ہندوستان
ناری شکتی وندن ایکٹ‘ خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی طرف ایک تاریخی قدم: لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی؛ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ہندوستان کی ترقی میں خواتین کے کردار کی تبدیلی پر زور دیا انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج خواتین نہ صرف ملک کی ترقی میں ساجھیدار ہیں بلکہ وہ گورننس، سائنس، دفاع، تعلیم اور انٹرپرینیورشپ جیسے مختلف شعبوں میں آگے آرہی ہیں اور آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان ایک نئے دور کا مشاہدہ کر رہا ہے، جہاں خواتین نچلی سطح پر جمہوریت سے لے کر اقتدار کے اعلیٰ عہدوں تک ہر سطح پر قیادت کر رہی ہیں۔
دستور ساز اسمبلی کی 15 خواتین اراکین کے متاثر کن وژن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ان کی ساجھیداری آج بھی قوم کو توانائی فراہم کر رہی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنما قوت کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری تاریخ ہمیں آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتی ہے اور ان اہم خواتین نے ہندوستان میں صنفی مساوات، جامع حکومت اور خواتین کو بااختیار بنانے کی بنیاد رکھی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خواتین کو بااختیار بنانا ہندوستان کے ترقی کے سفر کی بنیاد ہے، مسٹر برلا نے کہا کہ جیسا کہ قوم ہندوستان کے آئین کے 75 سال منا رہی ہے، دستور ساز اسمبلی کی 15 خواتین اراکین کے تعاون کو تسلیم کرنا ضروری ہے جنہوں نے اپنی دور اندیشی اور دیانتداری کے ساتھ ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کی تعمیر میں خاطرخواہ مدد کی۔ خواتین کو قابل احترام سمجھنے کی ہندوستان کی قدیم روایت کا ذکر کرتے ہوئے لوک سبھا نے کہا کہ مادریت، طاقت، قربانی اور پیار ہماری سماجی اقدار کا اٹوٹ حصہ ہیں۔مختلف شعبوں میں خواتین کی طرف سے کی گئی قابل ذکر پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے شری برلا نے کہا کہ خواتین عزم اور عمدگی کے ساتھ انتہائی مشکل اور پیچیدہ کام کر رہی ہیں۔ دفاعی شعبے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین اب لڑاکا طیارے اڑ رہی ہیں، میدان جنگ میں کردار ادا کر رہی ہیں اور بحری آپریشنز کی کمانڈ کر رہی ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے خلائی مشنوں، دفاع، تعلیم، طب، کھیل وغیرہ میں ان کی اہم شراکت کو بھی اجاگر کیا جہاں خواتین سائنسدانوں نے ہندوستان کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ حکمرانی میں خواتین کی قیادت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور دیہی بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ملک میں خواتین کی قیادت میں ہونے والی ترقی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایک دن آئے گا جب خواتین منتخب اداروں میں اکثریت حاصل کریں گی، چاہے بغیر کسی ریزرویشن کے، صرف میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر۔
تاریخی ناری شکتی وندن ایکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، مسٹر برلا نے اسے ہندوستان کے جمہوری منظر نامے میں ایک تبدیلی کا قدم قرار دیا۔ جیسا کہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں پہلا قانون منظور ہوا، یہ قانون صنفی مساوات کے لیے ہندوستان کی پختہ وابستگی کی علامت ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسیاں بنانے اور اعلیٰ سطحوں پر فیصلے کرنے میں خواتین کا زیادہ کردار ہو۔ انہوں نے اسے جامع جمہوریت کی طرف ہندوستان کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر بیان کیا، کیونکہ یہ خواتین لیڈروں کو بااختیار بنائے گا اور قانون ساز اداروں میں ان کی نمائندگی میں اضافہ کرے گا۔خواتین کی اقتصادی ساجھیداری کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کاروباری، خود مدد گروپوں اور مائیکرو انٹرپرائزز میں ان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دیہی معیشتوں کو تبدیل کر رہا ہے اور بے شمار خاندانوں کو مالی آزادی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے اداروں کو تعاون اور فروغ دیں تاکہ انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی اور توسیع کے مواقع میسر ہوں۔
خواتین کی خواندگی کے 100 فیصد ہدف حاصل کرنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور مساوی مواقع تک رسائی کے بغیر حقیقی مساوات حاصل نہیں کی جا سکتی، خاص طور پر دور دراز علاقوں اور محروم طبقات کی خواتین کے لیے تعلیم ضروری ہے ۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مسٹر برلا نے خواتین کی خود انحصاری اور قیادت کے لیے 2025 کو ایک تاریخی سال بنانے پر زور دیا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ناری شکتی ہندوستان کے مستقبل کو چلانے میں اپنا تعاون جاری رکھے۔ انہوں نے معاشرے کے تمام شعبوں میں ایک جامع ماحول پیدا کرنے کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنے پر زور دیا، تاکہ ہر عورت کو یکساں مواقع، عزت اور آزادی حاصل ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کا عالمی دن صرف ایک جشن نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام شعبوں میں خواتین کی قیادت کو آگے بڑھانے کا عزم ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہر فرد سے کہا کہ وہ ایسا معاشرہ تشکیل دے، جس میں خواتین کو با اختیار بنانے میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر5 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر6 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
