جموں و کشمیر
رمضان میں مہنگائی عروج پر: وادی کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر، عوام پریشان
سری نگر، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب پوری وادی کشمیر میں روحانیت، عبادت اور خیرات کا ماحول ہوتا ہے، وہیں اشیائے ضروریہ کی بے تحاشا قیمتوں نے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ اپنے گھریلو بجٹ میں توازن قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، متعلقہ محکموں کی غفلت اور نگرانی کے فقدان کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے۔
رمضان کے آغاز سے ہی سبزیوں، میوہ جات، پھلوں اور بالخصوص کھجور کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
چند روز قبل تک سنگترے کا ایک درجن 100 روپے میں مل رہا تھا لیکن اب اسی مقدار کو 200 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ صرف یہی نہیں، انگور کی قیمتیں عام شہریوں کے ہوش اُڑا رہی ہیں، جو 400 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ صرف بیانات تک محدود ہے، عملی طور پر گراؤنڈ پر کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا۔
نوہٹہ کے رہائشی محمد ساجد نے یو این آئی کو بتایا، ’رمضان میں تو حکومت کو قیمتوں پر قابو پانے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کرنے چاہیے تھے، مگر یہاں تو الٹا حالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے رمضان کی خریداری مشکل سے مکمل کی ہے، روزانہ کسی نہ کسی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔‘
دوسری جانب دکاندار بھی مختلف وجوہات کا سہارا لے کر قیمتیں بڑھانے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ چرارِ شریف کے ایک سبزی فروش فیاض احمد نے بتایا، ’ہمارے اوپر بھی تھوک بازار کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کرایہ بڑھا ہے، مال کی سپلائی کم ہے اور اوپر سے رمضان کی وجہ سے ڈیمانڈ زیادہ ہے، اس لئے ریٹ بڑھانا پڑ رہا ہے۔ دکان دار تو صرف وہی بیچ سکتا ہے جس قیمت پر وہ خرید کر لاتا ہے۔‘
اگرچہ دکاندار اپنی مجبوریوں کا رونا رو رہے ہیں، لیکن صارفین کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ گوجوارہ کی رہائشی رفعت جان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا، ’یہ سب بہانے بازی ہے۔ رمضان میں ہر سال یہی ہوتا ہے۔ حکومت صرف چھاپوں کی بات کرتی ہے لیکن نہ چھاپے پڑتے ہیں نہ ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ سبزی، پھل، کھجور—سب کی قیمتیں ڈبل ہو گئی ہیں۔
اگر یہ رمضان نہیں تو پھر کب حکومت ریٹ کنٹرول کرے گی‘
بازاروں کا رخ کیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ سبزی فروش جہاں ٹماٹر، پیاز، بینگن اور بندگوبھی جیسے روزمرہ استعمال کی چیزوں پر من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں، وہیں میوہ فروش سیب، کیلا اور انگور جیسے پھلوں پر ’رمضان اسپیشل ریٹ‘ کے نام پر حد سے زیادہ قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری ریٹ لسٹیں صرف فائلوں میں نظر آتی ہیں، جبکہ بازاروں میں اس کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔
لال چوک میں قائم ایک معروف فروٹ شاپ کے مالک ندیم بٹ نے یہ موقف پیش کیا کہ، ’ہم پر بار بار الزام لگانا ٹھیک نہیں۔ اصل مسئلہ سپلائی چین میں ہے۔ مال کم آرہا ہے، باہر سے جو ٹرک آتے ہیں ان کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ ہم خود بھی مجبور ہیں۔ لیکن صحیح ہے کہ کچھ دکاندار ناجائز منافع خوری کرتے ہیں، جس سے عام لوگوں میں اشتعال بڑھ رہا ہے۔‘
ادھر محکمہ امورِ صارفین کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ افسران صرف اعلانیہ دوروں اور بیانات تک محدود رہتے ہیں۔ رمضان میں قیمتوں پر قابو پانے کی خصوصی مہم شروع کرنے کا دعویٰ بھی کاغذوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ پچھلے دنوں چند دکانوں پر جرمانے ضرور لگائے گئے، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات محض دکھاوا ہیں اور وقتی میڈیا ہائپ کے لئے کئے جاتے ہیں۔
حیدرپورہ کے ایک بزرگ شہری عبدالغفور وانی نے کہا، ’ہم نے اپنی زندگی میں مہنگائی کے کئی دور دیکھے ہیں، مگر رمضان کے مہینے میں ایسی لاقانونیت کبھی نہیں دیکھی۔ انتظامیہ نے اگر سختی نہیں کی تو آئندہ ہفتوں میں حالات مزید بدتر ہو جائیں گے۔‘
رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں حکومتیں دنیا بھر میں عوامی سہولیات بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن کشمیر میں اس کے برعکس صورتحال ہے جہاں مہنگائی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا پھر معاملات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو روزانہ بازاروں کی نگرانی کرے، ریٹ لسٹوں کو سختی سے نافذ کرے اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
خواتین صارفین کی ایک بڑی تعداد، جو گھریلو بجٹ کی براہ راست ذمہ دار ہیں، سب سے زیادہ پریشان دکھائی دے رہی ہے۔ بٹہ مالو کی سمیرا خان نے کہا، ’ایک طرف رمضان کے اخراجات، دوسری طرف بچوں کے اسکول کے خرچے۔ ایسے میں سبزی دوگنی، پھل ڈھائی گنا اور کھجور تین گنا قیمت پر مل رہا ہے، آخر کب تک غریب عوام برداشت کریں گے‘
ان تمام تر صورتحال کے باوجود سرکار دعویٰ کر رہی ہیں کہ ریٹ کنٹرول سیل سرگرم ہے اور بازاروں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس کہانی بیان کرتی ہے، جہاں عام لوگ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں، جبکہ ذمہ دار محکمے تاحال خوابِ غفلت میں دکھائی دے رہے ہیں۔
عوامی حلقے اس بات پر بھی شدید برہم ہیں کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوری کو روکنے کے لئے کوئی جامع لائحہ عمل موجود نہیں۔ اگر فوری اور سخت کارروائی نہیں کی گئی تو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اشیائے خوردنی کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، جس سے عام لوگوں کی مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
