تازہ ترین
سچائی کا سامنا کریں خود کا بھی محاسبہ کریں!!
تحریر: جاوید اختر بھارتی
جمعہ کا دن ہے لوگ صبح سے ہی گھر آنگن اور کپڑوں کی دھلائی صفائی میں لگے ہوئے ہیں غسل بھی کررہے ہیں اور نئے لباس بھی پہن رہے ہیں ہر شخص اپنی حیثیت اور وسعت کے اعتبار سے تبدیل نظر آرہاہے بچے جوان بوڑھے سبھی کی زبان سے یہی ایک لفظ نکلتا ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے ، آج سید الایام ہے ، آج چھوٹی عید ہے آج ہم جامع مسجد جائیں گے پوری بستی کے لوگوں سے ملاقات ہوگی سب کے حالات سے واقفیت حاصل ہوگی ہم سب ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کریں گے جمعہ کی مبارکباد بھی پیش کریں گے غرضیکہ مؤذن نے اذان کے کلمات بلند کئے لوگ خراماں خراماں مسجد کی طرف کوچ کرنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسجد کھچا کھچ بھر گئی کوئی سنت و نوافل پڑھنے میں مصروف ہے تو کوئی قرآن کی تلاوت میں لگا ہوا ہے تو کوئی ہاتھوں میں تسبیح لے کر ذکر و اذکار کررہا ہے اور سبھی لوگ مسجد کے امام و خطیب کا بڑی بے صبری سے انتظار بھی کررہے ہیں اچانک محراب کے بغل کا دروازہ کھلتا ہے لوگوں نے امام شیخ کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھا
شیخ صاحب سیدھے منبر پر چڑھے، مائیک تھاما اور سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے صبر و استقامت کی تلقین اور اسراف نہ کرنے کے متعلق وعظ کرنے لگے.
حاضرین میں موجود ایک خاکروب بھی تھا، وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ حاضرینِ مجلس و مصلیان مسجد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔ دوران خطبہ اپنی حاجت نہیں پیش کی جاتی، صبر کرو، وعظ مکمل ہو لینے دو۔
خاکروب کہنے لگا کہ وہ عرصہ دراز سے محترم شیخ کی اقتدا کر رہا ہے لہذا اسے بولنے دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے بہتر موقع میسر ہونا مشکل ہے.
خاکروب نے اجازت کا اشارہ پاتے ہی کہنا شروع کردیا:
جناب شیخ: آپ ابھی ابھی لگژری گاڑی سے آئے ہیں، عمدہ ترین لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں،، اور پوری مسجد کو معطر کردینے والی خوشبو میں رچے بسے یہاں تشریف لائے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں چار انگوٹھیاں ہیں، ہر انگوٹھی کی قیمت میری تنخواہ کے برابر ہے، اور آپ کا فون آئی فون ہے۔ ہر سال آپ عمرے کی ادائیگی کے لیے سفر کرتے ہیں.
شیخ صاحب! ایک دن میرے ساتھ میرے کمرے میں چلیں جس کی چھت لوہے کی چادروں سے بنی ہوئی ہے، میری خواہش ہےکہ آپ وہاں ایک رات میرے ساتھ قیام کریں، اور ایئر کنڈیشن کے بغیر سوئیں .. پھر آپ تہجد کے وقت اٹھ کر بھوکے پیٹ میرے ساتھ کام کے لیے نکلیں، میرے ساتھ اس شدید گرمی میں شاہراہوں کو صاف کرنے کے لیے جھاڑو لگائیں، تاکہ آپ کو صبر اور روزے کا حقیقی مطلب معلوم ہوجائے. میں یہی کام ہر روز بلا ناغہ کرتا ہوں تاکہ مہینے کے آخر میں تھوڑی سی رقم مل سکے جو آپ کی خریدی ہوئی عطر کی شیشی کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہوتی..!
