ہندوستان
لداخ میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کی اصولی منظوری
نئی دہلی، مرکزی وزارت داخلہ نے ترقی یافتہ اور خوشحال لداخ کی تعمیر کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکز کے زیر انتظام خطہ لداخ میں پانچ نئے اضلاع کی تشکیل کو منظوری دی ہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں اس فیصلے کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے پانچ نئے اضلاع زنسکار، دراس، شام، نوبرا اور چانگتھانگ میں انتظامیہ کو تقویت ملنے سے مقامی لوگوں کو اپنے گھروں کے پاس سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی ان پانچ اضلاع کی تشکیل کے بعد اب لداخ میں کل سات اضلاع ہوں گے جن میں لیہہ اور کارگل شامل ہیں۔
لداخ رقبے کے لحاظ سے مرکز کے زیر انتظام بہت بڑا خطہ ہے۔ اس وقت لداخ میں دو اضلاع ہیں: لیہہ اور کارگل۔ یہ ہندوستان کے سب سے کم آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ انتہائی دشوار گزار اور ناقابل رسائی ہونے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کو اس وقت زمینی سطح تک پہنچنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان اضلاع کی تشکیل کے بعد اب مرکزی حکومت اور لداخ انتظامیہ کی تمام عوامی فلاحی اسکیمیں عوام تک آسانی سے پہنچ سکیں گی اور زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وزارت داخلہ کا یہ اہم فیصلہ لداخ کی ہمہ جہت ترقی میں انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
پانچ نئے اضلاع کی تشکیل کے لیے “اصولی منظوری” دینے کے ساتھ، وزارت داخلہ نے لداخ انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مشورہ دے۔ انتظامیہ کو نئے عہدوں کی تخلیق، ضلع کی تشکیل سے متعلق کسی بھی دوسرے پہلو وغیرہ کو جانچنے کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ اس رپورٹ کی بنیاد پر نئے اضلاع کی تشکیل کی حتمی تجویز وزارت داخلہ کو آگے کی کارروائی کے لیے بھیجے گا۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
طلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں طالب علموں کے احتجاج کے حوالے سے وزیر اعلٰی ہیمنت سورین کو خط لکھ کر مظاہرین سے ذاتی طور پر ملاقات کرنے اور ان کے مطالبات کا حل نکالنے کی اپیل کی ہے راہل گاندھی نے گزشتہ 14 اگست کو مسٹر سورین کو خط لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج آئین میں درج جمہوری حقوق کا اہم حصہ ہے اور کانگریس پارٹی طالب علموں کے اس حق کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں طالب علم ریاست میں منعقدہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے احتجاج کو پرامن قرار دیتے ہوئے طالب علموں کے مطالبات کو جائز قرار دیا۔ خط میں انہوں نے وزیر اعلٰی کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے طالب علموں کے ساتھ بات چیت شروع کیے جانے کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ کئی مطالبات پر حکومت اور طالب علموں کے درمیان اتفاقِ رائے ہوا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک جاری ہے اور کچھ طالب علم غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
کانگریس رہنما نے وزیر اعلٰی سورین سے مظاہرین کے نمائندوں سے خود ملاقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے حکومت کے عزم کو تقویت ملے گی اور طالب علموں کے باقی خدشات کے ازالے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا مستقبل ملک کے نوجوانوں سے وابستہ ہے اور بحران کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان4 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
