جموں و کشمیر
وزیر اعظم نریندر مودی کا تمام وعدوں کو پورا کرنے و دیگر کئی اہم امور پر تفصیلی خطاب
سری نگر وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو موزون وقت پر پورا کرنے، جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کا جال بچھانے اور دوسرے اہم معاملات پر کھل کر بات کی۔انہوں نے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کی جھلکیاں :
لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عزم دہرایا :
نریندر مودی نے کہا: ‘آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ یہ مودی ہے جو اپنے تمام وعدوں کو پورا کرتا ہے’۔انہوں 7ے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر ملک کا تاج ہے اور میں اس تاج کو خوبصورت اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں’۔
نریندر مودی نے کہا: ‘جموں و کشمیر میں امن کا ماحول چھایا ہوا ہے جس کے شعبہ سیاحت پرمثبت اثرات کو دیکھا جا رہا ہے اور آج کشمیر ترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کو بہت جلد ٹرین کے ذریعے ملک کے ساتھ جوڑا جائے گا اور اس حوالے سے یہاں لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔
سونہ مرگ ٹنل کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سونہ مرگ ایک سیوک کی حیثیت سے آئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ اس ٹنل سے جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کی سختیاں دور ہوں گی۔نریندمودی نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میں بی جے پی کے ایک کارکن کی حیثیت سے کشمیر آیا کرتا تھا اور گھنٹوں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتا تھا’۔انہوں نے کہا: ‘دو روز قبل ہمارے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایکس ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کیں جنہیں دیکھ کر میں آپ لوگوں کے درمیان آنے کے لئے بے صبری سے انتطار کر رہا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘جب میں بی جے پی کا کارکن تھا تو میں یہاں اکثر و بیشتر آیا کرتا تھا، میں نے یہاں خواہ وہ سونہ مرگ ہے، گلمرگ ہے، بارہمولہ ہے یا گاندربل ہے، کافی وقت گذارا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہم یہاں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتے تھے ان دنوں بھی بھاری برف باری ہوتی تھی لیکن یہاں کے لوگوں کا جوش ہمیں کبھی سردی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا’۔
لال چوک اور پولو وویو کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ لالچوک میں رات بھر بازاروں کی رونقیں بحال رہتی ہے اور لوگ یہاں پر آئیس کریم کھانے آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیو وویو ایک نئے سیاحتی مرکز کے طورپر ابھر کر سامنے آرہا ہے اور یہاں آرٹسٹ اپنے ہنر دکھا کر سیاحوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ان کے مطابق کشمیر کے لوگ اب فلمیں دیکھنے کے لئے سینما جاتے ہیں اور آرام سے خریداری کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حالات بدلنے والے اتنے سارے کام کوئی سرکار اکیلے نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لئے عوام الناس کا تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر کےلوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کیا جس سے ان کا مستقبل بھی روشن ہوا ہے۔
پی ایم مودی نے کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ اس تاج میں مزید نکھار آجائے ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں نے اپنے سپنوں کو بدلنے کی خاطر کافی محنت کی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مودی آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا۔انہوں نے کہاکہ جو کوئی بھی لوگوں کے سپنوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرئے گا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا۔
کشمیر کو ریلوے سے جوڑنے کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا: ‘ اب کشمیر کو ریلوے سے جوڑا جا رہا ہے عوام ترقیاتی کاموں سے خوش ہیں سکول اور کالج بن رہے ہیں یہ نیا جموں و کشمیر ہے پوری قوم ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں مصروف ہے یہ تب ممکن ہے جب معاشرے کے کسی بھی طبقے کو ترقی کی دوڑ میں نظر انداز نہ کیا جا سکے’۔انہوں نے کہا:: ‘گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے جموں وکشمیر میں امن اور ترقی کے ماحول کے فائدے دیکھے ہیں اور سال گذشتہ کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں جموں کشمیر میں ریل اور روڈ رابطے کے کئی پروجیکٹوں کا مکمل کیا جائے گا۔
زیر تعمیر زوجیلا ٹنل کے بارے میں :
