جموں و کشمیر
پرائیویٹ سکولوں کے لئے راحت: ہائی کورٹ نے ملکیتی زمین حاصل کرنے کی دی ہدایت
سری نگر، ان پرائیویٹ اسکول جن کا رجسٹریشن خطرے میں تھا، کو راحت دیتے ہوئے جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ہدایت جاری کی کہ نجی زمین کے علاوہ دوسری املاک پر چلائے جا رہے اسکول یا تو ملکیتی زمین حاصل کرسکتے ہیں یا اس کے بدلے میں یہ اسکول زمین کے لئے حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں۔
چیف جسٹس (قائم مقام) تاشی ربستان کی جانب سے جاری حکم نامے میں ان تمام اسکولوں سے کہا گیا جنہوں نے عدالت میں در خواستیں دائر کی تھیں کہ وہ چار ہفتوں کے اندر اپنی در خواستیں حکومت کے سامنے جمع کرائیں۔
حکمنامے میں کہا گیا: ‘یہ تمام در خواستیں آج سے چار ہفتوں کے اندر درخواست گذاروں کی طرف سے درج کی جائیں گی،پرنسپل سکریٹری محکمہ سکول ایجوکیشن،جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن ایسی درخواستوں کی وصولی پر، اس کا فیصلہ یا تو خود کریں گے یا ایک کمیٹی تشکیل دے کر، جس میں محکمہ سکول ایجوکیشن اور بورڈ آف اسکول ایجوکیشن اور محکمہ مال کے سینئر افسران شامل ہوں گے،یا کوئی اور محکمہ جو مناسب سمجھا جائے گا، اور ایسی در خواستوں کا فیصلہ چار ماہ کے اندر کرائیں، ایسا کرتے وقت در خواست گذاروں کی بھی سماعت کی جائے گی’۔
جموں و کشمیر انتظامیہ کے اپریل 2022 کے قواعد،جس سے 100 سے زیادہ نجی اسکول اپنی رجسٹریشن کو بر قرار رکھنے کے لئے جد و جہد کر رہے تھے،جس نے محکمہ مال کو ہدیات کی تھی کہ وہ ان سکولوں کی شناخت کرے جو نجی ملکیت کے علاوہ زمین پر تعمیر کئے گئے ہیں تاکہ محکمہ تعلیم کے ذریعہ ان کی رجسٹریشن کو ختم کیا جا سکے۔
حکمنامے میں کہا گیا: ‘جہاں کاہچرائی/ شاملات وغیرہ جیسی زمین پر اسکول چلائے جا رہے ہیں، اس میں در خواست گذار یا تو ملکیتی اراضی حاصل کرسکتے ہیں یا جواب دہندہ یا جواب دہندہ اتھارٹی (پرنسپل سکریٹری برائے محکمہ تعلیم، جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن) کی طرف اپنی درخواستوں جو ان کی طرف سے متعلقہ رٹ درخواستوں میں غور کرنے کے لئے کی گئی ہیں، کے ساتھ رجوع کریں جس میں کاہچرائی/شاملات وغیرہ جیسی زمین کے بدلے ملکیتی زمین کا تبادلہ بھی شامل ہوسکتا ہے جیسا کہ محکمہ مال کے ایکٹ کے تحت دستیاب ہو’۔
عدالت کے حکمنامے میں کہا گیا: ‘رٹ درخواستوں/ کیسز کے ضمن میں جہاں کاہچرائی/ شاملات وغیرہ جیسی اراضی نہ ہو وہ (رٹ در خواست گذار) پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم، جموں وکشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کی طرف بھی آج سے چار ہفتوں کے اندر رجوع کر سکتے ہیں’۔
حکمنامے میں کہا گیا: ‘ایسی در خواستیں موصول ہونے پر وہ یا تو خود فیصلہ کریں گے یا ان کی طرف سے تشکیل شدہ کمیٹی کے ذریعے چار ماہ کی مدت میں فیصلہ کیا جائے گا اور ایسا کرتے وقت درخواست گذاروں کو بھی سنا جائے گا اور تب تک درخواست گذاروں کو اسکول چلانے کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ وہ فوری معاملہ کے زیر التوا حالات میں تبدیلی کے پیش نظر ایسا کرنے کے قابل ہوں کیونکہ ان سکولوں میں زیر تعلیم طلبا کو دوسرے سکولوں میں منتقل کیا گیا ہے’۔
ہائی کورٹ نے کارروائی ختم کر دی اور توہین عدالت کی درخواستیں بند کر دی گئیں۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
