تجزیہ
ایران کا ‘موزیک ڈیفنس’ اور ‘چوتھا جانشین’ ماڈل
خصوصی مضمون : اسد مرزا
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ میں دو اصطلاحات جن کو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ ہیں جنگی حکمت عملی کا “موزیک ڈیفنس” ماڈل اور لیڈر شپ کا “چوتھا جانشین” ماڈل، یہ دونوں اب تک جنگ میں ایرانی حکومت کی کامیابی کو ظاہر کر چکے ہیں جیسے جیسے امریکہ-اسرائیل بمقابلہ ایران تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، ایران کے عدم ارتکاز “موزیک ڈیفنس”یعنی کہ ایک نیا دفاعی نظام اور “چوتھے جانشین” یعنی کہ پرتوں والے لیڈر شپ ماڈل اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قیادت کے نقصانات کے باوجود فوجی کارروائیاں اور حکومت پر کنٹرول کیسے جاری رکھا جائے۔
دنیا نے پہلی بار یہ اصطلاح یکم مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی X پر پوسٹ میں سنی، جب انہوں نے لکھا، “… عدم ارتکاز ’موزیک ڈیفنس‘ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے کہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔” ایران کی حکمت عملی کے دو اہم ستون یہاں پیش کیے گئے: پہلا، امریکی فوجی کمزوریوں کا مشاہدہ اور ان کے مطابق اپنی جوابی کارروائیوں کو وضع کرنا اور دوسرا، اس کی کمان اور کنٹرول کی مکمل عدم ارتکاز تاکہ سرکشی کے حملوں کی صورت میں لچک اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
موزیک ڈیفنس
یہاں عراقچی کی طرف سے جس عدم ارتکاز دفاعی حکمت عملی کا حوالہ دیا گیا ہے، اسے ‘موزیک ڈیفنس’ کا نام دیا گیا ہے، یعنی کہ یہ حکمت عملی امریکی یا اسرائیلی حملوں کے اثرات کو بے اثر کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ایران کی قیادت یا کمانڈ اینڈ کنٹرول کو نشانہ بناتے ہیں اور کسی بھی سرقے کے حملے کے دوران تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔
بعض اوقات اسے ‘سلامی سلائسنگ’ یا پارچے بناکر ختم کرنے کی حکمت عملی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، یہ نقطہ نظر امریکہ اور اسرائیل کو معاشی طور پر خون بہانے کے ایران کے ہدف تک پھیلا ہوا ہے، تاکہ جنگ کو ان کی متعلقہ آبادیوں تک پہنچایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ جنگ تہران کے دشمنوں کے لیے مقامی طور پر غیر مقبول رہے۔
آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے آغاز کے بعد سے ایران کا دفاعی نظریہ حقیقی وقت میں سامنے آیا ہے اور اسے88۔ 1980 کی ایران-عراق جنگ کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی کے دوران لبنان پر اسرائیل کے حملے اور قبضے کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا، یہ دونوں ہی ایران اور اس کے بنیادی پراکسی گروپ حزب اللہ کے لڑنے کے طریقہ کار کو تشکیل دینے میں زبردست طور پر کامیاب رہے ۔
اس کے علاوہ، یہ تین جہتی دفاعی نظریہ 2005 میں مزید تیار ہوا، جب اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے، جنرل محمد جعفری کی نگرانی میں، ‘موزیک ڈیفنس’ کے اپنے ماڈل کا اعلان کیا – بنیادی طور پر ایک عدم ارتکاز کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم۔
ایرانی عسکری ثقافت کے ماہر ڈاکٹر مائیکل کونال کے ایک تجزیے میں، یہ حکمت عملی براہ راست IRGC کمانڈ اور کنٹرول کو 31 الگ الگ کمانڈز کے نظام میں تشکیل دینے کی طرف لے گئی، جو حملے کی صورت میں شورش شروع کر سکتا ہے اور جو ایران کے دفاع کو انتہائی مشکل سے کم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا سکتا ہے۔
RAND آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2003 میں عراقی افواج کو ایک کمانڈ سٹرکچر کے تحت ہو نے کی وجہ نے مفلوج کر دیا تھا جو عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کے ارد گرد انتہائی مرکزیت پر مرکوز تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس نے عراقی فوج اور ریپبلکن گارڈ کے دونوں یونٹوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے روک دیا، جبکہ ڈویژن اور کور کی سطح کے افسران صدام کی منظوری کے بغیر بنیادی مشقیں بھی نہیں کر سکتے تھے۔
2010 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدام حسین کی حکومت کی تیزی سے شکست نے جعفری اور دیگر ایرانی حکام کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت کا احساس دلایا کہ IRGC اور باقاعدہ ایرانی مسلح افواج (آرٹیش) بغیر کسی مداخلت کے آزادانہ طور پر کام کر سکیں اور اعلیٰ کمان سے رابطہ منقطع ہونے پر اپنی ذمہ داریوں کو پہلے کی طرح ہی انجام دیتے رہیں ۔
RAND تنظیم کے مطابق، ایران کا ‘موزیک ڈیفنس’ سب سے پہلے 2005 میں وضع کیا گیا تھا، جب جعفری نے IRGC کے سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کے طور پر، آیت اللہ کی حکومت کے لیے دو اہم خطرات کی نشاندہی کی تھی، جو کہ ایران کے خلاف مغربی طاقتوں کے کسی منصوبے کو بے اثر کرنے میں کامیاب ہوسکتی تھی۔