زوجیلا ٹنل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑے پروجیکٹ کی تکیمل قریب ہےاور اب کشمیر ریل میں بھی شامل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘مرکز میں ہماری حکومت آنے کے بعد سونہ مرگ ٹنل پر سال 2015 میں کام شروع کیا گیا تھا اور میں خوش ہوں کہ ہماری ہی حکومت میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا’۔کشمیر میں جاری سرد ترین موسم ‘چلہ کلان’ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘یہ موسم سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات کے لیے نئے مواقع لے کر آتا ہے کیونکہ اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملک بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں’۔
سیاحت اور تعمیر وترقی کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر میں امن اور ترقی کا جو ماحول بنا ہے اس کا فائدہ سیاحتی شعبے کو ملا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2024میں زائد از دو کروڑ سیاح وارد جموں وکشمیر ہوئے۔ سونہ مرگ میں گزشتہ دس برسوں میں چھ گنا سیاحوں نے قدرتی نظاروں سے لطف اٹھایا اور اس کا فائدہ یہاں کے لوگوں کو پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ سیاحت میں ترقی کی وجہ سے ہوٹل والوں، ہوم سٹے والوں، ڈھابہ والوں ، ٹیکسی والوں غرض سبھی کو فائدہ پہنچا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ گزشتہ دس برسوں کے دوران جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کے بہت سارے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پر امن ماحول سے ہی تعمیر وترقی ممکن ہے لہذا میں کشمیر کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے سرکار کو ہر سطح پر بھر پور تعاون فراہم کیا ۔
اکیسویں صدی کے کشمیر کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ اکیسویں صدی کا جموں وکشمیر آج تعمیر وترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے ، مشکل دنوں کو چھوڑ کر ہمارا کشمیر پھر سے زمین پر جنت ہونے کی پہچان کی طرف واپس بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران مرکزی سرکار نے جموں وکشمیر کو امن کا گہوارا بنایا ہے اور آج سری نگر کے بازروں میں رات بھر رونقیں بحال رہتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی واپسی میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں، بزرگوں، دوشیزاوں اور خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
کشمیرکی خوبصورتی کے بارے میں:
وزیر اعظم نریندر مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور اس تاج کو مزید خوبصورت بنانے میں یہاں کے لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیںانہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی خاطر سرکار کے ساتھ تعاون فراہم کیا۔
پی ایم مودی نے کہا :’میں کشمیر کے لوگوں کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کے سبھی خواب پورے ہونگے اور یہ مودی کا وعدہ ہے :‘
کشمیر کی مہمان نوازی کے بارے میں:
وزیر اعظم نے کہاکہ وادی کی سیر وتفریح پر آنے والے سیاح یہاں کی مہمان نوازی سے کافی خوش نظر آرہے ہیں۔یہاں وادی میں اس وقت چلہ کلان ہوتا ہے چالیس روزہ اس موسم کا لوگ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور اس کا ایک اور پہلو ہے کہ یہ موسم سونہ مرگ سیاحتی مقام کے لئے نئے مواقعے بھی لاتا ہے۔ ملک بھر سے سیلانی یہاں پہنچ رہے ہیں۔ کشمیر کی وادیوں میں آکر وہ لوگ آپ کی مہمان نوازی کا بھر پور آنند لیتے ہیں۔
مرکزی اسکیموں کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ مرکزی اسکیم کے تحت غریبوں کو مفت رہائشی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور آنے والے وقت میں مزید تین کروڑ نئے گھر تعمیر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج بھارت میں کروڑوں لوگوں کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولیات میسر ہیں اور اس کا فائدہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں نئے آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز ، نئے ایمز ، نئے میڈیکل کالجز ، نرسنگ کالجز اور پالی ٹینک بن رہے ہیں۔ان کے مطابق جموں وکشمیر مین بھی گزشتہ دس سالوں میں ایک سے بڑھ ایک ایجوکیشن انسٹی چیوٹ بنائے گئے جس کا فائدہ یہاں کے نوجوانوں کو مل رہا ہے۔
کشمیر میں کھیل کود کو فروغ دینے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ سری نگر میں گزشتہ سال انٹرنیشنل میراتھن کا اہتمام ہوا ۔ مجھے پوری طرح یاد ہے کہ اس میراتھن میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حصہ لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ دہلی میں ملاقات ہوئی تو انہیں میراتھن میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کی ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حال ہی میں چالیس برسوں کے بعد سری نگر میں انٹرنیشنل کرکٹ لیگ کا اہتمام ہوا ۔ نیز جھیل ڈل کے اردگرد کار رسینگ کے نظارے دیکھ کر سیاح بھی جھوم اٹھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گلمرگ تو ایک طرف سے ونٹر گیمز کا دارلخلافہ بنتا جارہا ہے، گلمرگ میں لگاتار چار کھیلو انڈیا ٹورنمنٹ کا انعقاد ہوا اور امسال بھی گلمرگ میں ہی کھیلو انڈیا کے میچز ہونگے۔
