تازہ ترین
ویڈیو:کلگام ہلاکتوں کے خلاف وادی سمیت خطہ چناب اور پیر پنچال تک ہمہ گیر ہڑتال ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
جنو بی کشمیر کو لگام کے لار رو علاقے میں اتوار کو فوج اور جنگجوؤں کے در میان پیش آنے والی جھڑپ کے دوران مارے گئے 3مقامی جنگجوؤں اور ما بعد جھڑپ جائے مقام پر ہوائی فائرنگ ،پیلٹ اور بارودی مواد پھٹ جانے کے نتیجے میں مزید 7عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف سوموار کو مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب اور پیر پنچال کے بیشتر علاقوں میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں تمام کاروباری ،تجارتی اور تعلیمی سر گر میاں مکمل طور مفلوج ہو کر رہ گئی جب کہ اس دوران سڑکوں پر بھی سناٹا چھایا رہا ۔
شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑ تال کے نتیجے میں سر ینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،بارہمولہ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ ،کولگام ،اننت ناگ،شو پیاں ،پلوامہ ،بانہال ،ڈوڈہ ،کشتوار سمیت دیگر کئی علاقوں میں کولگام سانحے کے خلاف عوام نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہو ئے زند گی کی جملہ سر گر میوں کو معطل رکھا ۔ادھر شہر سرینگرمیں کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ نے شہر کے 7حساس پولیس تھانوں جن میں رعنا واری ،خانیار ،نو ہٹہ ،صفا کدل ،کر ن نگر ،کرال کھڈ ،مائسمہ ،اور مہاراج گنج کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد رکھیں جس دوران یہاں سیکورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو جگہ جگہ تعئنات کیا گیا تھا ۔

دھر وسطی ضلع بڈگام اور گاندر بل میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران یہاں پر بھی بازاروں اور سڑکوں پر سنا تا چھایا رہا ۔ بڈگام کے چرار علاقے میں کو لگام ہلاکتوں کے خلاف مکمل بند رہا جس دوران یہاں معمولات زندگی بر ی طرح متاثر رہی ۔
ہڑتال کی وجہ سے یہاں بازار سنسان اور سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ادھر گاندر بل کے کنگن ،لار ،ددر ہامہ ،بہامہ سمیت در جنوں مقامات پر نو جوانوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہو ئے فورسز کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔معلوم ہوا ہے کہ کئی مقامات پر نو جوانوں نے پولیس و سی آر پی ایف کے دستوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے کاروائی کرتے ہو ئے مظاہرین کو منتشر کر دیا ۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال کی وجہ سے مکمل خاموشی چھائی رہی جس دوران یہاں جگہ جگہ فورسزاہلکاروں کو تعینات کردیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے کولگام کے مین قصبہ میں سیکورٹی فورسز کی مشترکہ پارٹیوں کو کسی بھی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا۔ یہاں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے اہلکارروں کو جگہ جگہ تعینات کیا گیا تاہم راہ چلتے لوگوں کی آمدو رفت میں کسی بھی قسم کی خلل نہیں ڈالی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کو کولگام اور مضافاتی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد نے اتوار کے روز جاں بحق ہوئے شہریوں کے گھروں کا رخ کرتے ہوئے اُن کے لواحقین کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ادھر پلوامہ میں بھی مزاحمتی قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی و کارباری سرگرمیاں کلی طور پر ٹھپ رہی۔ نمائندے کے مطابق پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں انتظامیہ نے سیکورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا جس دوران یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے کاروباری، تجارتی اور عوامی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ہڑتال کا اثر اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں ادویات فروش اور نانوانی کی دکانیں بھی بند رہیں جس دوران مختلف مریضوں کو ادویات کے حصول میں مشکلات درپیش رہیں۔ شوپیان میں بھی ہڑتالی کال سے زندگی کی رفتار تھم سی گئی جس دوران یہاں سیکورٹ کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔

ادھر شمالی کشمیر کے بارہمولہ، بانڈی پورہ، سوپور، رفیع آباد، حاجن، ہندوارہ، کپوارہ، کلنگام، لون ہرے، لنگیٹ، نطنوسہ ،ترہگام، ریگی پورہ سمیت کئی حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر خطہ چناب کے بانہال ، رام بن سمیت پیر پنچال کے کئی علاقوں میں شہری ہلاکتوں کے خلاف عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں ہوئی شہری ہلاکتوں کے خلاف بانہال، رام بن سمیت کشتوار، ڈوڈہ اور راجوری کے کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں عوامی، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے یہاں سڑکوں پر سے ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر معطل رہی۔ ادھر وادی سمیت بیرون وادی میں شہری ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے طلبا برادری نے احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے اقتدار پر براجمان قیادت کو شہری ہلاکتوں پر باند باندھنے کی اپیل کی۔ شمالی کشمیر میں قائم زرعی یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبا کی ایک بڑی تعداد نے سوموار کو احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ تفصیلات کے مطابق طلبا نے کیمپس کے احاطے میں زور دار احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے حکومت سے مانگ کی وہ شہری ہلاکتوں پر فوری روک لگائیں۔

ادھر بیرون وادی جواہر لعل نہرو یونیور سٹی کی طلبا انجمن نے بھی کولگام میں ہوئی شہری ہلاکتوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر کشمیر میں افرا تفری کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ملک میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر کشمیر میں خونین کھیل کھیل رہی ہے۔ جے این یو کی طلبہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل اعجاز احمد راتھر نے بتایا کہ لارو کولگام میں شہریوں کی ہلاکت ایک المناک سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ موجودہ حکومت نے کشمیر میں خونین کھیل جاری رکھا ہے اور آئے روز ایسے واقعات رونما ہورئے ہیں جس سے انسانی دل چھلنی ہوتے ہیں۔ ادھر نتظامیہ نے آزادی پسند قیادت کی طرف سے دئے گئے احتجاجی پرو گرام کے پیش نظر حریت سے وابستہ اکثر لیڈران کو تھانہ و خانہ نظر بند کر دیا ۔

انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک سمیت حریت سے وابستہ دیگر لیڈان بشمول محمد اشرف صحرائی ، ہلال احمد وار، مختار احمد وازہ سمیت درجنوں لیڈروان و کارکنان کو قبل از وقت ہی خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔ادھر امن و قانون کی صور تحال کو بر قرار رکھنے اوربے لگام افوا بازی پر روک لگانے کے لئے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے کولگام ،اننت ناگ ،شو پیاں اور پلوامہ میں مو بائیل انٹر نیٹ خد مات کو معطل رکھا جبکہ اس دوران ریلوے حکام نے بھی سیکورٹی خد شے کے پیش نظر بارہمولہ بانہال ریل سروس کو معطل رکھا ۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
