تجزیہ
موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کی قیادت: سبز سیاست میں ابھرتی ہوئی آوازیں
خصوصی مضمون:ظفر اقبال
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ سماجی، معاشی اور سیاسی حقیقت بن چکی ہے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور قدرتی آفات اب عالمی سیاست کے اہم موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے جہاں سائنسدان اور ماہرین کام کر رہے ہیں، وہیں سیاسی قیادت کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر خواتین سیاستدانوں کی ایک نئی نسل اب موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کی قیادت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین نہ صرف اس مسئلے کو سمجھتی ہیں بلکہ اس کے حل کے لیے عملی سیاست میں بھی قدم رکھ رہی ہیں۔ کئی ایسی خواتین سیاستدانوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف اور مساوات کے لیے بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہر فرد پر یکساں نہیں ہوتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین اکثر غربت، سماجی پابندیوں اور معاشی کمزوری کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین عموماً پانی لانے، خوراک اگانے اور گھریلو وسائل کے انتظام کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی یا سیلاب آتا ہے تو سب سے زیادہ بوجھ انہی خواتین پر پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر جب پانی کے ذرائع خشک ہو جاتے ہیں تو خواتین کو کئی میل دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر فصلیں خراب ہو جائیں تو گھریلو خوراک کی کمی کا سامنا بھی خواتین کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حل میں خواتین کو مرکزی کردار دینا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ماحولیاتی پالیسی سازی میں خواتین کی شرکت کو بڑھایا جائے۔ کیونکہ جب خواتین فیصلوں میں شامل ہوتی ہیں تو پالیسیوں میں سماجی انصاف، انسانی حقوق اور ماحول کے تحفظ کے پہلو زیادہ واضح طور پر شامل ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں سبز یا گرین سیاست کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ سبز سیاست دراصل ایسی سیاسی سوچ ہے جس کا بنیادی مقصد ماحول کا تحفظ، پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ یورپ میں گرین پارٹیوں نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی ممالک میں وہ پارلیمان کا اہم حصہ بن چکی ہیں۔
گرین سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سیاست روایتی طاقت کے ڈھانچوں کے بجائے شفافیت، مساوات اور جمہوری اقدار پر زور دیتی ہے۔
برطانیہ میں بھی گرین پارٹی نے حالیہ برسوں میں اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔ اگرچہ ماضی میں اسے زیادہ تر متوسط طبقے اور شہری علاقوں کی پارٹی سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ طبقاتی اور جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر وسیع تر عوام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان ہی تبدیلیوں کی ایک نمایاں مثال ہننا اسپینسر ہیں۔ وہ حال ہی میں انگلینڈ کے شمالی علاقے سے منتخب ہونے والی پہلی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ بنیں۔ ان کا پس منظر روایتی سیاستدانوں سے بالکل مختلف ہے۔
ہننا اسپینسر نے 16 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور وہ ایک پلمبر کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی وہ پلاسٹرنگ کی تربیت مکمل کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست صرف امیر اور اشرافیہ طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عام محنت کش طبقے کے لوگ بھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔
ان کی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ اب عوام ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں جو ان کی زندگیوں اور مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہوں۔
اپنی تقریر میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گی۔ ان کے مطابق مہنگائی کو کم کرنا، کرایوں کو کنٹرول کرنا اور شہری علاقوں کو صاف ستھرا رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں محنت کش طبقے کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2019 میں برطانوی پارلیمنٹ کے صرف سات فیصد اراکین ایسے تھے جن کا تعلق محنت کش طبقے سے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں زیادہ تر لوگ ایسے پس منظر سے آتے ہیں جو عام عوام سے مختلف ہوتا ہے۔
ہننا اسپینسر کی کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ اس خلا کو کم کرنے کی علامت بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کو سیاست میں ایک نوجوان اور محنت کش طبقے کی عورت کا خیال پسند نہیں آتا۔ان کے مطابق کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ ویسٹ منسٹر ایک ایسے کلب کی طرح رہے جہاں صرف امیر اور مراعات یافتہ لوگ ہی داخل ہو سکیں۔
خواتین کے لیے سیاست میں قدم رکھنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ انہیں نہ صرف سیاسی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ صنفی امتیاز، ذاتی حملوں اور سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔آسٹریا کی نوجوان گرین سیاستدان لینا شلنگ اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ صرف 25 سال کی عمر میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ اس سے پہلے وہ موسمیاتی تحریک ‘فرائیڈیز فار فیوچر’ سے وابستہ تھیں۔شلنگ کے مطابق خواتین سیاستدانوں کو اکثر جنسی بدسلوکی، ذاتی حملوں اور رازداری کے نقصان جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف ان کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات انہیں سیاست چھوڑنے پر بھی مجبور کر دیتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا سیاست کا اہم میدان بن چکا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ہراسانی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔بہت سی خواتین سیاستدانوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیوں، توہین آمیز تبصروں اور جعلی افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چونکہ انٹرنیٹ پر اکثر لوگ گمنامی کے پیچھے چھپ سکتے ہیں، اس لیے وہ بغیر کسی خوف کے نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔
جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سیاسی طور پر سرگرم خواتین میں سے تقریباً دو تہائی کو کسی نہ کسی شکل میں جنس پرستانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کو خاص طور پر زیادہ تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انکار، خواتین کے خلاف تعصب اور ماحولیاتی پالیسی کی مخالفت کے درمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔اس تحقیق کے مطابق بعض لوگ موجودہ معاشی اور سماجی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے موسمیاتی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ چونکہ خواتین اکثر سماجی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، اس لیے انہیں زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آن لائن ہراسانی اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین سیاست چھوڑنے پر بھی غور کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہونے والی 22 فیصد خواتین نے کسی نہ کسی وقت سیاست سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا سوچا۔یہ صورتحال نہ صرف خواتین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر خواتین کو سیاست سے دور رکھا جائے تو معاشرے کے نصف حصے کی آواز دب جاتی ہے۔
تمام تر مشکلات کے باوجود دنیا بھر میں نوجوان خواتین کی ایک نئی نسل سیاست میں قدم رکھ رہی ہے۔ یہ خواتین نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لڑ رہی ہیں بلکہ سماجی انصاف، صنفی مساوات اور معاشی اصلاحات کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔یہ نسل روایتی سیاست سے مختلف انداز اختیار کر رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتی ہیں، عوامی تحریکوں سے جڑی ہوتی ہیں اور شفافیت پر زور دیتی ہیں۔ان کے نزدیک سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ بننے والی ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف سائنسی تحقیق سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی قیادت بھی ضروری ہے۔خواتین سیاستدان اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ وہ اکثر ماحول، صحت اور سماجی انصاف جیسے مسائل کو ایک ساتھ دیکھتی ہیں۔اگر سیاسی نظام خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی بنایا جائے تو مستقبل میں ہمیں مزید باصلاحیت خواتین رہنما دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پوری انسانیت کو ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری دنیا کے مشترکہ عزم سے ممکن ہے۔خواتین اس جدوجہد میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ چاہے وہ مقامی سطح پر ماحولیاتی سرگرم کارکن ہوں یا قومی اور بین الاقوامی سطح کی سیاستدان، ان کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہی ہے۔ہننا اسپینسر اور لینا شلنگ جیسی خواتین اس نئی سیاست کی علامت ہیں جو نہ صرف ماحول کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں بلکہ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی بھی خواہاں ہیں۔اگر دنیا واقعی موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو اسے خواتین کی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر شامل کرنا ہوگا۔یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف ماحول کو بچا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
