تازہ ترین
سوپور میں جنگجو ؤں اور فورسز کے مابین ہوئی خونین جھڑپ کی مکمل رپورٹ
خبر اردو :
ڈنگی وچھ سوپور میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین خونین جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جبکہ طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کے نتیجے میں 2فورسز اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن میں سے بعدمیں ایک فوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔ ادھر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی قصبہ کے مضافات میں اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے جب کہ افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر مفلوج رکھا گیا۔
پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خود سپردگی کی پیش کش کی جسے جنگجوؤں نے ٹھکراتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے مقام سے 2عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ہتھیاروں سمیت برآمد کیا گیا جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ درسو علاقے میں فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پانے پر علاقے کادوران شب سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ اطلاعات کے مطابق فوج اور ایس او جی نے علاقے میں جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ڈنگی وچھ درسو نامی بستی کا سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ فوج نے علاقے کی طرف آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ گلی کوچوں میں خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بستی میں تلاشی آپریشن شروع کردیا ۔ فورسز اہلکار جونہی مشتبہ مقام پر پہنچے جہاں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی تو انہوں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران فوج نے بھی مورچہ سنبھالا اور جوابی کارروائی کا آغاز کردیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران رات بھر فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے گولی باری ہوتی رہی جو جمعہ کی صبح تک جاری رہی۔
ادھرپولیس نے جمعہ کی علی الصبح بتایا کہ فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ میں اب تک ایک جنگجو جاں بحق ہوچکا ہے جبکہ مکان کے اندرون سے صبح سے فائرنگ ہونی بند ہوگئی ہے۔ تاہم اس دوران فورسز اہلکاروں نے جونہی جمعہ کی صبح 9:15پر مکان کی جانب پیش قدمی کی تو اسی دوران مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو نے فورسز پر دوبارہ فائرنگ شروع کردی جس کے بعد طرفین کے بیچ جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے بستی کا محاصرہ سخت کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا جس کے بعد مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو کو بھی جاں بحق کردیا گیا۔
جھڑپ سے متعلق پولیس نے اپنے بیان میں بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے ڈنگی وچھ درسو نامی علاقے کا محاصرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے بستی میں تلاشی آپریشن کا باضابطہ آغاز کیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ مکان کے نزدیک جانے کی پیش قدمی کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی۔ پولیس نے بتایا کہ اگر چہ سیکورٹی فورسز نے چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خودسپردگی کی پیش کش بھی کی تاہم انہوں نے فورسز کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے تلاشی پارٹی پر فائرنگ شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ علاقے کی گلی کوچوں میں خار دار داریں نصب کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے بھی باضابطہ طور پر جنگجوؤں کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق کئے گئے جن کی شناخت ریاض احمد ساکن نصیرآباد سوپور اور خورشید احمد ملک ولد غلام نبی ملک ساکن نکس پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران فوج اور پولیس کے 2اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوج کے ترجمان نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا تھا جس بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔
نمائندے کے مطابق قصبہ کے مضافات میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز پر کئی اطراف سے پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جونہی فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران علاقے کے مضافات سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں قصبے کے مضافات میں اتھل پتھل مچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران قصبہ سوپور اور مضافات میں تجارتی و عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہی جب کہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی نوجوانوں کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے اُن کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے نتیجے میں علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔اس دوران قصبہ میں تناؤ کی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے علاوہ افواہ بازی پرروک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر جنوبی قصبہ پلوامہ میں جمعہ کی صبح اُس وقت حالات کشیدہ ہوئے اور نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے جب نکس پلوامہ سے تعلق رکھنے والے خورشید احمد سے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ موصوف سوپور معرکے میں جاں بحق ہوا ہے۔ نمائندے کے مطابق نکس پلوامہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں اُس وقت سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز کے خلاف سخت احتجاج کیا جب علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان خورشید احمد کے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ وہ شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں جاں بحق ہوا ہے۔ اس دوران علاقے میں دوکانات مکمل طور پر بند ہوئے جب کہ سڑکوں سے گاڑیوں کی نقل و حمل مکل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ اس دوران ضلع کے کئی مقامات پر احتجاجی نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب کیا۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
