تازہ ترین
ویڈیو:بلدیاتی انتخابات نتائج ، کیا کشمیر میں کنول کا پھول اب حقیقت بن رہا ہے؟
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں 13برس کے طویل وقفے کے بعد منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتا صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں میں جیت درج کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی سنیچر صبح 8بجے سے ہی جموں، کشمیر اور لداخ کے الگ الگ مراکز پر شروع کی گئی ۔ اس موقعے پر 1145حلقوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور آزاد اُمیدواروں کی طرف سے 3372درخواست نامزدگی داخل ہوئیں جبکہ 8، 10، 13اور 16اکتوبر کو ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان نے اپنی رائے حق دہی کا استعمال کرتے ہوئے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے من پسند اُمیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے دوران اگر چہ جموں اور لداخ میں عوامی کی بھاری تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے ووٹ ڈالے تاہم وادی کشمیر میں پولنگ مراکز پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔
کشمیر کے 598حلقوں پر 231اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 181حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی۔سنیچر کو ووٹنگ کی دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتہ صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی نے خطہ لداخ کے لیہہ صوبے میں سبھی 13حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کو ووٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس پارٹی کے کارکنان نے خوشیاں منائی جب یہاں پارٹی نے سبھی حلقوں پر جیت درج کرلی۔ معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی جنہوں نے لداخ ترقیاتی کونسل انتخابات میں چند ہفتے قبل ہی جیت درج کرلی تھی ، بلدیاتی انتخابات کے دوران یہاں اپنا کھاتہ نہ کھول سکی۔ ادھر کرگل میں بھی کانگریس نے 5وارڈوں پر جیت درج کرتے ہوئے بی جے پی کے لیے یہاں بھی زمین تنگ کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر 8حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے جیت درج کرلی ہے۔
خطہ چناب کے بانہال علاقے میں بھی کانگریس نے بھی بی جے پی کو کھاتہ کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ کانگریس نے 4حلقوں پر جیت درج کرلی ہے جن میں 2خواتین اُمیدوار بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جنوبی قصبہ اننت ناگ میں کانگریس نے 25حلقوں میں سے 20حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اننت ناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 20حلقوں میں سے 16حلقوں پر 240ووٹ حاصل کئے جبکہ یہاں 9حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے تھے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ میونسپل کمیٹیپر کانگریس نے جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس نے 12میونسپل کمیٹیوں پرجبکہ بی جے پی نے 6میونسپل کمیٹیوں پر جیت درج کی۔تفصیلات کے مطابق بارہمولہ میونسپل کمیٹی میں 15حلقوں پر ووٹنگ منعقد کی گئی جن میں کانگریس نے 8، بی جے پی نے 5اور 2آزاد اُمیدواروں نے میدان مار لیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہاں کانگریس نے 4نشستوں پر بلامقابلہ جیت درج کرلی جبکہ بی جے پی اور آزاد اُمیدوار نے بھی ایک ایک سیٹ پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔ سیکورٹی نوعیت سے حساس مانے والے جنوبی کشمیر میں کانگریس پارٹی نے کم ہی نشستوں پر جیت درج کرلی جبکہ یہاں بی جے پی کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے.
تفصیلات کے مطابق مٹن میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقوں میں سے بی جے پی نے 7پر جیت درج کرلی ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے 2نشستیں یہاں سے حاصل کی ہیں۔کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سے کانگریس نے 10پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ یہاں 2آزاد اُمیدوار بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت حلقہ جات میں صرف 4حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ 8حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح یہاں 1حلقہ انتخاب پر کسی بھی پارٹی نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی تھی۔ وسطی ضلع گاندربل میں ووٹنگ کے دوران جو نتائج سامنے آئے ان کے مطابق 13حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ بی جے پی اور کانگریس پارٹی نے 2، 2نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ 5حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔شمالی کشمیر کے ہندوارہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سبھی 13سیٹوں پر آزاد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 13میں سے صرف 7حلقوں پر ووٹنگ منعقد ہوئی جہاں آزادی اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ 6حلقوں پر بھی آزاد اُمیدواروں نے بلامقابلہ جیت درج کرلی۔بانڈی پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس نے 17میں سے 12حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ بی جے پی نے 3نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 2حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے بھی میدان مارلیا ہے۔
حاجن میونسپل کمیٹی پر کانگریس نے 10نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ، اسی طرح سنبل میونسپل کمیٹی میں کانگریس نے8نشستیں حاصل کرلی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 8حلقوں پر آزاداُمیدواروں نے ہی میدان صاف کیا۔ ادھر بی جے پی نے جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ کے تحت آنے والی میونسپل کمیٹیوں پر 53حلقوں پرجیت درج کرتے ہوئے 20میونسپل کمیٹیوں پر قبضہ جمالیا جبکہ کانگریس بھی جنوبی اضلاع میں 28حلقوں پر جیت درج کرنے کے ساتھ ہی 3میونسپل کمیٹیوں پر قابض ہوگئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی نے جنوبی کشمیر کی شوپیان میونسپل کمیٹی میں اچھے نمبرات حاصل کرلیے ہیں جس کے تحت پارٹی 12حلقوں پر بلامقابلہ کامیاب قرار پائی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ہی دیوسر میونسپل کمیٹی پر بی جے پی نے 8سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔پارٹی نے قاضی گنڈ میں اپنا کھاتہ کھولتے ہوئے 7میں سے 4حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح پہلگام میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 13حلقوں پر بی جے پی نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کرائی تھی جس کے نتیجے میں بی جے پی کے لیے جیت یقینی بن چکی تھی۔
