ہندوستان
ہندوستان اور قطر کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری قائم، تجارت دوگنی ہو جائے گی
نئی دہلی، ہندوستان اور قطر نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو ‘اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کی سطح پر اپ گریڈ کیا اور باہمی تجارت کو پانچ برسوں میں دوگنا کرنے، ہندوستان میں قطر سرمایہ کاری مرکز کھولنے اور ہندوستان اور قطر کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی دو طرفہ چوٹی کانفرنس میں یہ فیصلے کئےگئے۔ دونوں ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور افغانستان کے مسئلے سمیت عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی امور پر بھی بات چیت کی۔ امیر قطر کے سرکاری دورے کے دوران دو معاہدوں اور پانچ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سے ایک دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے اور دوسرا دوہرے ٹیکس سے بچنے کے حوالے سے ہے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (قونصلر، پاسپورٹ، ویزا اور سمندر پار ہندوستانی امور) ارون کمار چٹرجی نے میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، جہاز سازی، فوڈ پارکس، قابل تجدید توانائی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آخری بار مارچ 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2024 میں اپنا دوسرا دورہ کیا تو انہوں نے قطر کے امیر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ قطر کے امیر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، سینئر حکام اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
قطر کے امیر کا آج صبح راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک رسمی استقبال کیا گیا۔قطر کے امیر آج شام در جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور وفد کے ہمراہ امیر کے اعزاز میں صدر ضیافت بھی دیں گی ۔ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور امیر قطر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تاریخی تجارتی تعلقات، عوام سے عوام کے گہرے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش میں ہندوستان اور قطر نے آج اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ آج ہندوستان اور قطر کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 14 بلین ڈالر ہے۔ دونوں فریقوں نے اگلے 5 برسوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے قطر بھی ایک اہم پارٹنر ہے۔ قطر کے خودمختار دولت فنڈ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے پاس اس وقت ہندوستان میں تقریباً 1.5 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے آج کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس دورے پر قطر کے اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے وفد کو لانے پر امیر قطر کی ستائش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج ہندوستان اور قطر کے وزرائے صنعت و تجارت کی شریک صدارت میں ایک مشترکہ بزنس فورم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں، کمپنیوں اور اداروں نے بہت مفید بات چیت کی۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان توانائی کے میدان میں بہت ہی متحرک ساجھیداری ہے۔ قطر ہندوستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آج کہا کہ فروری 2024 میں قطر انرجی اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے 2028 سے شروع ہونے والے 20 برسوں کے لیے قطر سے ہندوستان کو سالانہ 7.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی سرمایہ کاری کو تلاش کرنے سمیت توانائی کی ساجھیداری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تاریخی تجارت اور عوام سے عوام کے تعلقات پر مبنی ہیں۔ وزیر اعظم نے قطر میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری کی حمایت کے لیے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر کووڈ۔ 19 وبائی مرض کے دوران ہندوستانیوں کی مدد کے لئے شکریہ ادا کیا۔
ایک سوال کے جواب میں، مسٹر چٹرجی نے کہا “ہم فی الحال ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے، دونوں فریق مستقبل میں دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں اور آج کی بات چیت میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جہاں تک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے کا تعلق ہے، یہ درحقیقت دو طرفہ تعلقات کی موجودہ حالت کو اسٹریٹجک سطح تک بلند کرتا ہے۔ ہم جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا ہے۔
عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر چٹرجی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات کی اور قدرتی طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال اور وہاں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں فریقین نے اسرائیل اور حماس کے معاملے پر اپنے باہمی موقف کا تبادلہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور ان کی تعریف کی۔
قطر کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کی حالت کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چٹرجی نے کہا ‘ہمارے کچھ لوگ جیل میں ہیں، اس وقت ان کی تعداد 600 کے قریب ہے۔ وقتاً فوقتاً قطری قیادت نے انہیں معاف کیا اور اپنی شرائط سے رہائی دلائی۔ 2024 میں تقریباً 85 ہندوستانیوں کو معاف کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس قیدیوں کی سزا کی منتقلی کا معاہدہ ہے جو ابھی تک قطری فریق کی منظوری کا منتظر ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے سابق افسروں کی رہائی کے بارے میں مسٹر چٹرجی نے کہا “بحریہ کے سابق افسر کے بارے میں جو اب بھی قطر کی جیل میں ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقدمہ قطر کی مقامی عدالتوں میں ابھی بھی زیر التوا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کے لیے قطر کے امیر اور ان کی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
