جموں و کشمیر
جموں وکشمیر میں دہشت گردی زوال پذیر ہے لیکن مکمل طورپر ختم نہیں ہوئی، سال 2024میں دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنا ہمارا اہم مشن رہے گا: پولیس سربراہ
سری نگر،ی جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ آر آر سوئن کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی زوال پذیر ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے پولیس اہلکاروں سے قیام امن کے لیے کام کرنے کی تاکید کی تاکہ انتخابات میں امید وار اور ووٹر کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہ کر سکیں۔
پولیس سربراہ آرآر سوئن نے اپنے پانچ صفحات کے پیغام میں کہا :”جموں وکشمیر میں پر امن ماحول کو یقینی بنانے کی خاطر ہمیں پوری طرح سے تیار رہنے کی ضرورت ہیں ۔“
انہوں نے کہاکہ ایک ایسا ماحول جہاں پر عام لوگ (مرد و زن ) انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے اپنے آپ کو آزاد محسوس کرسکیں ۔
ان کے مطابق پر امن ماحول سے ہی سرمایہ کاری اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی راہیں متعین ہو سکتی ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہاکہ پیش رفت ہونے کے باوجود ابھی بھی ہمیں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی زوال پذیر ہے لیکن مکمل طورپر ختم نہیں ہوئی ۔
اپنے پیغام میں پولیس سربراہ نے کہاکہ امن دشمن عناصر مسلسل حالات کو درہم برہم کرنے کی خاطر مختلف حربے آزما رہے ہیں ، ہمیں اس طرح کے کسی بھی اقدام کو شکست دینی ہوگی تاکہ ایسے عناصر کے منصوبوں کو پوری طرح سے ناکام بنایاجاسکے۔
انہوں نے کہاکہ ملک کے امن و استحکام اور کیمونٹی کے تحفظ کے لئے خطرہ بننے والی کسی بھی سرگرمی یا شخص کے خلاف صفر رواداری کا مظاہرہ کرنا اب ناگزیر بن گیا ہے ۔ ہمیں اپنے امن پسند شہریوں کے لئے حقیقی ہمدری کا اظہار کرنا ہوگا۔
آر آر سوئن نے کہا :”سال 2023میں ہمیں دہشت گردی کے ماحولیاتی نظا م کو ختم کرنے کا چیلنج تھا لیکن سال 2024میں ہمیں دہشت گردی کی کسی بھی شکل اور اس کی جڑوں کوپوری طرح سے ختم کرنا ہے تاکہ ملی ٹینسی کو دوبارہ پنپنے کا موقع فراہم نہ ہو سکے۔ “
انہوں نے کہاکہ فورسز کو منشیات اور نارکو ٹیررزم کے چیلنجوں کا بھی سامنا ہے ، یہ ایک سماجی برائی بھی ہے اور سیکورٹی خطرہ بھی لہذا اس کا قلع قمع کرنے کی خاطر انتھک محنت کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس منشیات کا خاتمہ کرکے آنے والی نسلوں کو اس سے پاک رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرئے گی۔
اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے جنگ سے درپیش چیلنج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے پولیس سربراہ نے کہاکہ مستقبل قریب میں یہ خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔لہذا جب کہ ہم امن کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کوششوں کے روایتی طریقوں میں بہتری لارہے ہیں ، وہی ہمیں ٹیکنالوجی اور اے آئی کی حمایت یافتہ پولیسنگ میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔
جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے کام کاج کی تعریف کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہاکہ 16سو سے زائد پولیس اہلکاروں نے گزشتہ تین دہائیوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
آر آر سوئن کے مطابق اس قابل فخر پیشہ وارانہ فورس نے جموں وکشمیر کو اسپانسر شدہ دہشت گردی کے چنگل سے نکالنے اور امن و ترقی کو فرو غ دینے کے لئے سازگار ماحول کو یقینی بنایا ۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس ملک کی ایک منفرد پولیس فورس ہے اور یہ کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کی خاطر پولیس نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
سوئن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے تصورکردہ کشمیر ویژن کو عملی جامہ پہنانے پر بھی جموں وکشمیر پولیس کی تعریف کی۔
ڈی جی پی نے کہاکہ پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو ماضی میں دہشت گرد اور علیحدگی پسند وں کی جانب سے دباو کاسامنا کرناپڑا ، ان کا کہنا تھا پولیس کو بدنام کرنے کی کسی بھی سعی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
