تازہ ترین
سرینگر بٹہ مالو جھڑپ : ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک ، چار زخمی ، جنگجو فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیا ب
خبر اردو
15اگست سے 3روز قبل سرینگر کے ہائی سیکورٹی زون بتہ مالو علاقے میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے مابین مسلح تصادم میں سیکورٹی فورسز کے 5اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک ایس او جی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ اس دوران محاصرے میں پھنسے جنگجو سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ جھڑپ کے دوران مالک مکان بھی زخمی ہوگیا۔ پولیس نے جائے واردات سے غیر قانونی مواد اورچند دستاویز برآمد کرنے کے علاوہ جنگجوؤں کے 2معاونین کو بھی حراست میں لے لیا۔ اس دوران انتظامیہ نے شہرسرینگر میں کسی بھی امکانی گڑ بھڑسے نمٹنے اور افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس خدمات کو کئی گھنٹوں تک معطل رکھا۔
15اگست سے 3روز قبل شہرسرینگر کے ہائی سیکورٹی زون بتہ مالو علاقے میں جنگجوؤں نے اپنی موجودگی کا پھر ایک باراُس وقت احساس دلایا جب یہاں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی لڑائی شروع ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق فورسز کی مشترکہ جمعیت نے مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر بتہ مالو علاقے کا علی الصبح محاصرہ عمل میں لایا جس دوران یونانی ہسپتال کی نزدیکی بستی میں فورسز اہلکاروں نے گھر گھر تلاشی آپریشن کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس دوران جونہی فورسز مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچے تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے سیکورٹی اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ شروع کی جس کے ساتھ ہی علاقہ گولیوں کی گن گرج سے لرز اُٹھا۔ اس دوران فورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکارنے جونہی مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کی غرض سے تو طرفین کی شدید فائرنگ کے نتیجے میں 5فورسز اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار، ایک ایس اوجی اور سی آر پی ایف کے 3اہلکار شدید زخمی ہوگئے جنہیں شدید فائرنگ کے دوران انتہائی سیکورٹی حصار کے بیچ یہاں سے ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران زخمی اہلکاروں میں ایس او جی سے وابستہ سلیکشن گریڈ کانسٹیبل پرویز احمد ساکن ڈنڈوٹ تحصیل بدھل ضلع راجوری زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔
انہوں نے بتایا ابھی جھڑپ جارہی ہی تھی کہ بتہ مالو اور ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے سیکورٹی فورسز پر سنگ باری کی جس دوران یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ بتہ مالو کے اندرونی علاقوں سے نوجوانوں نے مختلف ٹولیوں میں بٹ کر فورسز پر چہار سو پتھراؤ کیا تاہم فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا لیکن علاقے میں وقفے وقفے سے نوجونواں نے فورسز پر سنگ باری کی۔ اس دوران طرفین کے فائرنگ کے نتیجے میں مالک مکان نیاز احمد بٹ بھی زخمی ہوگیا جنہیں علاج و معالجے کی خاطر ایس ایم ایچ ایس ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔اس دوران کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ میں کمین گاہ سے جنگجوؤں نے فورسز کو چکمہ دے کر فرار اختیار کی۔ سیکورٹی فورسز نے اگر چہ جائے جھڑپ کو کڑے حصار میں لیا تھا تاہم گھماسان کی فائرنگ کے دوران جنگجوؤں یہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سلسلے میں پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ جما عت نے مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر بتہ مالو علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں مخالف آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے یونانی ہسپتال کے قریب گھر گھر تلاشی شروع کی جس دوران یہاں ایک مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر جدید اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ابتدائی فائرنگ کے دوران 3فورسز اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں علاج و معالجے کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں پرویز احمد ساکن راجوری جو کہ ایس او جی سے وابستہ تھے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے۔ پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے یہاں رہائشی مکانات اور سرکاری دفاتر کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی احتیاط کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران شدید گولیوں کے تبادلے کے نتیجے میں فورسز کو قومی امکان ہے کہ جنگجو بھی اس دوران زخمی ہوئے ہوں گے جنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لیے یہاں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران جنگجوؤں کی کمین گاہ سے کچھ غیر قانونی مواد اور دستاویزات برآمدکرنے کے علاوہ جنگجوؤں کے کام کرنے والے 2معاونین بھی گرفتار کئے گئے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔
پولیس نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک کیس درج کیا گیا ہے جبکہ تحقیقات بھی شروع کی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق اس موقعہ پر مالک مکان نیاز احمد بھی زخمی ہوگئے جنہیں ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اُن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ادھر انتظامیہ نے شہر سرینگر میں کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے اور افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے اتوار صبح کو ہی موبائل انٹرنیٹ سروس خدمات کو معطل رکھا تاہم اتوار دوپہر کو انٹرنیٹ سروس کو بحال کیا گیا۔ ادھر جھڑپ میں مارے گئے پولیس اہلکار کی آخری رسومات ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سرینگر میں ادا کی گئی جس دوران یہاں فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کرتے ہوئے مہلوک اہلکار کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔
اطلاعات کے مطابق اس موقعہ پر ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ جات، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آرمڈ (جے اینڈ کے) ڈائریکٹر ویجی لینس (جے اینڈ کے)، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (سی آئی ڈی)، اے ڈی جی پی (سیکورٹی، لاء اینڈ آرڈر، ہوم گارڈس)، آئی جی سی آر پی ایف (آپریشنز)، جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی (جے اینڈ کے)، آئی جی بی ایس ایف، ڈیوژنل کمشنر کشمیر، آئی جی پی آرمڈ کشمیر، آئی جی پی کشمیر، ایڈیشنل کمشنر، آئی جی سی آر پی ایف، ڈی آئی جی وسطی کشمیر، ڈی آئی جی ایس ایس بی، ڈپٹی کمشنر سرینگر، ایس ایس پی سرینگر، کمانڈنٹ آئی آر پی 6بٹالین کے علاوہ دیگر افسران اور اہلکار شامل تھے ۔ KNS
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
