ہندوستان
اردو کی ترویج و ترقی کے لئے دہلی حکومت ہرممکن کوشاں ہے : سوربھ بھاردواج
نئی دہلی ، اردو کی اہمیت اور ترویج و اشاعت پر زور دیتے ہوئے مہمان خصوصی حکومت دہلی کے وزیربرائے فن وثقافت والسنہ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اردو کی ترویج و ترقی کے لیے دہلی حکومت ہرممکن کوشش کررہی ہے۔ یہ بات انہوں نے اردو اکادمی ،دہلی کے زیراہتمام کل ہند مشاعرہ جشن آزادی کے موقع پر کہی۔
انہوں نے کہاکہ ہمار ی کوشش تھی کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں جشن آزادی کے موقع پر مشاعرہ ہوتاکہ ہرجگہ کے سامعین اردو شعراکے کلام سے لطف اندوز ہوسکیں اورآزادی کے اس جشن میں شامل ہوسکیں۔انھوں نے انصاری آڈیٹوریم میں موجود سامعین کی بھی تعریف کی اورکہاکہ آپ لوگ بڑے ہی اچھے اورمہذب طریقے سے اس مشاعرے کو سن رہے اورشعراکو داد دے رہے ہیں۔ساتھ ہی انھوں نے اعلان کیاکہ بہت جلد جامعہ کے کھلے میدان میں اردواکادمی کے تحت اس سے بھی بڑے مشاعرے کا انعقاد کیاجائے گا۔
مشاعرے کے مہمان اعزازی اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اپنی مختصر تقریرمیں اردو اکادمی دہلی کی سرگرمیوں اوراس کے کام کرنے کے طریقے کو سراہااور جامعہ میں اپنے طالب علمی کے زمانے کوبھی یاد کیا۔
اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے شعراو سامعین کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ آج کا یہ مشاعرہ جشن آزادی کے تعلق سے منعقد ہورہاہے۔اس سال جشن آزادی کے موقع پر چار مشاعروں کا انعقاد کیاگیااورآج کا یہ مشاعرہ چوتھا اورآخری ہے۔انھوں نے کہاکہ آزادی ہرانسان کا پیدائشی حق ہے اوروہ آزادی کا متوالاہوتاہے اورآزادی کے لیے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرسکتاہے۔آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتاہے کہ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے حصول کے لیے ہرطرح کی قربانی دی اورملک کو آزاد کرایا۔ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم آزاد ہیں اورآزاد ملک میں رہ رہے ہیں۔یوم آزادی کے موقع پر مختلف طرح کے پروگرام کا انعقاد کیاجاتاہے انہی میں سے ایک مشاعرہ بھی ہے،مشاعرہ صرف سننے سنانے کانام نہیں ہے بلکہ یہ ایک تہذیب ہے۔آزادی کے موقع پر اس طرح کے پروگراموں کاانعقاد اس لیے ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو پتہ چلے کہ ان کے بڑوں نے کتنی محنت ومشقت اورجدوجہد کے بعد اس ملک کو آزاد کرایا۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پراردواکادمی ،دہلی ہندوستان کی سب سے فعال اورمتحرک اکادمی ہے،جہاں مختلف نوعیت کے ادبی وثقافتی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔اکادمی کے ذریعے منعقد کیے جانے والے مشاعرے کی شہرت اوردھوم پوری ارد و دنیامیں ہے،خاص طور پر یوم آزادی اوریوم جمہوریہ کے موقع پراردو اکادمی، دہلی تاریخ ساز مشاعرے کا اہتمام کرتی ہے جن میں ملک کے اہم شعراکو مدعوکیاجاتاہے۔اردواکادمی، دہلی نے اس سال جشن آزادی کے موقع پر مشاعرے کی سیریز کا انعقاد کیاجس کے تحت چارمشاعرے چارالگ الگ مقامات پر منعقد کیے گئے۔پہلامشاعرہ ’بزم سخن ‘کے عنوان سے 23؍ اگست کو ہندی بھون میں،دوسرامشاعرہ ’رنگ سخن‘کے عنوان سے 27؍ اگست کو امبیڈکرکالج میں اور تیسرامشاعرہ ’ایک شام شاعری کے نام‘ سے غالب اکیڈمی نظام الدین میں منعقد ہواتھا۔ اس سلسلے کا آخری مشاعرہ ’محفل شعر وسخن‘ کے عنوان سے 30؍ اگست کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے صدر مشاعرہ اظہر عنایتی اور تمام شعرا کو پودا پیش کرکے استقبال کیا ۔
مشاعرے میں اردو اکادمی کے گورننگ کونسل کے ممبران میں سے علیم الدین اسعدی ،محمد ضیاء اللہ، محمدمزمل ،محسن الحق اور محمد حسیب کے ساتھ پروفیسر رحمن مصور،ڈاکٹرخالد مبشر، ڈاکٹرجاویدحسن، ڈاکٹرخان محمدرضوان،ڈاکٹرزاہدندیم،ڈاکٹرضیاء المصطفی اوران کے علاوہ کئی شخصیات اورکثیرتعداد میں جامعہ کے طلبہ وطالبات شریک تھیں۔ مشاعرے کی شاندارنظامت مشہورو معروف ناظم اوربہترین شاعر ابرار کاشف نے کی۔ان کی نظامت اور ان کے پڑھے گئے اشعار پر سامعین نے خوب داد دی،مشاعرے کا باضابطہ آغاز تاجور سلطانہ کے قومی گیت سے ہوا۔مشاعرے میں پڑھے گئے منتخب اشعار پیش ہیں:
یہ نیاعدل جہانگیرہمارے لیے ہے
جرم کوئی کرے زنجیرہمارے لیے ہے
اظہرعنایتی
اس راہ سے ہم بچ کے نکل آئے ورنہ
بیٹھی تھی کمیں گاہ میں رسوائی ہماری
پروفیسراحمدمحفوظ
میں ہوں جس حال میں اے میرے صنم رہنے دے
چاقو مت دے میرے ہاتھ میں قلم رہنے دے
پاپولرمیرٹھی
ہارہوجاتی ہے جب مان لیاجاتاہے
جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیاجاتاہے
شکیل اعظمی
خواب کی طرح حقیقت میں بناجائے مجھے
کوئی مشکل کی گھڑی ہوتوچناجائے مجھے
ابرارکاشف
درختوں سے تھااک رشتہ ہمارا
زمین ان کی تھی اورسایہ ہمارا
اظہراقبال
ہندومسلم سکھ عیسائی سب ہیں ہندوستانی
اک دوجے کی خاطر پیداکریں گے ہم آسانی
تاجورسلطانہ
رقص بسمل کی مرے دل کو ادابھی آئے
مجھ سے بچھڑوتو تڑپنے کا مزہ بھی آئے
جاوید نسیمی
ترے ساتھ نہیں ہیں تو احساس ہوا
اک تصویر کی کتنی قیمت ہوتی ہے
عادل رشید
ابھی تو چاک پر جاری ہے رقص مٹی کا
ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے
علینہ عترت
جی رہاہے جو بس صرف اپنے لیے
اس سے کہہ دو وہ اک روز مرجائے گا
سلیم حیدر
حادثوں نے سکھادیامجھ کو
جس طرف خوف ہوادھرجانا
قدم سنبھال کررکھنے کی جو خو ہے مری
ہزار بار پھسلنے کے بعدآئی ہے
صہیب فاروقی
اس لیے ترے قریب آتے ہوئے ڈرتاہوں
روز اک چیز مرے ہاتھ سے کھوجاتی ہے
شاہ رخ عبیر
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
