تازہ ترین
دعاؤں کی قبولیت کے لمحات
پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
__________
اللہ رب العالمین کی ہم انسانوں پر بے شمار اور لا تعداد نعمتوں میں سے ایک عظیم اور بے مثال نعمت دعاء ہے ۔ اللہ رب العالمین بندے کو مخلتف طرح سے آزماتا ہے بندے کا امتحان لیتا ہے کبھی کسی نعمت اور اہم چیز سے محروم کردیتا ہے کبھی رزق میں تنگی اور کبھی مال و اولاد میں فراخی کے ذریعہ ذریعہ آزمائشوں سے دو چار کرتا ہے ایسے حالات اور لمحات میں بندے کو باری تعالیٰ سے منت و سماجت اور دعاء مانگنا چاہئے ۔ دعاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بندے کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے اسی لئے شریعت اسلامیہ نے ہمارے لیے کچھ ایسے اوقات و لمحات کچھ جگہیں مقرر کی ہیں اور کچھ حالات ایسے بتائے ہیں جن میں دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
????نمبر ایک: *رات کے آخری تہائی حصے میں دعا کرنا۔*
صحابی رسول جناب ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟۔ (متفق علیہ)
ترجمہ: ہمارا رب سبحانہ و تعالی ہر رات آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے جب کہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے کون ہے جو مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کروں کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے دوں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کردوں۔
????نمبر دو۔ *سجدوں میں دعا کرنا:*
صحابی رسول جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔ (رواہ مسلم)
ترجمہ:خبردار! یاد رکھو بے شک مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تم لوگ اللہ رب العالمین کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب دعائیں کیا کرو یہ زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔
????نمبر تین۔ *اپنے مسلمان بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا کرنا*
صحابی رسول جناب صفوان بن عبداللہ بن صفوان کہتے ہیں کہ ام درداء نے ان سے کہا: أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ؛ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : ” دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ، كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ : آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ : فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواہ مسلم)
ترجمہ: کیا تم اس سال حج کرنا چاہتے ہو انہوں نے کہا ہاں۔ تو ام درداء نے کہا تو تم ہمارے لیے اللہ تعالی سے خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے مسلمان آدمی کا اپنے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعاء کرنا قبولیت کا باعث ہوتا ہے اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے جو اسی پر مامور رہتا ہے کہ جب وہ اپنے بھائی کے لیے کسی خیر کی دعاء کرے تو وہ موکل فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی جیسی چیز میسر ہو تو صفوان کہتے ہیں پھر میں بازار کی جانب نکل آیا میں نے ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات کی انہوں نے بھی مجھ سے ایسے ہی کہا اور وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔
دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتی؟؟؟
دعاؤں کی عدم قبولیت کا سب سے بڑا سبب حرام کھانا اور حرام کمائی اور حرام تجارتیں ہیں۔
جناب ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } ، وَقَالَ : { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ } ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ : يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ “. (رواہ مسلم).
ترجمہ: اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور صرف پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ اور بلا شبہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو انہیں چیزوں کا حکم دیا ہے جس کا اس نے اپنے پیغمبروں کو حکم دیا. اللہ تعالی نے رسولوں کو فرمایا اے پیغمبرو! تم پاک روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو بے شک جو کچھ تم کرتے ہو میں اسے جاننے والا ہوں۔ اور اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے اس میں سے پاک چیزیں کھاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا تذکرہ کیا جو لمبے سفر پہ ہو، پراگندہ بالوں والا ہو، غبار آلود ہو، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہو، اے رب! اے رب! کہہ کر پکار رہا ہو اس کا کھانا حرام ہو اس کا پانی حرام ہو اس کا لباس حرام ہو اور حرام مال سے اس کی پرورش کی جا رہی ہو تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول کی جا سکتی ہے!!
