جموں و کشمیر
حالیہ بارشیں زعفران کاشتکاروں کے لئے امید افزا
سری نگر، وادی کشمیر میں طویل خشک موسمی صورتحال سے گرچہ دھان کی فصل اور سبزیاں از حد متاثر ہوئی ہیں تاہم حالیہ بارشوں سے زعفران کی کاشتکاری سے وابستہ کاشتکاروں میں اچھی زعفران پیدوار کی امیدیں جاگزیں ہوئی ہیں
ان کا کہنا ہے کہ اگر ماہ ستمبر میں بھی بر وقت بارشیں ہوئیں تو زعفران کی کافی اچھی پیدا وار متوقع ہے۔
محمد شعبان ڈار نامی ایک کاشتکار نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں کہا: ‘موسمیاتی تبدیلی سے دنیا بھر میں مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہاں بھی اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘بر وقت بارشیں نہ ہونے سے زعفران کی پیدا وار بھی گذشتہ کئی برسوں سے متاثر ہو رہی ہے ماہ اگست اور ستمبر میں وقت وقت پر بارشیں اس فصل کے لئے ضروری ہیں گرچہ اس سال ماہ اگست میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا تاہم گذشتہ دنوں کے دوران ہوئی بارشوں سے ہم اچھی پیدا وار کی امید کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ اگر آنے والے ماہ کے دوران بھی وقت وقت پر بارشیں ہوئیں تو بہترین پیدا وار ہوگی’۔
انہوں نے کہا کہ ماہ اگست کی بارشیں زعفران کی کاشتکاری کے لئے بے حد فائدہ مند ہیں۔
موصوف کاشتکار نے کہا کہ اگر مصنوعی بارشوں کا بند وبست کیا جائے تو پیدا وار کبھی متاثر نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا: ‘مرکزی حکومت نے سال2010 – 2011 میں نیشنل زعفران مشن متعارف کیا تاکہ زعفران کے کاشتکاروں کو سپورٹ کیا جا سکے لیکن اس اسکیم کو بھر پور طریقے سے عمل میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے کاشتکار اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے’۔
انہوں نے کہا: ‘ایران میں زعفران کی کاشتکاری کے لئے مصنوعی بارش کا بند وبست ہے جس کی وجہ سے وہاں اس کی بھر پور پیدا وار ہوتی ہے یہاں بھی اگر ایسا بند وبست کیا جائے گا تو ہم بھی کم سے کم اپنے ملک کی زعفران کی مانگ کو پورا کوسکیں گے’۔
زعفران کی کاشتکاری کے طریقہ کار کے بارے میں محمد شعبان نے کہا: ‘ماہ اگست سے ہم اس کے بیج بونے کا کام شروع کرتے ہیں اور یہ سلسلہ وسط ستمبر تک جاری رہتا ہے اور اس دوران ہونے والی بارشیں کافی کار آمد ثابت ہوتی ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘گذشتہ بیس برسوں سے ماہ اگست میں مناسب بارشیں نہیں ہوئیں جو کشمیر میں زعفران کی پیدا وار میں کمی واقع ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے’۔
ان کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کی طرف سے روایتی کاشتکاری کے طریقے کو ترک کرنے سے بھی پید وار متاثر ہو رہی ہے۔
بازاروں میں دستیاب غیر معیاری اور نقلی زعفران کاشتکاروں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔
موصوف کاشتکار نے کہا: ‘بازاروں میں غیر معیاری اور نقلی زعفران دستیاب ہے اور ایران کا زعفران بھی دستیاب ہے جس سے ہمارے اصلی زعفران پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ کاشتکاروں کے لئے باعث پریشانی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی زعفران سے ہمارے زعفران کی ریٹ میں کمی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایرانی زعفران کی در آمدگی سے ہمارے زعفران کی ریٹ کم ہوئی ہے تاہم اس سلسلے میں حکومت کا بیان کہ کشمیر کی زعفران پیدا وار سے ملک کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ہے حق بجانب ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ملک و بیرونی ملک سے آنے والے سیاح یہاں غیر معیاری زعفران خریدتے ہیں اس کی روک تھام کے لئے موثر کارروائیاں عمل میں نہیں لائی جا رہی ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہمارے زعفران کے کھیت سیاحوں کے لئے بھی کشش کا باعث بن رہے ہیں اور جو سیاح یہاں آتے ہیں وہ ان کھیتوں میں تصوریں کھینچتے ہیں اور ہمارے ساتھ اس فصل کے بارے میں بات چیت بھی کرتے ہیں’۔
زعفران کی موجودہ ریٹ کے بارے میں انہوں نے کہا: ‘زعفران 10 گرام کی قیمت دو ہزار روپیے ہے جبکہ ایک نمبر زعفران جس کو ‘مونگرا’ کہتے ہیں، کے دس گرام کی قیمت 25 سو روپیے ہے’۔
محمد شعبان کا کہنا ہے کہ تحصیل پانپور جو معیاری زعفران کی پیدا وار کے لئے مشہور ہے، کی لگ بھگ ساری آبادی اس کاشتکاری سے وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا: ‘تاہم زعفران کی ریٹ میں کمی واقع ہونے سے نئی نسل اس کی طرف کم دلچسپی رکھتی ہے۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
