تازہ ترین
15 اگست کے موقع پر گورنر این این ووہرا کا خطاب : نوجوانوں کو تشددکا راستہ ترک کرنے کا دیا مشورہ ، ستمبر سے پنچایتی وبلدیاتی انتخابات کرائے جانے کا کیا اعلان
خبر اردو :
پڑوسی ملک ریاست جموں وکشمیر میں 3دہائیوں سے درپردہ جنگ، تشدد اور غیر یقینی صورتحال کو ہوا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں یہاں تعمیر و ترقی کا باب مکمل طور پر بند ہوا۔ ان باتوں کا اظہارریاست کے گورنر این این ووہرا نے گرمائی دارالحکومت کے سرینگر میں شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں 15اگست کی تقریب کے موقعے پر خطاب کے دوران کیا۔ گورنر نے پڑوسی ملک پاکستان میں نومنتخب حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بننے والی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اسے ریاست جموں وکشمیر میں دہشت گردی کے ایجنڈے کو جاری رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔اگر پڑوسی ملک یہ عزم کرے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو لازمی طور پر دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کے حوالے سے ایک نیا باب رقم ہوگا جس کے نتیجے میں دونوں ملک کے عوام ترقی کریں گے۔انہوں نے عسکری صفوں میں شامل ہوئے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاتشدد سے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے ریاست میں ہونہار اورتعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں تاہم ان میں سے بعض نوجوانوں نے بندوق کو خیر آباد کہتے ہوئے گھر واپسی کی راہ اختیار کی ۔
گورنر نے بتایا کہ ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے جس کے لیے رواں سال کے ستمبر تا دسمبر ان انتخابات کو منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے انتظامیہ میں قابلیت اور جوابدہی کے تصور کو پروان چڑھانے کے لیے تمام سیاسی لیڈران سے آگے آنے اور حمایت کرنے کی اپیل کی۔ 15اگست کی تقریب کے موقعے پر ریاستی گورنر این این ووہرا نے شیرکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں 15اگست کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے یہاں مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے علاوہ جھنڈا لہرایا۔ اس موقعہ پر یہاں سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ ، سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈران، پولیس اور سیول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ، پولیس و سی آر پی ایف اہلکار، طلبا، صحافی اور عام لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنر این این نے اس موقعے پر اپنی تقریر میں پڑوسی ملک پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں درپردہ جنگ ، تشدد اور غیر یقینی صورتحال پر ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسی ملک کی طرف سے ریاست میں مداخلت کے نتیجے میں یہاں ہر سطح پر ترقی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
گورنر نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں گذشتہ 3 دہائیوں سے جاری پڑوسی ملک پاکستان کے درپردہ جنگ، تشدد اور افراتفری کو ہوا دینے سے ریاست کی ترقی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے پڑوسی ملک پاکستان میں نومنتخب حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اسے جموں وکشمیر میں دہشت گردی کا ایجنڈا جاری رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ گورنر نے بتایا کہ ریاست میں جاری تشدد، خون ریزی اور قتل و غارتگری سے انہیں کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں کیوں کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔اگر پڑوسی ملک یہ عزم کرے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو لازمی طور پر دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا باب رقم ہوجائے گا۔ دونوں ملک کے عوام ترقی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں بار بار کی ہڑتالوں کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہاں اضطرابی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا نام لیے بغیر کہا کہ حل طلب مسائل کا حل صرف بات چیت اور افہام و تفہیم میں ہی مضمر ہے۔انہوں نے بتایا کہ تشدد، ماردھاڑ اور زورزبردستی کس بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سبھی لوگوں کو مل بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوران گورنر نے عسکری صفوں میں شامل ہوئے نوجوانوں کو گھر واپسی کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت جو بھی مسائل درپیش ہیں انہیں باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی سلجھایا جاسکتا ہے۔ یہ انتہائی بدقسمی کی بات ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے وادی میں کئی ہونہار اورتعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھائے تاہم ان میں سے بعض نوجوانوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بندوق کو خیر آباد کہتے ہوئے گھر واپسی کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نوجوانوں کو واپس لائیں تاکہ وہ بھی اپنے مستقبل کو محفوظ کرتے ہوئے بہتر زندگی گزار سکیں۔انہوں نے بتایا کہ جب سے میں نے گورنر کا چارج سنبھالا تب سے میں متواتر طور پر بات چیت پر زور دیتے آیا ہوں کیوں کہ تشدد اور افراتفری سے کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔گورنر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں رواں سال کے ستمبر مہینے سے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد ہوگے جس سے ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مستحکم ہونے کا موقعہ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کئی برسوں سے نامساعد حالات کی وجہ سے منعقد نہیں ہوئے تاہم ہمارا یہ عزم ہے کہ رواں برس کے ستمبر مہینے سے ان انتخابات کو منعقد کرایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ زمینی سطح پر جمہوری اداروں کی مضبوطی اور استحکام کے لیے لازمی ہے کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کو منعقد کیا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں ریاست میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈس کو واگذار کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہاں وقت پر پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ہوتے تو ترقی کو یقینی بنانے کے لیے یہاں وافر مقدار میں فنڈس کو واگزار کیا گیا ہو تا لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔گورنر نے بتایا کہ ہمارا عزم ہے کہ ریاست میں ہر سطح پر تعمیر و ترقی کو پروان چڑھایا جائے جس کے لیے رواں برس کے ستمبر اور اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات منعقد کئے جائیں گے جبکہ پنچائتی انتخابات کو اکتوبر تا دسمبر تک مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جونہی یہاں پنچائتی اور بلدیاتی ادارے اپنا کام کاج سنبھالیں گے، اس کے فوراً بعد ریاستی انتظامیہ ان اداروں کو مناسب فنڈس اور تقسیم کار کے لیے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گی تاکہ زمینی سطح پر عام لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے۔گورنر این این ووہرا نے انتظامیہ میں قابلیت ، ہنر اور جوابدہی کے تصور کو پروان چڑھانے کی خاطر تمام سیاسی لیڈران سے آگے آکر حمایت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح ریاست جموں وکشمیر میں ہر سطح پر امن اور ترقی کو بڑھاوا ملے گا اور ریاست مزید چلینجز سے نمٹنے کے لیے کمر بستہ ہوجائے گی۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
