تازہ ترین
رمضان مبارک اور عید مبارک !!
جاوید اختر بھارتی
یقیناً عید الفطر خوشی کا دن ہے یوم الجزا بھی ہے اور یوم تشکر بھی ہے خوشی منانے کا بھی دن ہے اور خوشیاں بانٹنے کا بھی دن ہے لیکن حقیقی خوشی تو اسی کو حاصل ہوگی اور محسوس ہوگی جس نے رمضان مبارک کا روزہ رکھا ہوگا جس نے سحری و افطار کیا ہوگا جس نے تراویح کا اہتمام کیا ہوگا جس نے غرباء ومساکین کا خیال کیا ہوگا جس نے ایک ماہ میں تین تین فرائض پر عمل کیا ہوگا اسی کے لئے عیدالفطر اللہ کی طرف سے اجرت ملنے کا دن ہے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور جس نے مذکورہ تمام امور سے منہ موڑے رہا اور رمضان مبارک کے مہینے میں بھی پورے دن کھاتا پیتا رہا اس کی کوئی عید نہیں بلکہ اس کی تو زبردستی کی عید ہے حقیقت یہی ہے کہ اس کے لئے عام دن کی طرح ہی عیدالفطر کا بھی دن ہے اللہ کرے کہ ہمیں بار بار رمضان مبارک کا مہینہ نصیب ہو ذکر و اذکار کی سعادت حاصل ہو اور اس کے نتیجے میں عید الفطر کا دن نصیب ہو ،، عیدیں ہم بھی مناتے ہیں مگر آئیے کچھ بزرگان دین کے حالات پر نظر ڈالیں کہ انہوں نے کیسے عید منائی –
سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن بِن عَمْرْو اَوْزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بَیان کرتے ہیں کہ عِیْدُ الفِطْر کی شب دروازے پر دَستک ہوئی ، دیکھا تومیرا ہمسایہ کھڑا تھا۔ میں نے پوچھا:کہو بھائی !کیسے آنا ہوا؟اُس نے کہا: ’’کل عید ہے لیکن خرچ کیلئے کچھ نہیں ،اگر آپ کچھ عنایت فرمادیں تو عزت کے ساتھ ہم عید کا دِن گزارلیں گے۔‘‘میں نے اپنی بیوی سے کہا: ہمارا فلاں پڑوسی آیا ہے اُس کے پاس عید کیلئے ایک پیسہ بھی نہیں ، اگر تمہاری رائے ہو تو جو پچیس دِرہم ہم نے عید کیلئے رکھ چھوڑے ہیں اس کو پیش کر دیں ہمیں اللہ تَعَالٰی اور دیدے گا۔ نیک بیوی نے کہا: بہت اچھا۔ چنانچہ میں نے وہ سب دِرہم اپنے ہمسائے کے حوالے کردئیے، وہ دُعائیں دیتا ہوا چلاگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر کسی نے دروازہ کَھٹکَھٹایا۔ میں نے جونہی دروازہ کھولا، ایک آدمی آگے بڑھ کر میرے قدموں پر گر پڑا اور رو روکر کہنے لگا: میں آپ کے والد کابھاگا ہوا غلام ہوں ، مجھے اپنی حرکت پر بہت ندامت لاحق ہوئی توحاضر ہو گیا ہوں ، یہ پچیس دینار میری کمائی کے ہیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں قبول فرمالیجئے، آپ میرے آقا ہیں اور میں آپ کا غلام ۔میں نے وہ دِینار لے لئے اور غلام کو آزاد کردیا۔ پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا: خدا رب ذوالجلال کی شان دیکھو!اُس نے ہمیں دِرہم کے بدلے دِینار عطا فرمائے،،(پہلے درہم چاندی کے اور دینار سونے کے ہوتے تھے-
عید کے دِن چند حضرات مکانِ عالی شان پر حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ در وا زہ بند کرکے زَارو قطار رو رہے ہیں ۔ لوگوں نے حیران ہوکر عرض کیا: یاامیرَالْمُؤمِنِین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ !آج تو عید ہے جو کہ خوشی منانے کا دِن ہے ، خوشی کی جگہ یہ رونا کیسا؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آنسو پونچھتے ہوئے فرمایا: ’’ھٰذا یَوْمُ الْعِیْدِ وَھٰذا یَوْمُ الْوَعِیْد‘‘یعنی یہ عید کا دِن بھی ہے اور وَعید کا دِن بھی ۔ جس کے نَمازو روزے مقبول ہوگئے بلا شبہ اُس کے لئے آج عید کا دِن ہے،لیکن جس کے نَمازو روزے رَد کر کے اُس کے منہ پر ماردیئے گئے اُس کیلئے تو آج وَعید کا دِن ہے (مزید انکساراً فرمایا:) اور میں تواِس خوف سے رو رہا ہوں کہ آہ!’’اَنَا لَا اَدْرِیْ اَ مِنَ الْمَقْبُوْلِیْنَ اَمْ مِنَ الْمَطْرُوْدِیْنَ ‘‘ یعنی مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں مقبول ہوا ہُوں یا رَد کردیا گیا ہوں
خوب غور فرمائیے! وہ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جن کو مالک جنت، تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے اپنی حیاتِ ظاہری ہی میں جنت کی بشارت عنایت فرمادی تھی۔ اُن کے خوف وخشیت کا تو یہ عالم ہو اور ہم جیسے نکمے اور باتونی لوگوں کی یہ حالت ہے کہ نیکی کے’’ن‘‘کے نقطے تک تو پہنچ نہیں پاتے مگر خوش فہمی کا حال یہ ہے کہ ہم جیسا نیک اور پارسا تو شاید اب کوئی رہا ہی نہیں !اِس رِقت انگیز حکایت سے اُن لوگوں کو خصوصاًدرسِ عبرت حاصِل کرنا چائیے جو اپنی عبادات پر ناز کرتے ہوئے پھولے نہیں سماتے اور بلا مصلحت شرعی اپنے نیک اعمال مَثَلاً نَماز، روزہ ، حج ، مساجد کی خدمت ،خلقِ خدا کی مدد اور سماجی فلاح وبہبود وغیرہ وغیرہ کاموں کا ہرجگہ اِعلان کرتے پھرتے ، ڈَھنڈوراپیٹتے نہیں تھکتے ، بلکہ اپنے نیک کاموں کی مَعَاذَ اللہ اخبارات ورَسائل میں تصاویر تک چھپوانے سے گریز نہیں کرتے۔
