ہندوستان
مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شدت، اسرائیل کا ایران کی پارس گیس فیلڈ پر حملہ، ایران کی قطر کی ایل این جی تنصیب پر جوابی کارروائی
رمیش بھان
دہلی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کی ایک بڑی لہر کے دوران، اسرائیل نے بدھ کی رات ایران کے ایک اہم گیس مرکز ‘ساؤتھ پارس گیس فیلڈ’ پر حملہ کر دیا، جس کے جواب میں ایران نے قطر میں ایل این جی کی ایک بڑی تنصیب پر جوابی حملہ کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے قطر کے راس لَفان صنعتی علاقے سمیت پڑوسی ممالک میں توانائی کے مراکز پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے وہاں کی ایل این جی تنصیبات کو “بڑے پیمانے پر نقصان” پہنچا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والے واقعات پر “غصے میں آکر” ایران کی اس بڑی تنصیب پر شدید حملہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ مجموعی تنصیب کے نسبتاً ایک چھوٹے حصے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حیران کن طور پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو اس مخصوص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، اور قطر کسی بھی طرح سے اس میں شامل نہیں تھا اور نہ ہی اسے اس کے ہونے کا کوئی علم تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ بدقسمتی سے قطر کو اس بات یا ساؤتھ پارس حملے سے متعلق کسی بھی متعلقہ حقیقت کا علم نہیں تھا، اور ایران نے “بلا جواز اور ناحق قطر کی ایل این جی گیس تنصیب کے ایک حصے پر حملہ کر دیا۔” انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس انتہائی اہم اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ سے متعلق “اسرائیل کی جانب سے اب مزید کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔”
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے “نادانی” میں کسی “معصوم” ملک (اس معاملے میں قطر) پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، تو امریکہ، اسرائیل کی مدد یا رضامندی کے ساتھ یا اس کے بغیر، “پورے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو اتنی طاقت کے ساتھ اڑا دے گا جو ایران نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔” ٹرمپ نے تنبیہ کی، “میں ایران کے مستقبل پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کی وجہ سے تشدد اور تباہی کے اس درجے کی اجازت نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر قطر کی ایل این جی پر دوبارہ حملہ ہوا تو میں ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا۔”
پارس گیس فیلڈ، جو دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے، جنوبی ایران کے صوبہ بوشہر کے ساحل پر واقع ہے۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ملک کی وزارت پیٹرولیم کے حوالے سے بتایا کہ متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے لیکن فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ گیس فیلڈ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک کی فضائیہ نے یہ حملہ کیا۔
یہ حملہ فوجی اہداف سے ہٹ کر اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی طرف منتقلی کے باعث جنگ میں ایک بڑی شدت کی علامت ہے۔ ساؤتھ پارس فیلڈ (جس میں قطر بھی حصہ دار ہے اور اسے وہاں ‘نارتھ فیلڈ’ کہا جاتا ہے) دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ یہ ایران کی کل گیس کی پیداوار کا تقریباً 70 سے 75 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس فیلڈ سے حاصل ہونے والی قدرتی گیس ایران کے قومی پاور گرڈ کے تقریباً 80 فیصد حصے کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ یہ ایران کی پیٹرو کیمیکل اور پٹرول کی پیداوار کی صنعتوں کے لیے خام مال کا بنیادی ذریعہ ہے۔
سخت پابندیوں کے باوجود، یہ فیلڈ گھریلو حرارت، کھانا پکانے اور صنعتی کاموں کے لیے ایک لازمی “توانائی کی لائف لائن” ہے۔ اگرچہ ایران کا زیادہ تر حصہ گھریلو استعمال کے لیے ہے، لیکن قطر کے ساتھ مشترکہ ملکیت کی وجہ سے کسی بھی رکاوٹ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس حملے کے فوری علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس عسلویہ کے قریب پروسیسنگ تنصیبات میں آگ لگنے اور روزانہ 12 ملین مکعب میٹر پیدا کرنے والے کم از کم ایک آف شور پلیٹ فارم کی معطلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
مسٹر کووند کی سوانح عمری جدوجہد، عزم اور کامیابی کی ایک متاثر کن کہانی : لوک سبھا اسپیکر
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یہاں سابق صدر رام ناتھ کووند کی سوانح عمری ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ نامی کتاب کا اجرا کیا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس موقع پر موجود تھے اور کہا کہ اس کتاب کا اجراء فخر کی بات ہے معززین سے خطاب کرتے ہوئے برلا نے کہا کہ سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کی سوانح عمری، جو اعلیٰ آئینی نظریات کا مظہر ہے، عزم، جدوجہد اور کامیابیوں کی ایک متاثر کن کہانی ہے۔ تعلیم کے حصول کے دورانمسٹر کووند کو اپنی ابتدائی زندگی میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک عاجز اور معاشی طور پر کمزور پس منظر سے ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے تک کا سفر ان کے غیر معمولی عزم کو ظاہر کرتا ہے اور یہ عزم آنے والی نسلوں کے لیے ایک لازوال ترغیب کا ذریعہ رہے گا۔
