تجزیہ
ہندوستان میں اے سی: گرمی سے تحفظ یا زمین کے لیے خطرہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید گرمی سے انسانی جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت ہے اور دوسری طرف انہی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے ایئر کنڈیشنر (اے سی) اب صرف آسائش کی علامت نہیں رہا بلکہ ہندوستان جیسے گرم ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بنتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا تلخ تضاد جڑا ہوا ہے جو آج کے ہندوستان کے ماحولیاتی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ جو مشینیں لوگوں کو گرمی سے راحت دیتی ہیں، وہی کرہ ارض کو مزید گرم بھی کر رہی ہیں۔
2026 کی گرمی ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کے کئی حصے بھٹی کی مانند تپنے لگے۔ اپریل کے وسط تک مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مشرقی، وسطی اور شمال مغربی ہندوستان شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہیں گے۔ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی ایک سنگین علامت ہے۔
ہندوستان ہمیشہ سے گرم آب و ہوا والا ملک رہا ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 1901 سے 2024 تک ہندوستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر موسمیاتی سائنس میں ایک ڈگری کا فرق پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2024 کو عالمی اور ہندوستانی سطح پر ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس سال تقریباً ہر مہینہ معمول سے زیادہ گرم رہا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی کی فراہمی اور صحت پر پڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں گرمی کی شدت اب اس حد تک پہنچ رہی ہے کہ غریب مزدور، رکشہ چلانے والے، تعمیراتی کارکن، کسان اور فیکٹری مزدور دوپہر کے اوقات میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
شہروں میں صورتِ حال مزید خراب ہے۔ کنکریٹ اور سیمنٹ سے بھرے بڑے شہر”اربن ہیٹ آئی لینڈ”بن چکے ہیں جہاں درجہ حرارت دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ درختوں کی کمی، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اس بحران کو اور سنگین بنا رہی ہیں۔
کبھی ہندوستان میں اے سی صرف امیر طبقے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ شدید گرمی نے متوسط طبقے کو بھی اے سی خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے سی کی فروخت ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اندازہ ہے کہ اگلے دو دہائیوں میں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کولنگ مارکیٹ بن سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، زندہ رہنا۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد، بچے اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں اے سی ایک سہولت نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر، میٹرو اسٹیشنوں اور گھروں میں ٹھنڈک کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہی بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔
ایئر کنڈیشنر بنیادی طور پر دو طریقوں سے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(اول) بجلی کی بے پناہ کھپت: اے سی چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی بڑی مقدار اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ جب لاکھوں اے سی ایک ساتھ چلتے ہیں تو بجلی گھروں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور زیادہ کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
(دوم) ریفریجرینٹ گیسوں کا اخراج: اے سی میں استعمال ہونے والی بعض گیسیں ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر یہ گیسیں فضا میں خارج ہوں تو ان کی گرین ہاؤس اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پرانی نقصان دہ گیسوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے، لیکن اب بھی کئی اقسام کے ریفریجرینٹس ماحول کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستان میں کولنگ کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ امیر لوگ اے سی والے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں رہ کر گرمی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ غریب طبقہ شدید گرمی کا براہِ راست سامنا کرتا ہے۔
کچی بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے پاس نہ مناسب مکان ہیں، نہ بجلی کی مستقل فراہمی، اور نہ ہی ٹھنڈک کے ذرائع۔ ٹین کی چھتوں والے گھروں میں درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان رات بھر سو نہیں پاتے۔ شدید گرمی بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
ہندوستانی شہروں کی بے ہنگم ترقی نے گرمی کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ شہروں میں سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے، جھیلیں اور تالاب ختم ہو رہے ہیں، جبکہ بلند عمارتیں اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔
درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن شہری توسیع کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جائے تو گرمی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گرمی کا بحران صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور گرمی کی لہریں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مزدور طبقہ کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہے جہاں درجہ حرارت جان لیوا ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اس لیے اے سی یا کولر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی گرمی کے خطرات کے سامنے زیادہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔
شدید گرمی اب ہندوستان میں ایک خاموش قاتل بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی اموات سرکاری ریکارڈ میں شامل بھی نہیں ہوتیں۔
ہندوستان تیزی سے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اے سی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو صاف توانائی سے پورا کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی خاص طور پر امید افزا ہے کیونکہ گرمی کے دنوں میں سورج کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جب اے سی کی ضرورت بڑھتی ہے تب ہی سولر پاور بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر گھروں اور عمارتوں پر سولر پینل لگائے جائیں تو بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی اصلاحات درکار ہیں۔
روایتی ہندوستانی طرزِ تعمیر سے سببق لیتے ہوئے جدید کنکریٹ عمارتوں کے برعکس پرانے ہندوستانی گھروں میں قدرتی ٹھنڈک کے کئی طریقے موجود تھے۔ موٹی دیواریں، اونچی چھتیں، صحن، جالی دار کھڑکیاں اور ہوا کی نکاسی کے راستے گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھتے تھے۔
راجستھان کی حویلیاں، جنوبی ہندوستان کے روایتی گھر اور مغلیہ طرزِ تعمیر اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح مقامی آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان اصولوں کو دوبارہ اپنانا ضروری ہے۔
ہندوستان آنے والے برسوں میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہوگا۔ اس ترقی کے ساتھ کولنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ بحران ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اگر پائیدار کولنگ، صاف توانائی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرے تو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص شدید گرمی سے محفوظ ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں ٹھنڈک بھی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جائے۔
ہندوستان میں اے سی دراصل جدید دنیا کے بڑے سوالات میں سے ایک کی علامت ہے۔ ہم ترقی، آرام اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کریں؟ شدید گرمی نے کولنگ کو ناگزیر بنا دیا ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار خود بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، بہتر پالیسیوں، سماجی انصاف اور ماحول دوست طرزِ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ہندوستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب انسانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایسی ٹھنڈک چاہتے ہیں جو وقتی سکون دے مگر زمین کو جلا دے، یا ایسا مستقبل جہاں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہ سکیں۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
