ہندوستان
مدغاسکر بحر ہند کے علاقے میں ہندوستان کا ایک قابل اعتماد دوست اور اہم ساجھیدار ہے: لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی؛ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج کہا کہ ہندوستان مدغاسکر کو ایک قابل اعتماد دوست اور ترقیاتی ساجھیدار مانتا ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مدغاسکر بحر ہند کے علاقے میں (خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کے تحت ہندوستان کا ایک اہم ساجھیدار ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ساجھیداری پورے خطے میں علاقائی استحکام اور اقتصادی خوشحالی کو بڑھانے میں معاون ہے۔
برلا نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں مدغاسکر کی قومی اسمبلی کے اسپیکر جسٹن ٹوکیلی کی قیادت میں مدغاسکر سے ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے پارلیمانی وفد کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ میٹنگ کے دوران لوک سبھا کے اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور مدغاسکر کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک کی تجارت، ثقافت اور بات چیت کی صدیوں پرانی تاریخ ہے۔
مسٹر برلا نے کہا کہ ‘واسودھائیو کٹمبکم’ کے اصول کے مطابق ہندوستان پڑوسی ممالک کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، خاص طور پر آفات کے دوران۔ لوک سبھا اسپیکر نے مڈغاسکر کو انسانی امداد اور ڈیزاسٹر ریلیف (ایچ اے ڈی آر) فراہم کرنے میں ہندوستان کے فعال کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے مدغاسکر کی خوشحالی اور سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون کرنے کے لئے مختلف منصوبوں میں تعاون کیا ہے، جو باہمی طور پر فائدہ مند ترقی کے لئے ہندوستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مسٹر برلا نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے میں مدغاسکر میں ہندوستانی تارکین وطن کی طرف سے ادا کیے جانے والے اہم کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مدغاسکر میں منعقد ہونے والے پہلے ‘جے پور فٹ کیمپ’ پر بھی خوشی کا اظہار کیا، جس میں سینکڑوں معذور افراد کو مصنوعی اعضاء فراہم کیے گئے۔
ہندوستان کی جمہوری روایت اور حکمرانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے قدیم اور سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اسے ‘جمہوریت کی ماں’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں سال پہلے ہندوستان میں جمہوری ادارے تھے جہاں عوام کے لیے اجتماعی فیصلے کیے جاتے تھے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان میں جمہوریت صرف حکمرانی کا نظام نہیں ہے بلکہ ثقافتی اور روحانی اخلاقیات کی بنیاد بھی ہے، وک سبھا اسپیکر نے وفد کو بتایا کہ 1952 میں آزاد ہندوستان میں پہلے انتخابات کے بعد سے ووٹروں کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور 2024 کے عام انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً 66 فیصد رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کے جمہوری عمل میں عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور شراکت کا ثبوت ہے۔ اسپیکر نے مدغاسکر کے پارلیمانی وفد کو ہندوستانی پارلیمنٹ کے کام اور بجٹ اجلاس کے طریقہ کار کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
پارلیمانی ڈیموکریسی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ( پرائڈ) کے ذریعہ قانون سازوں کے لئے منعقد کی گئی صلاحیت سازی کے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر برلا نے امید ظاہر کی کہ مدغاسکر کی پارلیمنٹ عالمی معیار کے ادارے پرائڈ کے صلاحیت سازی کے تربیتی پروگراموں سے یقینی طور پر فائدہ اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرائڈمڈغاسکر کے اراکین پارلیمنٹ اور افسروں کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق صلاحیت سازی اور تربیتی پروگرام ترتیب دے سکتا ہے۔ اسپیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارلیمانی وفود کا باقاعدہ تبادلہ اراکین پارلیمنٹ کو ایک دوسرے کے پارلیمانی طریقہ کار اور روایات کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔
مسٹر جسٹن ٹوکیلی نے مڈغاسکر کے وفد کو مدعو کرنے پر مسٹر برلا کا شکریہ ادا کیا اور ہندوستان کی پارلیمنٹ کی طرف سے ان کی گرمجوشی سے مہمان نوازی کے لیے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور ٹیکنالوجی میں غلبہ کی تعریف کی۔ مسٹر ٹوکیلی نے کہا کہ دونوں ممالک کے زراعت، بحری سلامتی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مشترکہ مفادات ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، پارلیمانی تعاون اور ثقافتی تبادلے جاری رہیں گے۔
پیر کو ہندوستان پہنچنے والے وفد نے آج لوک سبھا کی کارروائی بھی دیکھی۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے ایوان کے اراکین کی جانب سے وفد کا لوک سبھا میں خیرمقدم کیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 day agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان1 day agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
