جموں و کشمیر
بہوری کدل میں بھیانک آتشزدگی، تواریخی بازار مسجد ،6شاپنگ کمپلیکس اوردس رہائشی مکان خاکستر 8اہلکار زخمی
سری نگر، جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر کے بہوری کدل علاقے میں آتشزدگی کی ایک بھیانک واردات میں مسجد شریف، 6شاپنگ کمپلیکس اور دس رہائشی مکان خاکستر ہوئے ہیں۔
آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران 8فائر مین زخمی ہوئے جنہیں نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے دو کو نازک حالت میں صدر ہسپتال سری نگر ریفر کیا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ 24فائر ٹینڈروں کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا تاہم آتشزدگی کی اس واردات میں کروڑوں روپیہ مالیت کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق پائین شہر کے گنجان آبادی والے علاقے بہوری کدل سری نگر میں پیر کی سہ پہر آگ نمودار ہوئی جس نے آناً فاناً مسجد شریف ، چھ شاپنگ کمپلیکس اور متعدد رہائشی مکانوں کو لپیٹ میں لے لیا۔
معلوم ہوا ہے کہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے جوائنٹ ڈائریکٹر راج کمار رینا کی سربراہی میں شہر سری نگر کا پورا عملہ 24فائر ٹینڈروں سمیت جائے موقع پر پہنچ گیا اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی۔
نامہ نگار نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکاروں کو آگ بجھانے کے دوران کافی دقتوں کا سامنا کرناپڑ کیونکہ علاقہ کافی گنجان ہے اور شدید آتشزدگی کی وجہ سے بیک وقت کئی ڈھانچوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ جوں ہی مسجد شریف کی اوپری منزل سے آگ نمودار ہوئی تو متعدد گیس سلنڈر زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے اور آگ نے اپنے متصل شاپنگ کمپلیکس اور رہائشی مکانوں کو لپیٹ میں لے لیا۔
آگ کی اس واردات میں مسجد شریف ، چھ شاپنگ کمپلیکس اور دس رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بہوری کدل میں بھیانک آتشزدگی کی وجہ سے مسجد شریف اورچھ شاپنگ کمپلیکس اور دس ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران آٹھ فائر مین زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر غوثیہ ہسپتال خانیار منتقل کیا گیا جہاں سے دو کو صدر ہسپتال سری نگر ریفر کیا گیا۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ آگ کی اس واردات میں پوری بستی خاکستر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کم از کم 15گیس سلنڈر زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس وجہ سے آگ نے بازار مسجد کی بستی کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چند منٹوں کے اندر اندر ہی زائد از ایک درجن رہائشی مکان خاکستر ہوئے ۔
فائر اینڈ ایمرجنسی کے جوائنٹ ڈائریکٹر راج کمار رینا نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ بہوری کدل آتشزدگی میں بہت سارے تجارتی اور رہائشی ڈھانچے خاکستر ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکاروں نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر متعدد رہائشی مکانوں اور تجارتی مراکز کو خاکستر ہونے سے بچایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق آگ کی اس واردات میں مسجد شریف ، چھ کمرشل عمارتیں اور آٹھ کے قریب رہائشی مکانوں کو نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ نقصان میں اضافہ ہونے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا ۔
جوائنٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ 24فائر ٹینڈر رات آٹھ بجکر 30منٹ پر بھی آگ بجھانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہاکہ چونکہ اندھیرا چھا گیا جس وجہ سے نقصان کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ بھیانک آتشزدگی کا واقع تھا اور اس میں متعدد کمرشل اور رہائشی ڈھانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ رپورٹ فائل کرنے تک 24فائر ٹینڈر آگ بجھانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 26نومبر 2023کو بھی تواریخی بازار مسجد میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے مسجد شریف کی اوپری منزل کو نقصان پہنچا تھا۔
یو این آئی – ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا10 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