« شہزادے کی عید»
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک مرتبہ عید کے دِن اپنے شہزادے کو پرانی قمیص پہنے دیکھا تو رَو پڑے، بیٹے نے عر ض کی:پیارے اباجان! کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا:میرے لال ! مجھے اَندیشہ ہے کہ آج عید کے دِن جب لڑکے تمہیں اِس پرانی قمیص میں دیکھیں تو کہیں تمہارا دِل نہ ٹوٹ جائے! بیٹے نے جواباً عرض کیا: دِل تو اُس کا ٹوٹے جو رِضائے اِلٰہی کے کام میں ناکام رہا ہویا جس نے ماں یا باپ کی نافرمانی کی ہو، مجھے اُمید ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِضا مندی کے طفیل اللہ تعالٰی مجھ سے راضی ہو جائے گا۔یہ سن کر حضرتِ عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شہزادے کو گلے لگایا اور اُس کیلئے دُعا فرمائی
« شہزادیوں کی عید »
امیرُ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدُ الْعَزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں عید سے ایک دِ ن قبل آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہزادیاں حاضر ہوئیں اور بولیں :’’ ابو جان! عید کے دِن ہم کون سے کپڑے پہنیں گی؟ ‘‘فرمایا: ’’یہی کپڑے جو تم نے پہن رکھے ہیں ، اِنہیں دھل لو، کَل پہن لینا! ‘‘نہیں ! ابو جان! ہمیں نئے کپڑے بنوادیجئے،‘‘ بچیوں نے ضد کرتے ہوئے کہا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’میری بچیو!عید کا دِناللہ ربُّ العزّت کی عبادت کرنے ،اُ س کا شکر بجالانے کا دِن ہے، نئے کپڑے پہننا ضروری تو نہیں ! ‘‘ ’’ ابو جان! ! آپ کا فرمانا بیشک دُرُست ہے لیکن ہماری سہیلیاں ہمیں طعنے دیں گی کہ تم امیرُ المؤمنین کی لڑکیاں ہو اور عید کے روز بھی وُہی پرانے کپڑے پہن رکھے ہیں ! ‘‘ یہ کہتے ہوئے بچیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ بچیوں کی باتیں سن کر امیرُالْمُؤمِنِین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا دِل بھی پسیج گیا۔ خازِن (وزیر مالیات) کو بلا کر فرمایا:’’مجھے میری ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی لادو۔ ‘‘ خازِن نے عرض کی: ’’حضور! کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہیں گے؟‘‘ فرمایا: ’’جَزَاکَ اللّٰہ!بے شک! تم نے صحیح اور عمدہ بات کہی ۔ ‘‘ خازِن چلا گیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بچیوں سے فرمایا: ’’پیاری بیٹیو! اللہ و رَسُولَ کی رِضا پر اپنی خواہشات قربان کردو-
یہ تھا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور بزرگان دین کا طریقہ جو عالم اسلام و عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے اور راہ نجات ہے ،، ان سارے واقعات کی روشنی میں دیکھا جائے تو رمضان مبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لئے امتحان تھا اب اس کے نتائج برآمد ہونے کا وقت ہے چار دن سگریٹ نوشی کرنے والا کہتا ہے کہ سگریٹ پینے کی عادت پڑ گئی باتوں باتوں میں ہنسنے والا کہتا ہے کہ مجھے عادت پڑ گئی چار دن دنیا کے لوازمات حاصل کرنے والا اور کھانے والا کہتا ہے کہ مجھے اچھے سے اچھا کھانے پینے کی عادت پڑ گئی اب تیرا نتیجہ بتائے گا کہ ایک مہینہ روزہ رکھ کر تجھے غرباء ومساکین کے حالات کا احساس ہونے کی عادت پڑی کہ نہیں ، ایک مہینہ نماز پڑھ کر تجھے نماز کی عادت پڑی کہ نہیں ، ایک مہینہ قرآن سننے اور تلاوت کرنے کے بعد تجھے تلاوتِ قرآنِ حکیم کی عادت پڑی کہ نہیں اگر یہ ساری خصوصیات جس کے اندر نظر آئیں تو سمجھو کہ اس کی زندگی میں انقلاب آگیا اور معاملہ اس کے برعکس ہے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ ایک مہینہ رمضان مبارک کے اثرات بھی زندگی پر مرتب نہیں ہوئے –
javedbharti508@gmail.com
++++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
