ہندوستان
کانگریس نے تمل ناڈو میں وجے کی ٹی وی کے پارٹی کو حمایت دینے کا دیا اشارہ
نئی دہلی، کانگریس نے منگل کو اشارہ دیا کہ وہ اداکار سے سیاست داں بنے وجے اور ان کی پارٹی، تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کو تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے حمایت دینے پر غور کر رہی ہے حالانکہ حتمی فیصلہ پارٹی کی ریاستی اکائی کی جانب سے کیا جائے گا ایکس پر ایک پوسٹ میں، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ وجے نے حکومت بنانے کے لیے پارٹی کی حمایت مانگنے کے لیے رسمی طور پر پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ “ٹی وی کے صدر تھیرو وجے نے تمل ناڈو میں حکومت بنانے کے لیے بھارتیہ راشٹریہ کانگریس سے حمایت کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی مشن میں پیرومتھلائیور کے۔ کامراج سے ترغیب لینے کی بات بھی کہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس تمل ناڈو میں کےانتخابی نتائج کو آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم سیکولر حکومت کے مینڈیٹ کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “تمل ناڈو میں کانگریس کو واضح طور پر یہ مینڈیٹ ملا ہے کہ ایک سیکولر حکومت منتخب کی جائے جو آئین کی لفظی اور معنوی طور پر حفاظت کرنے کے لیے پرعزم ہو۔ کانگریس یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ بی جے پی اور اس کے حامی کسی بھی طرح سے تمل ناڈو حکومت میں نہ آئیں۔”
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی قیادت نے تمل ناڈو کانگریس کمیٹی سے زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کو کہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اسی مناسبت سے، کانگریس قیادت نے تمل ناڈو کونسل کو انتخابی نتائج میں جھلکتے ریاست کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے تھیرو وجے کی درخواست پر حتمی فیصلہ لینے کی ہدایت دی ہے۔”
یہ پیش رفت تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کی غیر مستحکم سیاسی صورتحال کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں پارٹیاں اکثریت حاصل کرنے اور اگلی حکومت بنانے کے لیے اتحاد کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، تمل ناڈو اسمبلی کی 234 سیٹوں میں سے ٹی وی کے کو 108 سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کو پانچ سیٹیں ملی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 118 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔
ریاست میں اتحاد کی سیاست میں کانگریس روایتی طور پر ایک اہم رول ادا کرتی رہی ہے اور اکثر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہے۔ وجے کی سیاسی رسائی اور کانگریس کے ایک معزز لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ کامراج کا ذکر کرنا، ریاست میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت تیز ہونے کے ساتھ ہی اپنی پارٹی کو ایک وسیع سیکولر اور علاقائی سیاسی ساخت قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
