ہندوستان
ملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے یو جی سی – نیٹ کے تین امتحانات کو تقریباً دو مہینے بعد منسوخ کرنے پر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ ہی سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے
یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب اور کانگریس کی سینئر رہنما ڈاکٹر چینیکا انیال نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یو جی سی – نیٹ امتحان منعقد ہونے کے دو مہینے بعد این ٹی اے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب تین پیپر دوبارہ کرانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب این ٹی اے کو اپنی غلطی معلوم کرنے میں دو مہینے لگ گئے تو نہ جانے اور کتنی غلطیاں ہوں گی، جن سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ طلبہ سے امتحانات کے نام پر بھاری فیس لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس لیے طلبہ سے تمام امتحانات کی درخواست کے لیے صرف ایک روپیہ فیس لی جانی چاہیے۔
مسٹر چب نے کہا کہ شاید بی جے پی حکومت ان غلطیوں کو قسطوں میں سامنے لانا چاہتی ہے، تاکہ جین- زی کا غصہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ پر نہ پھوٹے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے، آخری نہیں اور آج وہی ہو رہا ہے۔ جب تک پورے سسٹم میں جوابدہی طے نہیں ہوگی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان جب مسٹر مودی اور مسٹر شاہ سے جوابدہی مانگ رہے تھے تب وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ 20 دن تک ایوان میں نہیں آئے۔ ایسے میں ان سے جوابدہی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنا ان کی صلاحیت سے باہر ہے، لیکن جب ملک کی زمین اپنے دوست اڈانی کو دینے کی بات آتی ہے تو وزیر اعظم سے کوئی غلطی نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی طلبہ کے مسائل آتے ہیں، حکومت کی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر انیال نے کہا کہ وزارتِ تعلیم کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ صرف سوالنامے اور جواب کی کاپی سے جڑا نہیں ہے، بلکہ طلبہ کے جذباتی اور مالی نقصان سے بھی جڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تین امتحانات منسوخ کیے گئے تو کیا ایسی سنگین غلطی کرنے والے حکام اور ماہرین پر کارروائی ہوگی، کیا ان کے نام عام کیے جائیں گے، کیا طلبہ کو حکومت کی طرف سے ہرجانہ دیا جائے گا اور جن طلبہ کے داخلے کی ڈیڈ لائن نکل گئی ہے، کیا انہیں معاوضہ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس نظام سے طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے، اس پر جواب دینا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے نے اپنے پریس ریلیز میں قبول کیا ہے کہ یو جی سی – نیٹ کے سوالنامے میں سائنس دانوں کے ناموں کی اسپیلنگ، کتابوں کے عنوانات اور تلفظ تک میں غلطیاں تھیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ سوالنامہ تیار کرنے والے کون تھے، طلبہ کے وقت کی قیمت کون چکائے گا، سوالنامے کی جانچ کس نے کی، تلفظ کی تصدیق کس نے کی اور آخری منظوری کس نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے محض ایک بھول کہنا مناسب نہیں ہے اور سوال اٹھتا ہے کہ کیا پورا امتحانی نظام ہی ناکام ہو چکا ہے؟ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔
ڈاکٹر انیال نے اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں طلبہ کے احتجاج کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جین- الفا کے بچے سڑک پر اتر کر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کا الزام ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کی بھاری کمی ہے، بورڈ کے امتحانات کی تیاری نہیں کرائی جا رہی، بچوں کو خراب کھانا دیا جاتا ہے اور بیمار پڑنے پر علاج تک نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے، لیکن اسکولوں میں بنیادی سہولیات تک کا فقدان ہے اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ بنیادی سہولیات کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان7 days agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