ادھر جنوبی قصبہ کی ڈورو میونسپل کمیٹی جوکانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا حلقہ انتخاب ہے، کے تحت آنے والے 17حلقوں میں سے کانگریس نے 14پر جیت درج کرلی ہے . کوکرناگ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس پارٹی نے 8حلقوں میں سے 6حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح یاری پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی پارٹی نے 13نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ادھر وسطی ضلع بڈگام میں کانگریس نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 6نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوا ہو اہے کہ یہاں بی جے پی نے 4نشستیں حاصل کیں۔اسی طرح یہاں کانگریس پارٹی چرار میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 18حلقوں پر جیت درج کرلی۔ پارٹی نے چاڈورہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 8حلقوں میں سے 6پر کامیابی کا جھنڈا گاڑدیا ۔ادھر جموں میں بی جے پی نے میدان مارتے ہوئے کانگریس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 43حلقوں پر جیت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق جموں کے 75حلقوں پر بی جے پی نے 43، کانگریس نے 14اور آزاد اُمیدواروں نے 18حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ادھر ووٹوں کی گنتی عمل میں لانے کے لیے انتظامیہ نے گنتی مراکز کے ارد گرد سخت سیکورٹی کا پہرا بٹھایا دیا تھاجس دوران شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر بیلوارڈ کو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیا تھا جبکہ اسی طرح جموں کے پالی ٹنکنک انسٹی چوٹ واقع بکرم چوک جموں کو بھی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ووٹنگ کی گنتی کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کیا۔
ہندوستان
یو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے یو جی سی – نیٹ کے سوشیلولوجی ، انگریزی اور کامرس مضامین کے امتحانات دوبارہ کرانے کے این ٹی اے کے فیصلے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب مانگا ہے۔
سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر پیر کے روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان تین مضامین کے یو جی سی – نیٹ امتحانات 22 سے 30 جون کے درمیان ہوئے تھے اور تقریباً دو ماہ بعد این ٹی اے نے تسلیم کیا ہے کہ سوالناموں میں سنگین خامیوں کے ساتھ پرانے سوالات دہرائے گئے تھے۔ اب ہزاروں طلبہ کو ستمبر میں پھر سے ان مضامین کے امتحانات دینے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، “ہزاروں طلبہ نے برسوں تیاری کی، درخواست دی، فیس ادا کی اور دور دراز کے امتحانی مراکز تک سفر کیا۔
اب انہیں یہ سب دوبارہ کرنا ہوگا۔ این ٹی اے غلطی کرتی ہے، لیکن سزا طالب علم بھگتتے ہے۔ اب تعلیمی نظام ایک ایسا نظام بن چکا ہے جو طلبہ کا پیسہ، ان کا وقت، ذہنی صحت اور خود اعتمادی چھین لیتا ہے، لیکن بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ سوال یہ ہے کہ این ٹی اے یہ کیوں نہیں بتا رہی ہے کہ کیا امتحان سے پہلے سوالنامے لیک ہوئے تھے؟”
راہل نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفا پہلا قدم تھا، آخری نہیں۔ این ٹی اے کی قیادت کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
انہوں نے دوبارہ امتحان دینے والے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا نظام مسئلہ ہے جو امتحان بھی ٹھیک سے منعقد نہیں کرا سکتا اور پھر طلبہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
اس دوران کانگریس شعبہٴ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بھی ‘ایکس’ پر کہا کہ این ٹی اے کی غلطی کی سزا ملک کے طلبہ کیوں بھگتیں اور جن نوجوانوں کا نقصان ہوا ہے، اس کی بھرپائی کون کرے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
پنچکولہ، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر-لداخ میں بارش کا سلسلہ زیادہ شدید رہ سکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مغربی ہمالیائی خطے کے کچھ حصوں میں بہت شدید بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
قومی موسم پیش گوئی مرکز کی جانب سے 17 اگست کو صبح 8.57 بجے جاری آل انڈیا موسمی خلاصہ اور پیش گوئی بلیٹن کے مطابق 18 اگست کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔ شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے کچھ مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں 17 اور 18 اگست کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔۔18 اگست کو بارش کا دائرہ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس دن ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں بیشتر مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ 18 اگست کی وارننگ میں بھی ان علاقوں میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
17 اگست کو ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے ساتھ اروناچل پردیش، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش، گنگائی مغربی بنگال اور جھارکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق مغربی ہمالیائی خطے میں پورے ہفتے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد اور اتراکھنڈ میں 17 سے 23 اگست کے دوران بیشتر مقامات پر بارش ہونے کا اندازہ ہے۔
19 اگست کو ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا اندازہ ہے، جبکہ جموں و کشمیر-لداخ-گلگت بلتستان-مظفرآباد میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ممکنہ بارش کے سبب مکمل طور پر سیراب مٹی والے علاقوں اور نشیبی علاقوں میں سطحی پانی کے بہاؤ یا پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ موسم کو کئی موسمی نظام متاثر کر رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے 17 اگست صبح 5.30 بجے کے موسمی تجزیے کے مطابق شمال مغربی خلیج بنگال اور اس سے متصل مغربی بنگال-شمالی اڈیشہ کے ساحل پر ایک دن پہلے بنا واضح کم دباؤ کا علاقہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے ڈپریشن میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آئی ایم ڈی کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں کے دوران اس کے گنگائی مغربی بنگال سے گزرتے ہوئے شمال مغربی سمت میں جھارکھنڈ کی طرف بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
یو این آئی ایم جے
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