ایران نے 2005 میں اس نظریے پر عمل درآمد شروع کیا، 2007 میں جعفری کی IRGC کے کمانڈر ان چیف کے طور پر تقرری کے بعد اس میں تیزی آئی۔ 2010 کی یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
صوفان سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، موسوی نظریہ کی حکمت عملی میں ایران کے جغرافیہ، ناہموار پہاڑوں، وسیع میدان علاقوں ، منتشر آبادی کے مراکز، اور حملہ آوروں کے خلاف طویل مزاحمت کے قابل بنانے کے لیے تہہ دار، تقسیم شدہ دفاع پر زور دیا گیا تھا۔
بنیادی اختراع IRGC کو 31 نیم خودمختار صوبائی کمانڈز (ہر صوبہ میں ایک) میں دوبارہ ترتیب دینا تھا۔ ہر کمانڈ ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کرتی ہے جس میں خود مختار ہیڈکوارٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول نوڈس، میزائل اور ڈرون ہتھیار، مربوط بسیج ملیشیا یونٹس، فاسٹ اٹیک نیول فلوٹیلا، انٹیلی جنس اثاثے، ذخیرہ شدہ جنگی سازوسامان، اور ہنگامی کارروائیوں کے لیے پہلے سے تفویض کردہ اتھارٹی تھی۔
2007 میں IRGC کمانڈ سنبھالنے کے بعد، جعفری نے اس کے مکمل نفاذ کی نگرانی کی، بسیج فورسز کو IRGC میں ضم کیا اور غیر متناسب صلاحیتوں کو بڑھایا۔ مرحوم سپریم لیڈر خامنہ ای کے تحت منظور شدہ اس لامرکزیت نے مقامی کمانڈروں کو حقیقی وقت کی مرکزی نگرانی کے بغیر وسیع مقاصد کو انجام دینے کی وسیع آزادی کی اجازت دی۔
یہ حکمت عملی دیگر ممالک کی ماضی میں اپنائی گئی حکمت عملیوں کی بھی عکاسی کرتی ہے جیسےکہ جرمن Auftragstaktik Doctrine، جو امریکی بحریہ کے انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق، ماتحت افسران کو اس وقت تک کام کرنے کی آزادی دیتا ہے جب تک وہ اپنے اعلیٰ افسران کی طرف سے دیے گئے پہلے سے طے شدہ مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ عملی لحاظ سے، فوج کو اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر فوج اور حکومت کی اعلی قیادت ختم ہوجائے تب بھی وہ کام جاری رکھے۔
“چوتھا جانشین” لیڈر شپ ماڈل
دریں اثنا، ایران نے ایک تہہ دار قیادت کا نظام بھی تیار کیا ہے جو جنگ کے وقت میں طاقت کے خلا کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اس حکمت عملی کو بعض اوقات “چوتھا جانشین” بھی کہا جاتا ہے، جو کہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگر سینئر شخصیات کسی حملے میں میں ماری جاتی ہیں تو قیادت کے متعدد درجے اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ایرانی منصوبہ ساز طویل عرصے سے توقع کر رہے تھے کہ امریکہ یا اسرائیل جیسے طاقتور مخالفین کے ساتھ جنگ میں سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں سپریم لیڈر اور جانشینی کی صف میں پہلی چند شخصیات کے شامل ہونے کا اندیشہ بھی تھا۔
اس لئے حکومت کے کام کاج میں خلل کو روکنے کے لیے، ریاست نے قیادت کا ایک گہرا درجہ بند طریقہ اختیار کیا تاکہ حکمرانی یا فوجی کمان میں مداخلت کیے بغیر طاقت کئی درجوں سے نیچے جا سکے۔ ایران کے سیاسی نظام کے تحت، ماہرین کی اسمبلی سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔ اگر موجود لیڈر کی موت ہو جائے یا وہ نااہل ہو جائے تو ایک عبوری قیادت کونسل عارضی طور پر دفتر کی ذمہ داریاں نبھا سکتی ہے جبکہ مستقل جانشین کا انتخاب جاری رکھا جاسکے۔
اس انتظام کا ایک ورژن آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مختصراً دیکھا گیا۔ اس عرصے کے دوران، تین رکنی کونسل جس میں مسعود پیزشکیان اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل تھے، نئے سپریم لیڈر کی تقرری تک قیادت کے فرائض سنبھالتے رہے۔ چوتھا جانشین” کا تصور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگر سپریم لیڈر
اس تہہ دار نظام کا مقصد اس بات کی ضمانت دینا تھا کہ ریاست، خاص طور پر اس کی سیکیورٹی اور فوجی آلات، قیادت کے نقصانات سے قطع نظر کام کرتے رہ سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، ایرانی قیادت کے موجودہ اعتماد کو اس کے ‘موزیک ڈیفنس’ اور ‘چوتھے جانشین’ لیڈر شپ ماڈل کی کامیابی سے منسوب کیا جا سکتا ہے، جس کے بارے میں اس کے مخالفین کو کوئی عملی تجربہ اس جنگ سے قبل نہیں تھا۔
یو این آئی۔ الف م۔
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا18 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر18 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا22 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا22 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان20 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا18 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
