ہندوستان
عالمی بحران کے درمیان ہندوستان کا برکس اتحاد کا مطالبہ، پابندیوں اور دہشت گردی پر اظہارِ تشویش
نئی دہلی ہندوستان نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، اقتصادی عدم استحکام اور کمزور ہوتے کثیر جہتی ادارے عالمی نظام کو مزید نازک بنا رہے ہیں اور برکس ممالک کو استحکام اور عالمی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے متحد ہو کر قدم اٹھانے چاہئیں وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کو یہاں منعقدہ برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے میٹنگ میں بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی عدم تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز خطاب میں کہا کہ دنیا غیر معمولی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے پیچھے مسلح تصادم، موسمیاتی آفات اور کووڈ وبا کے طویل مدتی اثرات اہم وجوہات ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ بحران الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ عالمی چیلنجوں کا ایک ایسا سنگم ہیں جو بین الاقوامی نظام کی صلاحیت کا امتحان لے رہے ہیں اور جن کا سب سے زیادہ اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “استحکام، پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کارروائی اور پختہ عزم ضروری ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ برکس ممالک کو صرف غور و خوض تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ “موثر اور مربوط حل” تیار کرنے چاہئیں۔
ڈاکٹر جے شنکر نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کے پائیدار ذرائع ہیں۔ انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی سمندری سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ہندوستان نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستوں میں بلا تعطل نقل و حمل کو عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔
وزیرِ خارجہ نے غزہ کے تنازع کو “سنگین انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر طویل مدتی سیاسی حل کی سمت میں کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے لبنان، شام، سوڈان، یمن اور لیبیا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان بحرانوں کے حل کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ہم آہنگی ضروری ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ “استحکام منتخب نہیں ہو سکتا اور امن ٹکڑوں میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے تنازعات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، شہریوں کے تحفظ اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی۔
انہوں نے ایسی یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں ہیں۔ ہندوستان نے کہا کہ ایسے اقدامات کا سب سے زیادہ منفی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے اور وہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
وزیرِ خارجہ نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ترقی کی سست رفتار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ہندوستان نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم تحفظ، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے درمیان ترقی اور استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سلامتی کے مسئلے پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی پرانی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہندوستان نے سرحد پار دہشت گردی کو بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ” قطعی برداشت نہ کرنے ” کی پالیسی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ تکنیکی ترقی اور مصنوعی ذہانت عالمی نظام کو تیزی سے بدل رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ اعتماد، شفافیت اور مساوی رسائی سے وابستہ سنگین سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت بتائی۔ موسمیاتی تبدیلی کو ایک فیصلہ کن عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی کارروائی کے ساتھ موسمیاتی انصاف، مناسب مالی امداد اور ترقی پذیر ممالک کے لیے آسان تعاون بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ وزیرِ خارجہ نے کثیر جہتی اداروں، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی پرزور وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں اصلاحات میں مسلسل ہو رہی تاخیر عالمی نظام کی ساکھ اور تاثیر کو کمزور کر رہی ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان7 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
