جموں و کشمیر
اپنی پارٹی کا انتخابی منشور جاری، دفعہ 371 کی طرح آئینی ضمانتوں کے لئے کوشش کرنے کا وعدہ
سری نگر، جموں وکشمیر اپنی پارٹی نے بدھ کے روز اسمبلی انتخابات کے لئے انتخابی منشور جاری کیا جس میں مکمل ریاستی درجے کی بحالی،جموں و کشمیر کی خصوصی شناخت کے تحفظ کے لئے آئینی ضمانتوں اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد واپس لئے گئے قوانین پر نظر ثانی اور بحالی کے لئے جد وجہد کرنے کے وعدے کئے گئے ہیں۔
منشور میں جموں وکشمیر میں 5 سو یونٹ فی ماہ مفت بجلی کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
پارٹی کے جنرل سکریٹری رفیع احمد میر نے بدھ کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے منشور میں منسوخ شدہ اور ترمیم شدہ قوانین کی بحالی شامل ہے اور پارٹی ان تمام قوانین پر نظر ثانی کرے گی جو واپس لئے گئے ہیں یا جن میں ترمیم کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے زمین اور ملازمت کے تحفظ کے لئے بھی کوشش کرے گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہماری پارٹی مقامی نوجوانوں کے لئے زمین اور ملازمت کے تحفظ کے لئے آئینی ضمانتیں حاصل کرے گی’۔
پارٹی منشور جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجے کی مکمل بحالی کا بھی وعدہ کرتا ہے۔
مسٹر میر نے کہا: ‘ہم ریاستی درجے کی مکمل بحالی کے لئے انتھک کوشش کریں گے جسیا کہ وزیر داخلہ نے 5 اگست 2019 کو وعدہ کیا ہے’۔
اپنی پارٹی نے اپنے منشور میں وعدہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی ثقافت اور خصوصی شناخت کو بر قرار رکھنے کے لئے آئینی ضمانتوں کے لئے کام کرے گی جیسا کہ کچھ شمال مشرقی ریاستوں میں آرٹیکل 371 کی دفعات کی طرح ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ اس میں زمین اور نوکریوں کا تحفظ شامل ہوگا جس سے لوگوں کا احساس زیاں رفع ہوگا’۔
منشور کے چند اہم نکات کو بیان کرتے ہوئے موصوف جنرل سکریٹری نے کہا کہ ان کی پارٹی نظر بندوں کی رہائی اور نوجوانوں کے خلاف مقدموں کو واپس لینے کے لئے کام کرے گی۔
انہوں نے کہا: ‘صورتحال نارمل ہونے کے ساتھ ہم ان تمام نوجوانوں کو رہا کرانے کے لئے، جنہوں نے گھنائونے جرائم کا ارتکاب نہیں کیا ہے، کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت جیلوں میں بند لوگوں کی قید کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے مقدمات کا جائزہ لینے اور نمٹانے کے لئے ایک فاسٹ ٹریک بورڈ کے قیام کو یقینی بنائیں گے، 2016 کے موسم گرما میں حراست میں لئے گئے نو عمروں جو اب بالغ ہیں، کے خلاف مقدمات کو بھی واپس لے لیا جائے گا تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے سرکاری ملازمتیں حاصل کرسکیں’۔
انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کیبنٹ اور وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو بحال کرنے کے لئے کام کرے گی جن کو حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر کو منتقل کیا گیا ہے۔
اپنی پارٹی کا منشور میں کہنا ہے کہ وہ کشمیر میں موسم سرما (ماہ اکتوبر تا مارچ) ہر صارف کو فی ماہ 5 سو یونٹ بجلی مفت فراہم کرے گی جبکہ جموں میں موسم گرما (اپریل تا ستمبر) میں ایسا کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ‘ہم این ایچ پی سی کی طرف سے چلائے جانے والے ہائیڈل پروجکٹس جو فی الحال دریائے چناب کے پانی کو استعمال کرکے بجلی پیدا کر رہے ہیں، کو جموں وکشمیر کو منتقل کرنے کی کوشش کریں گے اس سے مقامی سطح پر بجلی کی خراب صورتحال کا مسئلہ حل ہوگا’۔
نوجوانوں کے روز گار کے متعلق اپنی پارٹی کا منشور میں وعدہ ہے کہ وہ سیاحت اور صنعت کے میدانوں میں نوکریوں کے مواقع پیدا کرے گی۔
قابل ذکر کے کہ سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے کچھ ماہ بعد سید الطاف بخاری نے اپنی پارٹی کی داغ بیل ڈالی تھی۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران اس پارٹی کے امید واروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
عثمان مجید، ظفر اقبال منہاس اور چودھری ذوالفقار علی سمیت کئی لیڈروں نے پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
