دنیا
جے ڈی وینس کے ممکنہ دورۂ پاکستان سے متعلق امریکی میڈیا میں متضاد خبریں
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے ممکنہ دورۂ پاکستان کے حوالے سے امریکی میڈیا میں متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس سے صورت حال غیر واضح ہو گئی ہے۔
ابتدائی طور پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے نائب صدر کی روانگی سے متعلق اطلاعات جاری کی گئیں، جنھیں بعض امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ بیان سامنے آیا کہ نائب صدر اسلام آباد نہیں جا رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے مزید ابہام اس وقت پیدا ہوا جب یہ کہا گیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے نائب ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر موجود نہیں ہوسکتے۔
اطلاعات کے مطابق اگر صدر ٹرمپ خود اسلام آباد جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں جے ڈی وینس کا دورہ منسوخ ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی شخصیات اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اسلام آباد میں ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلان وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی وفد اسلام آباد پہنچنے والا ہے اور اس میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہو سکتے ہیں، جب کہ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وینس ممکنہ طور پر خود سفر نہ کریں بلکہ پسِ منظر میں کردار ادا کریں۔
تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ جے ڈی وینس پاکستان جا کر ایران سے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات (11–12 اپریل) کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے، ایران نے نئی بات چیت میں شرکت سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے اور امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ جب کہ موجودہ جنگ بندی جلد ختم ہونے والی ہے، جس کی وجہ سے یہ دورہ انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ جے ڈی وینس کے دورے پر ابھی بھی مکمل یکسوئی نہیں، تاہم امریکہ ہر صورت اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، اور پاکستان اس وقت امریکا-ایران سفارتکاری کا مرکزی مقام بن چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