مسٹر برلا نے مزید کہا کہ مسٹر کووند نے آئینی اقدار کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ذریعے ایک وکیل کے طور پر ایک انمٹ نشان چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور ممبر پارلیمنٹ ان کا دور ان کی درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف اور عوامی زندگی میں قابلیت کے لیے ایک سنہری باب ہے۔
گورنر کے طور پر مسٹر کووند کے دور کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں شفافیت، معیار اور تکنیکی اختراع کو ایک نئی سمت دی۔ ہندوستان کے صدر کے طور پر، انہوں نے ہندوستانی جمہوریت کی آئینی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے، سماجی ہم آہنگی اور جامع ترقی کے لیے ایک غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک کے اپنے دوروں کے ذریعے انہوں نے ہندوستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ کووڈ-19 وبائی مرض کے پیش نظر، مسٹر کووند نے ہمت، اتحاد اور ملک کے لوگوں میں اعتماد پیدا کیا اور راشٹرپتی بھون کو عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنایا۔ انہوں نے اسے مسٹر کووند کی اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ صدر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مسٹر کووند اپنی سوچ، عوامی زندگی میں بھرپور تجربہ اور سماجی انصاف کے لیے اپنی وابستگی کے ذریعے ملک، آئین اور سماج کے لیے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘ٹرائمف آف دی انڈین ریپبلک: مائی لائف، مائی اسٹرگلس’ کے ذریعے قارئین مسٹر کووند کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں جانیں گے، جو انہیں عوامی زندگی میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر،مسٹر برلا نے کتاب کی اشاعت پر مسٹر رام ناتھ کووند کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
ہندوستان
سودیشی جاگرن منچ کی حکومت سے امریکی ٹیرف کی دھمکیوں کے خلاف ڈٹے رہنے، لوگوں سے امریکی کمپنیوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی، سودیشی جاگرن منچ (ایس جے ایم) نے امریکہ کی سینیٹ کی طرف سے حال ہی میں منظور کیے گئے اس قانون پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، جو امریکی صدر کو ان ملکوں پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کا اختیار دیتا ہے جو روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدتے ہیں تنظیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اس کا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی ملک کو ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور خود مختار تجارتی پالیسی طے کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایس جے ایم کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن نے کہا، “اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ اس قانون کو ابھی پورے قانون سازی کے عمل سے گزرنا باقی ہے اور ڈیوٹی خود بخود نافذ نہیں ہوگی، پھر بھی یہ واضح طور پر آزاد اور منصفانہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور ملکوں کے اپنی توانائی پالیسیاں طے کرنے کے خود مختار حق کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کرتا ہے۔”
ایس جے ایم کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر حکومت ہند کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ روس سے خام تیل کی ہندوستان کی خریداری توانائی سکیورٹی، دستیابی، قیمت، سپلائی میں تنوع اور ہندوستانی صارفین کے مفادات پر مبنی ہے۔
ہندوستان نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ جائز بین الاقوامی منڈیوں سے توانائی خریدنے کے ہمارے خود مختار حق کو کوئی تیسرا ملک طے نہیں کر سکتا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب امریکہ میں آنے والے سامان پر غیر منصفانہ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ایسی دھمکیاں امریکی صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کار کے آغاز سے ہی ملتی رہی ہیں؛ درحقیقت، امریکہ میں آنے والے ہندوستانی سامان پر کبھی کبھی بھاری ڈیوٹی لگائی گئی ہے، جس سے ہماری برآمدات پر کافی اثر پڑا ہے۔ ان ٹیرف کو الگ الگ ناموں سے جانا گیا ہے— جیسے ریسیپروکل ٹیرف اور قومی سکیورٹی ڈیوٹی سے لے کر سیکشن 301 ڈیوٹی، سیکشن 232 ڈیوٹی، تادیبی ڈیوٹی (روسی تیل خریدنے کے لیے)، تجارتی خسارہ ڈیوٹی اور جبری مشقت ڈیوٹی— اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔
یو این آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
امت شاہ کی تقریر نہیں، ہمیں جواب چاہیے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہیئں مسٹر گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا؟”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا، “سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔”
مسٹر گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا، “امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟” انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، “مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ 20 دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً 30 گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
