تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے خلاف جاری یلغار پر ہوئے مظاہروں کی مکمل رپورٹ
خبر اردو:
آرٹیکل 35A کے مکمل تحفظ کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس دوران مظاہرین نے عہد کیا کہ نئی دہلی کی جانب سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کاڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔مظاہرین نے بتایا کہ ریاستی عوام آرٹیکل 35Aکے دفاع کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند میں خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی شق 35Aکی سپریم کورٹ میں 6اگست کو ہونے والی سماعت کو لے کر ریاست جموں وکشمیر میں عوام کے اندر اضطراب پایا جارہا ہے جس کو لے کر قبل ہی کشمیر سے وابستہ سبھی سیاسی، تجارتی، سماجی، سیول سوسائٹی انجمنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھرجامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں ایک جلوس برآمد ہوا جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پربی جے پی اور آر ایس ایس مخالف نعرے لگائے۔ انہوں نے بتایا کہ 6اگست کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام کے اندر اضطراب رونما ہوا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کے پیچھے فرقہ پرستوں کے مذموم مقاصد ہیں تاکہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرکے یہاں کی تحریک آزادی پرکاری ضرب لگائی جائے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر بتایا کہ اگر 6اگست کو آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ واقع ہوئی تو ریاست جموں وکشمیر میں کہرام مچ جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دہلی پر عائد ہوگی ۔
اس سے قبل حریت (ع) چیرمین نے میرواعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 6 اگست کو اگر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے 35-A کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے مفادات کے منافی ہو یا مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت و ہیئت یا جموں وکشمیر کی آبادی Demography کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائیگی۔انہو ں نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت(JRL) کی جانب سے اس ضمن میں ایک منظم اور مرتب پروگرام پہلے سے دیا جاچکا ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ صرف JRL کے پروگرام پر من و عن عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں لیکن کشمیر کی متنازعہحیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ ادھر شہر کے آبی گزر علاقے میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق جلوس میں شامل مظاہرین نے آبی گزر بنڈ سے ہوتے ہوئے لعل چوک کی جانب پیش قدمی کی۔ فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک نے لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہند نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی تو ریاست جموں وکشمیر کے لوگ سڑکوں پر آکر کہرام مچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے لوگ یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی اجاز ت نہیں دیں گے۔ یاسین ملک نے بتایا کہ ریاستی عوام اپنی شناخت کو بچانے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے خون کے آخری قطرے تک کو بہادے گی۔ فرنٹ چیرمین نے بتایا کہ 6اگست،جس روز سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہونے جارہی ہے ، اگر یہاں کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاستی عوام سڑکوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ 5اور 6اگست کو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں گے اور یہاں کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اس روز سیول کرفیو منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم ہمارے احتجاج کی گواہ رہنی چاہیے کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام ریاست کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑنی کی کسی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر جلوس میں شامل مظاہرین نے ’جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے‘ کے نعرے بلند کئے۔
اس دوران حریت (گ) جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی کی قیادت میں حیدرپورہ جامع مسجد سے بھی ایک احتجاجی جلو س برآمد ہوا جس مرد و خواتین کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میں شامل مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے بازی کرنے کے علاوہ آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے بلند کئے۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل جامع مسجد حیدرپورہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی سمجھی نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں حقِ خودارادیت کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے بھارتی آئین کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے آئین میں ان تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دفعہ 35A اور دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کشمیر احتجاجی مظاہرہ میں شریک قائدینِ حریت نے اس موقع پر اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی طرف سے یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اِسے ایک ہندو راشٹریہ کے زیرِ تسلط لائے جانے کے مذموم ہتھکنڈوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
قائدین نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مورخہ 5؍اور 6؍اگست کو اپنے تمام کاروباری اور دفتری امورات معطل کرکے سِول کرفیو نافذ کرنے کی تحریک کو اپنا بھرپور تعاون اور حمایت پیش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست جموں کشمیر کو ایک نوآبادیاتی کالونی تصور کرنے کی بھول بھلیوں میں اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ پچھلے 70برسوں سے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور اس دوران بھارت یہاں زمینی سطح پر اپنی فوجی اور سیاسی دھاک بٹھانے میں قطعی طور ناکام ونامراد ہوچکا ہے۔ ادھر سرحدی ضلع پونچھ میں بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کو لے کر زور دار احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ نمائندے کے مطابق جمعہ نماز کے بعد ہی تحصیل منڈی پونچھ میں ایک بڑا جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی مختلف مساجد سے لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت ہند سے ایسی کسی بھی کوشش سے پرہیز کرنے کی اپیل کی جس سے ریاست جموں وکشمیر کے خرمن امن میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔
مظاہرین نے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کیا گیاتو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت ہند پر ہوگی۔ جلو س میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ 6اگست کو ضلع بھر میں مکمل ہڑتال رہے گی جس دوران تمام نجی اور اجتماعی سرگرمیاں معطل رہیں گے۔ KNS
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
