ہندوستان
انتظامی فیصلے میں تاخیر لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف: مرمو
نئی دہلی، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے سول افسران سے مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے انڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس (آئی اے ایس) کے سال 2024 بیچ کے افسران کے ایک گروپ نے بدھ کو راشٹرپتی بھون میں محترمہ مرمو سے ملاقات کی۔ یہ افسران ابھی مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں میں اسسٹنٹ سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا سروسز، خاص طور پرانڈین ایڈمنسٹریٹیوسروس نے ملک کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب جبکہ ملک ترقی کی ایک اعلیٰ سطح پر داخل ہو چکا ہے، افسران سے توقعات بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ اخلاقیات اور گڈ گورننس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ افسران کو ایماندار اور اخلاقی ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، انہیں نتائج بھی دینے ہوں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے بچنا اخلاقیات نہیں کہلاتا بلکہ مفادِ عامہ اور قائم شدہ نظام کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا ہی حقیقی اخلاقیات کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انصاف ملنے میں تاخیر کو انصاف سے محرومی مانا جاتا ہے، اسی طرح انتظامی فیصلے میں تاخیر بھی لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
محترمہ مرمو نے کہا کہ جمہوریت کا مقصد عوام کی امنگوں کو پورا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ امنگیں ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے افسران کا یہ فرض ہے کہ وہ مفادِ عامہ میں ان نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو ترجیح دیں۔” صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ نوجوان افسران کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کا منفرد موقع حاصل ہوگا۔ کئی مواقع پر انہیں کچھ خاص شعبوں کے ماہرین کی ٹیموں کی قیادت بھی کرنی پڑے گی، اس لیے ان کے سیکھنے کا دائرہ اور رفتار دونوں انتہائی وسیع اور تیز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ان کی صلاحیت غیر معمولی ہونی چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا، “افسران کی غیر جانبداری ان کی انصاف پسندی کی علامت ہوگی۔ ان کی حساسیت شمولیت کے تئیں ان کے عزم کا پیمانہ ہوگی۔ ان کی ساکھ شفافیت اور مسلسل بہترین کارکردگی پر مبنی ہوگی۔ ان کا ذاتی اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل ان کی سچائی اور دیانت داری کو واضح کرے گا، جو انہیں مفادِ عامہ میں فیصلہ کن اقدامات کرنے کا اخلاقی حوصلہ فراہم کرے گا۔”
انہوں نے کہا کہ افسران کو ہمدردی اور عقلیت پسندی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں حساس ہونا چاہیے، لیکن جذباتی نہیں۔ انہیں اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، لیکن وسیع تر مقاصد کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ صرف بہتی دھار کے ساتھ بہتے چلے جانے کے لیے کسی خاص کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
‘وکست بھارت’ کے ہدف کو حاصل کرنے اور معاشرے کو ترقی کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچانے کے لیے افسران کو کئی بار حالات کے برعکس جا کر بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ چاہے فیلڈ میں کام کر رہے ہوں یا دفتر میں، ہندوستان کے عوام، خاص طور پر معاشرے کے محروم طبقات کو اپنے خیالات اور کاموں کے مرکز میں رکھیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ ایک ترقی یافتہ اور جامع ہندوستان کی تعمیر میں انمول تعاون دیں گے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر11 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا15 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا15 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا15 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا11 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا11 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا14 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