معاف کیجیے شیخ! ہمیں صبر سیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تو ہمارا روز اول سے رفیق ہے. بلکہ اس منبر کا تقاضا ہے کہ آپ، سفید لبادوں میں ملبوس کاروباری حضرات کے ظلم و ستم اور اہل علم و دانش کی منافقت کے بارے میں کھل کر بیان کریں …
بے روزگاری اور بھوک کے بارے میں بتائیں، جو معاشرے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہے. مظلوم لوگوں کے استحصال اور غریب کی فاقہ کشی کی بارے میں بتائیں کہ ان کے لیے اہل ثروت کے پاس کیا پالیسی ہے. کرپشن اور عوام کے پیسے کی لوٹ مار کے بارے میں بتائیں. ہمیں طبقاتی تقسیم اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں انصاف کی عدم موجودگی کے بارے میں بتائیں. ہمیں اقربا پروری، موروثیت، اور اپنے کرم فرماؤں کو نوازنے کے بارے میں بتائیں. ورنہ ہمیں آپ کے عمل سے خالی وعظ کی مزید ضرورت نہیں ہے-
آپ کے وعظ ونصیحت کا کچھ حاصل بھی نکلنا چاہئے اور یاد رکھیں کہ بھوک سارے آداب و تہذیب کو بھلا دیتی ہے ایک چوراہے پر کوئی ایسا انسان ملے جس کے پیروں میں جوتے اور چپل نہ ہوں، کپڑے انتہائی بوسیدہ ہوں، چہرے پر جھریاں پڑی ہوں، آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں، تالو میں چھالے پڑے ہوں ، پیشانی پر گہری گہری لکیریں پڑی ہوں ، ہونٹوں پر پوپری پڑی ہوں، بھوک نڈھال ہو اور چلنا پھرنا تو دور اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہ ہو جسم کانپ رہا ہو اس سے آپ سوال کریں کہ ہندو ہو یامسلمان، سکھ ہو یا عیسائی ، دیوبندی ہو یا بریلوی ، شیعہ ہو یا سنی ، اہلحدیث ہو یا بوہرہ تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا کہ میں بھوکا ہوں میں بھوکا ہوں ،، آج کہا جاتا ہے کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے یقیناً غریبی اچھی چیز لیکن بس تقریر و تحریر تک ، وعظ ونصیحت بہت اچھی چیز ہے لیکن بس اسٹیج و منبر تک،، پیسہ ہاتھوں کی میل ہے یہ جملہ بھی زبان خرچی اور زبان کی نوک تک سب ملاکر دیکھا جائے تو آپ کی وعظ ونصیحت و خطبہ بھی آپ کے میٹر چلنے تک ،، ارے ہاتھوں سے پتھر توڑنے والے کو مخمل کی سیز پر بیٹھ کر پتھر توڑنے کا طریقہ بہت آسان ہے ، آج کی تجارتی خانقاہوں کے پیروں کو اپنی جیب بھرنے کے لئے مریدوں کو نذرانے کی اہمیت وفضیلت بتانا بہت آسان ہے ، بزنس کے طور پر اسکول و کالج چلوانے کو غریبوں کے بچوں کو تعلیم کا مشورہ دینا بہت آسان ہے ،، لیکن کبھی سچائی کا سامنا بھی کرنا چاہئے یقیناً تعلیم بہت ضروری ہے لیکن تعلیم ضروری ہے تو مہنگی کیوں ؟ اس پر کب غور ہوگا ،، علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے ارے بھائی علم حاصل کرنے کے لئے چین جانے کا راستہ کب ہموار ہوگا اس پر غور کیوں نہیں ؟ غرضیکہ وعظ ونصیحت سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے مشہور واقعہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک خاتون نے آکر کہا کہ میرا بچہ گڑ بہت کھاتا ہے اسے سمجھا دیں کہ گڑ کھانا چھوڑدے تو امام اعظم نے کہا کہ جاؤ ایک ہفتہ بعد آنا جب ایک ہفتے بعد خاتون دوبارہ حاضر ہوئی تو امام اعظم نے بچے کو سمجھایا اور خاتون سے کہا کہ میں خود بہت گڑ کھاتا تھا تو سمجھانے کا اثر کیسے ہوتا اس لئے پہلے میں نے گڑ کھانا چھوڑا پھر تمہارے بچے کو گڑ نہ کھانے کی نصیحت کی ،، امام اعظم کاہی واقعہ ہے کہ ان کے زمانے میں ایک بکری غائب ہوگئی جب انہیں معلوم ہوا تو گوشت فروخت کرنے والوں سے پوچھا کہ ایک بکری کی کتنی ہوتی ہے علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم نے چودہ سال تک گوشت نہیں کھایا یہ ہے محاسبہ اور یہ ہے تقویٰ ،، آج تو اسٹیج و منبر پر خطبہ دینے والوں سے سوال کردو تو اس کے اوپر نہ جانے کون کون سا ٹائٹل لگ جائے گا اسی وجہ سے سب کچھ ایک رسم ، ایک فن اور کاروبار بنتا جارہا ہے،، ورنہ اٹھاؤ مستند سے مستند روایت میں ملے گا امیر المؤمنین ہیں سارے اسلامی شہروں کے گورنروں کے گورنر ہیں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں ابھی خطبہ دینا شروع ہی کئے ہیں کہ ایک کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ائے امیرالمومنین خطبہ دینا بند کیجئے پہلے یہ بتائیے کہ جتنا کپڑا آپ کو ملا تھا اتنا ہی مجھے بھی ملا ہے میرا کرتا نہیں بن پایا تو آپ کا کیسے بن گیا آپ تو مجھ سے زیادہ تندرست ہیں امیر المؤمنین نے ڈانٹا نہیں ، پھٹکارا نہیں ، غصہ نہیں ہوئے بلکہ اپنے بیٹے سے کہا کہ اس نوجوان کے سوال کا جواب دو بیٹے نے کہا کہ یہ حقیت ہے کہ کپڑا سب کو برابر برابر ملا ہے مگر میں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دیدیا اور دو حصے کا کپڑا ملاکر میرے والد نے کرتا سلایا نوجوان مطمئن ہوگیا اور امیر المؤمنین کا احترام بجا لایا ،، آج کے حالات کے تناظر میں سوچئے کوئی معمولی سے معمولی آفیسر یا ملازم ہوتا، پیر عالم، خطیب و مقرر ہوتا تو سوال کرنے والے کا کیا حشر ہوتا ،، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس واقعے سے یہی سبق ملتا ہے کہ سچائی کا سامنا کریں اور خود کا محاسبہ بھی کریں ورنہ یہی سامعین کل میدان محشر میں تمہارا دامن پکڑیں گے –
javedbharti508@gmail.com om
جاوید اختر بھارتی سابق ( سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
