دنیا
ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، معاشی دباؤ کی فکر نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکہ کو بڑھتی مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی دباؤ کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
منگل کی شام وائٹ ہاؤس سے چین روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی عوام کی مالی مشکلات ان کے فیصلوں پر “بالکل بھی” اثر انداز نہیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا، “میرے لیے صرف ایک چیز اہم ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ امریکیوں کی مالی صورتحال کے بجائے صرف اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے معاشی اثرات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ امریکہ میں ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات بھی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
منگل کو جاری امریکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں صارفین کی قیمتوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ معاشی ماہرین اس اضافے کی بڑی وجہ خلیجی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث پیٹرول اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی جنگ کے معاشی اثرات پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر معاشی دباؤ برقرار رہا تو پارٹی ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی اپنی اکثریت کھو سکتی ہے۔
صدر کے حالیہ بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن اسٹیون چیونگ نے کہا کہ ٹرمپ کی بنیادی ذمہ داری امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو یہ تمام امریکیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گا۔
اگرچہ صدر ٹرمپ مسلسل ایران کے جوہری خطرے پر زور دے رہے ہیں، تاہم امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق گزشتہ موسمِ گرما کے بعد ایران کی جوہری صلاحیت کے اندازوں میں کوئی نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرنے والے تین باخبر ذرائع کے مطابق امریکی اندازے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں تقریباً نو ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکار ہوگا، حتیٰ کہ موجودہ جنگ شروع ہونے کے دو ماہ بعد بھی اس صورتحال میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا۔
ادھر ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک ایران پر ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور چین سمیت مختلف علاقائی فریق سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کی راہ دوبارہ ہموار ہو سکے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
سعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
ڈھاکہ، بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار اور بہبودِ تارکینِ وطن نے اتوار کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک صوفہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے اس معلومات کی تصدیق سعودی عرب کے محکمہ فائر بریگیڈ کے حوالے سے کی ہے۔
وزیر عارف الحق چودھری نے ان قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب میں روزی کمانے کے لیے محنت کرنے والے ان تارکینِ وطن کی اس طرح کی بے وقت اور المناک اموات انتہائی دل دہلا دینے والی ہیں۔ ملک کی معیشت میں ان کا تعاون بہت بڑا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانہ جائے حادثہ پر موجود ہے اور مقامی حکام کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہلاک ہونے والے تارکینِ وطن کی میتوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کریں اور ان کے خاندانوں کو تمام ضروری سرکاری امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائیں۔
دوسری جانب، بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں کے لیے سب سے اہم ترین منزل بنا ہوا ہے، جہاں تقریباً 35 لاکھ بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
کم مہارت والے کاموں میں مصروف ان بنگلہ دیشی تارکینِ وطن مزدوروں نے گزشتہ سال اپنے ملک کو 2.7 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھیجا ہے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
ماسکو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نجی طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کو جوہری معاہدے کے بغیر بھی ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کئی ہفتوں سے اس بات کی راہ ہموار کر رہے ہیں کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ایران کے ساتھ جنگ میں فتح کا اعلان کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ مشیروں کے سامنے نجی طور پر یہ بھی کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی کسی سمجھوتے پر رضامند ہو سکتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کی اب توجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے پر ہے۔ اگر ایران بحری جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے تو صدر کے پاس فوجی طاقت استعمال کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی حکام نے مزید بتایا کہ صدر نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے نجی گفتگو میں کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے ایران کے دوبارہ جوہری سرگرمیاں شروع کرنے کا امکان کم ہے، کیونکہ امریکہ 2025 تک ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا تھا۔ حالیہ ملاقاتوں میں ٹرمپ نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران پر امریکی حملوں کا خطرہ ایک قابلِ اعتماد بازدار قوت کے طور پر کام کرے گا۔
حکام کے مطابق اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے پر زیادہ آمادہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیتا ہے تو امریکی صدر ایرانی بندرگاہوں پر عائد فوجی ناکہ بندی بھی ختم کر دیں گے۔
امریکی صدر نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے اس لیے روک دیے ہیں کیونکہ امن معاہدے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اس معاہدے کی ابتدائی شرائط میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سمجھوتے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مقررہ بحری راستے کی جغرافیائی تفصیلات پر اتفاق کر لیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