جناب نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما کی صحیح روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ، قَالَ رَبُّكُمُ : { ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ } (رواہ الترمذی و ابوداؤد)
ترجمہ: دعاء ہی عبادت ہے۔ اللہ رب العالمین نے فرمایا کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
یہ عبادت خالص اللہ کا حق ہے اس کو کسی اور کی جانب پھیرنا درست نہیں ہے اور اس نے اسی چیز کا حکم دیا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ} [يوسف : 40]۔
ترجمہ : (یاد رکھو کہ) اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ ایک اور جگہ فرماتا ہے: “فلا ادعوا مع الله أحدا”۔ (الجن 18)۔
ترجمہ : تم اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔
شرک و کفر کی اکثر صورتیں جو زمانہ ماضی میں اور حال میں بھی لوگوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہیں وہ یہی ہے کہ دعاء جیسی عبادت کو فرشتوں کے لیے انبیاء کے لیے رسولوں کے لیے اولیاء و صالحین کے لیے یا کسی اور کے لیے پھیر دیتے ہیں یعنی اس دعا میں انہیں اللہ کا شریک بناتے ہیں چنانچہ انہیں یہ کہتے ہوئے پکارتے ہیں اے اللہ کے رسول ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دیجیے۔ اے بدوی ہماری مدد کرو یا عبدالقادر جیلانی ہماری خبر لے لو۔ اے حسین ہمیں شفا دے دیجیے اے عیدروس ہماری حمایت کیجیے۔ اے میرغنی ہماری مصیبتیں دور کر دیجیے۔ اے رافعی کچھ تو دے دیجیے۔ لہذا اس قسم کی تمام چیزیں عبادت کو غیر اللہ کی جانب پھیرنا ہے اور یہ وہ شرک ہے جس کی وجہ سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا اور نکل جاتا ہے کیونکہ یہ ایسے کاموں میں غیر اللہ کو پکارنا ہے جس پر صرف اللہ تعالی قادر ہے۔
محترم قارئین! بلند آواز سے چلا چلا کے دعاء کرنا برا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی پر نکیر فرمائی ہے جو ذکر و اذکار میں آواز بلند کرتا ہے۔ صحابی رسول جناب ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى وَادٍ هَلَّلْنَا وَكَبَّرْنَا، ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ؛ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ “. (متفق علیہ).
ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم لوگ کسی وادی میں پہنچتے تو ہم تکبیر و تہلیل کرتے ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلاشبہ وہ تمہارے ساتھ ہے سنتا ہے قریب ہے اس کا نام بڑا بابرکت ہے اور اس کا نصیبہ بڑا بلند ہے.
مشہور مفسر امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دعاء میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے اور یہی اسلاف صحابہ اور تابعین کا عام قول ہے۔
جناب امام آلوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تم اپنے اہل زمانہ میں بہت سارے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دعاء میں چلانے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں خصوصا جامع دعائیں یہاں تک کہ آواز بڑھ جائے اور بہت بلند ہو جائے اور وہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کر کے انہوں نے دو بدعتیں جمع کر رکھی ہیں پہلی بدعت دعا میں بلند آواز کرنا اور دوسری بدعت یہ کام مسجد میں ہونا۔ اسی طرح امام کا مقتدیوں کے ساتھ بلند آواز سے فرض نمازوں میں سلام کے بعد اجتماعی دعا کرنا ہے، چنانچہ امام دعاء کرتا ہے سارے مقتدی اس کے پیچھے آمین کہتے ہیں یہ شریعت اسلامیہ میں غیر معروف چیز ہے اسے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا نہ اس پر صحابہ کرام کا عمل ہے نہ ہی قرون اولی سے ثابت ہے نہ ہی ائمہ اربعہ کا یہ فتوی ہے نہ ہی ان کے شاگردوں سے یہ تعلیم ملی ہے بلکہ حرام بدعت ہے۔
مشہور فقیہ امام شاطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے بعد امام کا اجتماعی دعاء کرنا اس کی سنت سے کوئی دلیل نہیں ملتی جس سے اسے تقویت ملے بلکہ بعض روایات ایسی ہیں جن سے اس کی نفی ہوتی ہے اور جن کی اقتدا واجب ہے وہ سید المرسلین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ سے نمازوں کے بعد جو عمل ثابت ہے وہ یا تو خالص ذکر و اذکار ہیں جس میں دعاء نہیں ہے یا پھر ایسی دعائیں ہیں جو اپنے لیے مخصوص ہوتی تھیں آپ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ نے جماعت کے لیے دعاء کی ہو اور یہی آپ کا پوری زندگی عمل رہا ہے پھر آپ کے بعد خلفائے راشدین کا بھی عمل رہا ہے اور اسلاف صالحین کا بھی عمل رہا ہے۔
محترم قارئین! اہل علم کے نزدیک دعاء میں جو چیز حرام ہے وہ کسی کی عزت یا مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے حق کے واسطے سے اللہ تعالی سے دعاء کرنا اور پکارنا ہے مثلا بعض لوگ دعاء کرتے وقت کہتے ہیں اے اللہ میں تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جاہ کے واسطے سے یا حق کے واسطے سے یا انبیاء کی عزت کے واسطے سے یا تیرے نیک بندوں کی عزت کے واسطے سے یا اس جمعہ کے حق کے واسطے سے دعاء کرتا ہوں کیونکہ دعاء میں جاہ یا حق داخل کرنا قرآن مجید میں ایسی کوئی نص نہیں ملتی اور نہ ہی سنت نبویہ سے اس کا کوئی صحیح ثبوت ملتا ہے نہ ہی صحابہ کرام سے اور تابعین عظام سے اس کا ثبوت ملتا ہے اور جو بھی عمل ایسا ہو اس کو علماء بدعت قرار دیتے ہیں اور بدعت حرام ہے بلکہ یہ سب سے بڑا گناہ اور نافرمانی ہے۔ واللہ اعلم
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
