ہندوستان
پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی بھلر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا شکنجہ، ٹھکانوں پر چھاپہ ماری
نئی دہلی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پنجاب پولیس کے سابق ڈی آئی جی ہرچرن سنگھ بھلر اور دیگر سے متعلق کئی مقامات پر تلاشی مہم چلا رہا ہے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)، انسدادبدعنوانی بیورو (اے سی بی)، چنڈی گڑھ نے سابق ڈی آئی جی اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان معاملات میں آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے اور ایک مجرمانہ معاملے کے تصفیے کے لیے بچولیہ کے ذریعے غیر قانونی رقم کے مطالبے جیسے الزامات شامل ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ “ملزم، ساتھیوں اور مشتبہ بے نامی داروں سے منسلک 11 مقامات (چنڈی گڑھ-2، ضلع لدھیانہ-5، پٹیالہ-2، نابھہ-1 اور جالندھر-1) پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 17 کے تحت تلاشی لی جا رہی ہے۔” اہلکار نے مزید کہا کہ تلاشی کا مقصد جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا سراغ لگانا، بے نامی جائیدادوں کی شناخت کرنا اور منی لانڈرنگ سے متعلق شواہد اکٹھا کرنا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نے گزشتہ سال اکتوبر میں سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ہرچرن سنگھ بھلر کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا کیس درج کیا تھا۔ انہیں 17 اکتوبر 2025 کو ایک اور معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔
سی بی آئی کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے مطابق، آکاش بارا نے شکایت درج کرائی تھی جس کی بنیاد پر پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی (روپڑ رینج) بھلر اور ایک نجی شخص کرشانو کے خلاف بھارتیہ نیاۓ سنہیتا کی دفعہ 61 (2) اور انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات 7 اور 7 اے کے تحت 16 اکتوبر کو باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں بچولیہ ملزم کرشانو کو شکایت کنندہ سے مسٹر بھلر کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے مسٹر بھلر اور بچولیہ کرشانو کو گرفتار کر لیا۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر کے مطابق، “مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے دوران، چنڈی گڑھ میں واقع بھلر کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی۔ تلاشی کے دوران 7,36,90,000 روپے نقد برآمد ہوئے، جن میں سے 7,36,50,000 روپے ضبط کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر 2,32,07,686 روپے مالیت کے سونے کے زیورات اور چاندی کی اشیاء (بھلر کے بیڈروم سے)، اور 26 برانڈڈ اور مہنگی گھڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔”
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ “غیر منقولہ جائیداد کے دستاویزات بھی ضبط کی گئی ہیں، جن میں چنڈی گڑھ کے ایک گھر اور فلیٹ کے کاغذات اور موہالی، ہوشیار پور اور لدھیانہ اضلاع میں تقریباً 150 ایکڑ زرعی زمین کے حصول سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ ان میں مسٹر بھلر، ان کے خاندان کے افراد (بشمول اہلیہ تجیندر کور بھلر، بیٹا گرپرتاپ سنگھ بھلر اور بیٹی تیز کرن کور بھلر) اور دیگر کے نام پر تجارتی جائیدادیں شامل ہیں۔ جناب بھلر اور ان کے اہل خانہ کے پاس مرسڈیز، آڈی، انووا اور فارچیونر جیسی مہنگی گاڑیوں سمیت پانچ گاڑیاں بھی پائی گئیں۔”
سی بی آئی نے انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 13(1)(بی) بشمول دفعہ 13(2)، اور بھارتیہ نیاۓ سنہیتا 2023 کی دفعہ 61(2) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کر کے چھاپہ ماری شروع کر دی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا8 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان8 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا10 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 hour ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر1 hour agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
