جموں و کشمیر
ڈوڈہ تصادم :کیپٹن اور ایس او جی جوان سمیت پانچ اہلکار جاں بحق، آپریشن کا دائرہ جنوبی کشمیر کے جنگلات تک بڑھایا گیا
جموں، جموں وکشمیر کے ڈوڈہ ضلع کے دیسا جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین خونین تصادم میں فوجی کیپٹن ، ایس او جی جوان سمیت پانچ اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع العریض جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ڈوڈہ میں جاری تلاشی آپریشن کا دائرہ اب جنوبی کشمیر کے جنگلات تک وسیع کیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہ ہو سکے۔اطلاعات کے مطابق پیر کی شام آٹھ بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔
ذرائع کے مطابق جوں ہی سلامتی عملے کے اہلکار مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچے تو وہاں تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین ایک گھنٹے تک شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں فوجی میجر ، ایس او جی جوان سمیت سات اہلکار زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہوئے فوجی آفیسر اور جوانوں کو علاج و معالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہاں پر تعینات ڈاکٹروں نے فوجی میجر (کیپٹن) سمیت پانچ اہلکاروں کو مردہ قرار دیا۔باوثوق ذرائع کے مطابق زخمی ہوئے مزید دو فوجی جوانوں کی بھی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔نامہ نگار نے بتایا کہ منگل کی صبح سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع العریض جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر فرار ہونے کے سبھی راستوں پر پہرے بٹھا دئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فوج ، پولیس ، پیرا ملٹری فورس اور پیرا کمانڈوز کو جنگلی علاقے کی اور روانہ کیا گیا ہے تاکہ مفرور ملی ٹینٹوں کوجلدازجلد کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ان کے مطابق کل شام سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین ایک گھنٹے تک دوبدو گولیوں کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد دہشت گردوں کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکاہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے کئی کلومیٹر جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ ایک درجن علاقوں تک وسیع کیا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق ڈرون کیمروں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنگلی علاقے پر نظر گزر رکھی جارہی ہیں جبکہ آس پاس رہائش پذیر لوگوں سے بھی پوچھ تاچھ شروع کی گئی ہے۔دریں اثنا جموں نشین دفاعی ترجمان نے ایکس پر لکھا :’ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے مابین گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں کیپٹن سمیت چار فوجی زخمی ہوئے.انہوں کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیاتاہم وہاں پر تعینات ڈاکٹروں نے چاروں کو مردہ قرار دیا۔
ادھرجموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈوڈہ میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراج پیش کیا ہے۔انہوں نے تعزیتی گلباری تقریب میں شرکت کی اور عظیم قربانی دینے والے کیپٹن برجیش تھاپا، نائیک ڈِی راجیش، سپاہی بیجندر اور سپاہی اجے کی تربتوں پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔انہوں نے کہا ،”میں ان بہادر وں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے مثالی جرات کا مظاہرہ کیا اورقوم کے لئے عظیم قربانیاں دیں۔ قوم بہادروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پوری قوم دکھ کی اِس گھڑی میں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔“موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے منگل کے روز اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ‘ضلع ڈوڈہ میں ہمارے فوجی جوانوں اور جموں و کشمیر پولیس اہلکاروں پر ہوئے بزدلانہ حملے کے بارے میں جان کر بہت دکھ ہوا’۔انہوں نے کہا: ‘میں ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عظیم قربانیاں پیش کرنے والے بہادر جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کے غمزدہ اہلخانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں’۔
منوج سنہا نے کہا: ‘ہم اپنے جوانوں کی موت کا بدلہ لیں گے اور دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے’۔انہوں نے کہا: ‘میں لوگوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد رہنے کی اپیل کرتا ہوں’۔ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمیں درست معلومات فراہم کریں تاکہ ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کرسکیں اور دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو بے اثر کرسکیں’۔
دریں اثنا ڈوڈہ کے دیسا علاقے میں پانچ سیکورٹی فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد تلاشی آپریشن کا دائرہ جنوبی کشمیر کے جنگلات تک بڑھایا گیا ہے کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ملی ٹینٹ جنوبی کشمیر کے جنگلی علاقے کی طرف بھاگ گئے ہیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق ڈوڈہ کے دیسا جنگلی علاقے سے جنوبی کشمیر کے پہاڑی علاقوں تک کی مسافت بہت ہی کم ہے جس کے پیش نظر اب پیر پنچال کے اوپری علاقوں میں بھی سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن لانچ کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ فوج ، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے سینئر آفیسران آپریشن کی از خود نگرانی کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں پیر کی شب دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں چار فوجیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ”ڈوڈہ میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران فوج کے چار بہادر جوانوں کی ہلاکت سے بہت دکھ ہوا ہے۔ سوگوار خاندانوں سے میری دلی تعزیت۔ ملک فرض کی راہ پر قربانی دینے والے ان فوجیوں کے خاندانوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور ہمارے فوجی دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔“
مڈبھیڑمیں ایک فوجی افسر سمیت چار جوان شہید ہو گئے ہیں۔قبل ازیں صبح وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل اوپیندر ترویدی سے بات کی تھی اور انسداد دہشت گردی آپریشن کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