مودی نے کہا :’گزشتہ دو سال کے دوران ڈھائی ہزار کھلاڑی جموں وکشمیر آئے اور یہاں زائد از نویں کھیلو انڈیا سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں پر چار ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ انڈسٹری قائم کی جائے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 13ہزار کروڑ روپیہ کی سرمایہ کاری سرکار کو موصول ہوئی ہے اور اسے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار مل پائے گا۔ان کے مطابق موجودہ مرکزی سرکار کی یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو اور اس کے لئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
جموں وکشمیر بینک کے بارے میں :
وزیر اعظم مودی نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک بھی اب بہتر کام کررہا ہے اور اس کا بزنس ایک لاکھ ساٹھ ہزار کروڑ سے بڑھ کر دو لاکھ تیس ہزار کروڑروپیہ تک پہنچ گیا ہے یعنی بینک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک کی جانب سے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی خاطر لون بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر بینک کی ترقی سے یہاں کے نوجوانوں، کسانوں، باغبانوں ، دکانداروں اورکاروباریوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے: سنہا
سری نگر، ترنگے کو ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت بتاتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ کشمیر میں ترنگا یاترا واضح پیغام دیتی ہے کہ ملک کو کبھی نہیں رکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔
مسٹر سنہا نے قومی فخر اور اتحاد کا جشن منانے کے لیے سری نگر میں ترنگا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا دو بڑے واقعات کا سنگم تھی: ‘ہر گھر ترنگا’ عوامی تحریک اور قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی 150 ویں سالگرہ۔
اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ ترنگا ہندوستان کے شعور اور فخر کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پیغام واضح ہے کہ ہندستان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے اور ہمیشہ آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “جب ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ کے تحت 2022 میں ‘ہر گھر ترنگا’ مہم شروع کی گئی تھی تو اس کا مقصد ہر ہندوستانی کے دل میں ترنگے سے تعلق، احترام اور جذباتی تعلق کے احساس کو پھر سے جگانا تھا۔ جذبہ، وہی عقیدہ، اور وہی عزم آج، ترنگا یاترا لوگوں کے شعور، حب الوطنی کی روایت اور ایک ثقافتی قدر کے طور پر تیار ہوئی ہے جو ہر شہری کو مادر وطن سے جوڑتی ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ مہم میں ان کی زبردست شرکت کے لیے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جوش پورے ملک کے لیے مشعل راہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا ہمارے ملک کی روح ہے اور ‘وندے ماترم’ اس روح کی لازوال آواز ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمارے آباؤ اجداد کے تصور کردہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنے تعاون پر غور کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہداء نے اپنے خون سے قوم کی حفاظت کی وہیں آج کی نسل کو کردار، دیانت، محنت، اتحاد اور خدمت کے ذریعے اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر گھر ترنگا’ اور ‘وندے ماترم’ کا سنگم صرف دو مہمات کا امتزاج نہیں بلکہ ایک نئے دور کا اعلان ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ جموں و کشمیر کے اعتماد سے بھرے اور مستقبل کی طرف مضبوطی سے آگے بڑھنے کی علامت ہے، جہاں ہر شہری کے پاس ‘وجئی وشوا ترنگا پیارا’ رہنے کا عزم ہے، جہاں ہر گھر حب الوطنی کا مرکز ہے، اور جہاں ہر دل قومی اتحاد کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل میں اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ترنگا نہ صرف ہر گھر میں بلکہ ہمارے خیالات، ہمارے کردار اور ہمارے اعمال میں بھی بلند ہو۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، “آئیے یہ عزم کریں کہ ‘وندے ماترم’ کے مقدس جذبے کو ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر ذمہ داری میں جھلکنا چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی قوم کی تعمیر کے ذریعے اپنے لازوال ہیروز کی قربانیوں کا قرض چکانے کا عزم کرنا چاہیے، جو خوشحال، محفوظ، انصاف پسند اور مساوی مواقع کے دروازے کھولے، جہاں ہمیں جموں کے ہر شہری کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترنگے کے رنگ زندگی کی قدروں میں جھلکتے ہیں جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہو اور ہندوستانی ثقافت، تہذیب اور روحانی اقدار پر غیر متزلزل فخر محسوس کرے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں 7 تا 10 ستمبر تک بین الاقوامی فلم فیسٹیول
