تازہ ترین
سوپور میں جنگجو ؤں اور فورسز کے مابین ہوئی خونین جھڑپ کی مکمل رپورٹ
خبر اردو :
ڈنگی وچھ سوپور میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین خونین جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جبکہ طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کے نتیجے میں 2فورسز اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن میں سے بعدمیں ایک فوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔ ادھر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی قصبہ کے مضافات میں اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے جب کہ افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر مفلوج رکھا گیا۔
پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خود سپردگی کی پیش کش کی جسے جنگجوؤں نے ٹھکراتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے مقام سے 2عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ہتھیاروں سمیت برآمد کیا گیا جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ درسو علاقے میں فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پانے پر علاقے کادوران شب سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ اطلاعات کے مطابق فوج اور ایس او جی نے علاقے میں جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ڈنگی وچھ درسو نامی بستی کا سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ فوج نے علاقے کی طرف آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ گلی کوچوں میں خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بستی میں تلاشی آپریشن شروع کردیا ۔ فورسز اہلکار جونہی مشتبہ مقام پر پہنچے جہاں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی تو انہوں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران فوج نے بھی مورچہ سنبھالا اور جوابی کارروائی کا آغاز کردیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران رات بھر فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے گولی باری ہوتی رہی جو جمعہ کی صبح تک جاری رہی۔
ادھرپولیس نے جمعہ کی علی الصبح بتایا کہ فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ میں اب تک ایک جنگجو جاں بحق ہوچکا ہے جبکہ مکان کے اندرون سے صبح سے فائرنگ ہونی بند ہوگئی ہے۔ تاہم اس دوران فورسز اہلکاروں نے جونہی جمعہ کی صبح 9:15پر مکان کی جانب پیش قدمی کی تو اسی دوران مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو نے فورسز پر دوبارہ فائرنگ شروع کردی جس کے بعد طرفین کے بیچ جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے بستی کا محاصرہ سخت کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا جس کے بعد مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو کو بھی جاں بحق کردیا گیا۔
جھڑپ سے متعلق پولیس نے اپنے بیان میں بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے ڈنگی وچھ درسو نامی علاقے کا محاصرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے بستی میں تلاشی آپریشن کا باضابطہ آغاز کیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ مکان کے نزدیک جانے کی پیش قدمی کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی۔ پولیس نے بتایا کہ اگر چہ سیکورٹی فورسز نے چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خودسپردگی کی پیش کش بھی کی تاہم انہوں نے فورسز کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے تلاشی پارٹی پر فائرنگ شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ علاقے کی گلی کوچوں میں خار دار داریں نصب کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے بھی باضابطہ طور پر جنگجوؤں کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق کئے گئے جن کی شناخت ریاض احمد ساکن نصیرآباد سوپور اور خورشید احمد ملک ولد غلام نبی ملک ساکن نکس پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران فوج اور پولیس کے 2اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوج کے ترجمان نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا تھا جس بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔
نمائندے کے مطابق قصبہ کے مضافات میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز پر کئی اطراف سے پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جونہی فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران علاقے کے مضافات سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں قصبے کے مضافات میں اتھل پتھل مچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران قصبہ سوپور اور مضافات میں تجارتی و عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہی جب کہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی نوجوانوں کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے اُن کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے نتیجے میں علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔اس دوران قصبہ میں تناؤ کی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے علاوہ افواہ بازی پرروک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر جنوبی قصبہ پلوامہ میں جمعہ کی صبح اُس وقت حالات کشیدہ ہوئے اور نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے جب نکس پلوامہ سے تعلق رکھنے والے خورشید احمد سے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ موصوف سوپور معرکے میں جاں بحق ہوا ہے۔ نمائندے کے مطابق نکس پلوامہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں اُس وقت سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز کے خلاف سخت احتجاج کیا جب علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان خورشید احمد کے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ وہ شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں جاں بحق ہوا ہے۔ اس دوران علاقے میں دوکانات مکمل طور پر بند ہوئے جب کہ سڑکوں سے گاڑیوں کی نقل و حمل مکل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ اس دوران ضلع کے کئی مقامات پر احتجاجی نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب کیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
