں کو بھی امیروں کے بچوں کے جیسے حقوق حاصل ہیں’۔
علاقائی پارٹیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مسٹر سنہا کا کہنا تھا: ‘بعض پارٹیوں نے سرکاری خزانے کو لوٹا اور بیرونی ممالک میں بڑے بنگلے بنائے اور جموں وکشمیر کے عام لوگوں کو یہیں تکلیف میں چھوڑ دیا’۔
انہوں نے کہا: ‘ان لوگوں کو امن ہضم نہیں ہوتا ہے ار یہ لوگ ایک یا دوسرا بہانہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کرنے اور اکسانے کے لئے لگاتار سازشیں کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ گاندربل ضلع میں وزیر اعظم آواس یوجنا سکیم کے تحت 28 سو لوگوں میں آواس تقسیم کئے گئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا: ‘میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں ایک بھی غیر مقامی شخص کو آواس فراہم نہیں کیا گیا’۔
انہوں نے کہا: ‘لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو غریبوں کو اپنے گھر بناتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘وہ زمانہ گذر گیا جب یہاں پاکستان یا یہاں اس کے کٹھ پتلیوں کی کال پر اسکول یا کالج بند رہا کرتے تھے جموں و کشمیر اب امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور یہاں کے لوگ بھی پر امن اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں’۔
منوج سنہا نے کہا کہ سال گذشتہ ایک کروڑ 88 لاکھ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی جن سے مقامی لوگوں کو فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا: ‘ان سیاحوں سے مقامی ٹیکسی والوں، ہوٹل والوں، رکشا والوں، شکارا والوں وغیرہ لوگوں کو کافی فائدہ ہوا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘امسال آخر اگست تک ایک کروڑ 52 لاکھ سیاح یہاں آئے ہیں اور امسال یہ تعداد سوا دو کروڑ کو تجاوز کرنے کی توقع ہے لیکن کچھ لوگوں کو یہ بھی ہضم نہیں ہوتا ہے اور وہ گمراہ کن بیانات دیتے ہیں’۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گاندربل پر بڑی ترقی کی راہ گامزن ہے۔
انہوں نے کہا: ‘میں خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ گاندربل بہت جلد دنیا کے سیاحتی نقشے پر نمو دار ہونے والا ہے ساڑھے تین لاکھ سیاحوں نے سونہ مرگ کی سیر کی جو ایک بڑی تعداد ہے’۔
موصوف ایل جی نے کہا کہ آج میں نے کئی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد 12 برس قبل رکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا: ‘
سابق حکمرانوں کی طرف سے یہاں ایک ٹرینڈ قائم کیا گیا تھا کہ منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے نہ کہ ان کو مکمل کیا جائے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘گاندر بل میں 75 پروجیکٹوں کو لٹکے ہوئے پروجیکٹوں کی فہرست میں رکھا گیا تھا جن میں سے موجودہ انتظامیہ نے 33 کو مکمل کیا ہے اور باقی 45 پرجیکٹوں کو بھی جلد مکمل کیا جائے گا’۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