جموں، جموں و کشمیر میں آنے والے سات سے دس ستمبر تک پہلی بار چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات و تعلقات عامہ ڈائرکٹوریٹ (ڈی آئی پی آر) نے اس فیسٹیول کا خاکہ تیار کیا ہے۔ یہ فیسٹیول نہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں تک بین الاقوامی سنیما کو پہنچائے گا، بلکہ مقامی صلاحیتوں کو فلمی صنعت کی معروف شخصیات کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور پیشہ ورانہ نیٹ ورک بنانے کا شاندار موقع بھی فراہم کرے گا۔
جموں و کشمیر کے فنکاروں نے اس پہل کی تعریف کرتے ہوئے اسے مقامی صلاحیتوں اور سنیما سے جڑے وسیع تر طبقے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
سال 2014 میں اپنی ڈوگری فلم ‘گیتیئاں’ کی ریلیز کے بعد سرخیوں میں آئے جموں و کشمیر کے معروف ڈائریکٹر راہل شرما نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) ایک شاندار پہل ہے۔ انہوں نے کہا، “سنیما میں دلوں اور ذہنوں کو جیتنے کی ایک منفرد صلاحیت ہے، جو ہماری ثقافت، جدوجہد اور کہانیوں کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس سطح کے اہتمام بین الاقوامی سطح پر جموں و کشمیر کی بھرپور صلاحیتوں کو یقینی طور پر بیدار کریں گے۔ میں ان تمام شعبوں اور حصہ داروں کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس خواب کو شرمندہ تعبیر کر رہے ہیں۔”
جموں و کشمیر کے تھیٹر اور بڑے پردے کی ایک اور معروف شخصیت کسم ٹیکو نے کہا، “بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی میزبانی کرنا حکومت کا ایک خیر مقدمی قدم ہے۔ یہ ہمارے خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ نہ صرف مقامی فنکاروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دنیا بھر کی صنعت کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور نیٹ ورکنگ کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے مشہور فنکار پنکج کھجوریا نے بتایا کہ 1947 میں آزادی کے بعد جب سے ہندوستان میں فلمیں بننا شروع ہوئیں، تب سے شاید ہی کوئی ایسا فلم ساز رہا ہو جو اس بات سے ناواقف ہو کہ جموں و کشمیر، بالخصوص کشمیر، ہمیشہ سے فلمی شوٹنگ کے لیے پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 تک یہاں کئی فلموں کی شوٹنگ ہوئی اور کئی فلموں کی کہانیاں کشمیر پر مبنی رہیں۔ رامانند ساگر اور وید راہی جیسے جموں کے فلم سازوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے مزید فلم ساز جموں و کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول ہندستانی سنیما کو فروغ دے گا اور مقامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت کو بھی بڑا تحرک دے گا۔
جموں کے فلم ساز اور صنعت کار اتل ونود دگل نے بھی اس قدم کو گیم چینجر قرار دیا۔ ‘شکارہ’، ‘ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا’، ‘دی اسکائی از پنک’ اور ’12ویں فیل’ جیسی کئی بالی ووڈ اور علاقائی فلموں سے وابستہ مسٹر دگل نے امید ظاہر کی کہ یہ تقریب ہر سال منعقد کی جائے گی۔
دریں اثنا، بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے سلسلے میں جموں میں منعقدہ ایک تقریب میں ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل نے کہا کہ جموں و کشمیر دہائیوں سے فلموں سے گہرے طور پر جڑا رہا ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے جموں و کشمیر کی پہچان اکثر سنیما کے ذریعے ہی پہنچی ہے، اس لیے اب یہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا ہونا مکمل طور پر مناسب ہے۔
محترمہ سنگھل نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد جموں و کشمیر میں فلم سازی کے جذبے کو دوبارہ بیدار کرنا اور اسے ایک اہم فلم شوٹنگ کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ سیکھ سکیں، قائم شدہ شخصیات سے رابطہ قائم کر سکیں اور خود آگے بڑھ سکیں۔
ڈائریکٹر اطلاعات نے بتایا کہ فیسٹیول کے دوران بین الاقوامی، قومی اور علاقائی سنیما کی فیچر فلموں، شارٹ فلموں اور ڈاکیومنٹریز کی اسکریننگ کے علاوہ فلم سازی کے جدید پہلوؤں پر ماسٹر کلاس اور تکنیکی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان2 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
