ہندوستان
ترمیمی بل ارکانِ پارلیمنٹ کو فراہم نہ کرنا جمہوریت کا مذاق: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ جس آئینی ترمیمی بل کے سلسلے میں حکومت 16 اپریل سے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کررہی ہے، اسے اب تک ارکانِ پارلیمنٹ کو فراہم نہ کرنا حکومت کی من مانی اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
کانگریس کے محکمۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز جاری بیان میں کہا کہ حکومت نے پہلے 29 اپریل کو کل جماعتی اجلاس بلانے کے اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کر کے من مانی کی، اور اب بل کو اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ مشترک نہ کر کے جمہوری عمل کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 16 اپریل سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں بلایا جا رہا ہے جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال اسمبلی کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر ہوگی۔اس کے باوجود مودی حکومت نے انتخابات کے بعد کل جماعتی اجلاس بلانے کی اپوزیشن کی جائز مانگ کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے کہا، “آج صبح تک بھی مودی حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ان آئینی ترمیمی بلوں کو شیئر نہیں کیا ہے، جن پر انہیں بحث اور ووٹنگ کرنی ہے۔ یہ جمہوریت کا مکمل مذاق ہے اور وزیراعظم کی ’بلڈوزر ذہنیت‘ کی عکاسی کرتا ہے۔”
یواین آئی۔ م س
ہندوستان
انڈیا اتحاد کا ‘ووٹ چوری’ کے خلاف زبردست مارچ، سپریم کورٹ میں عرضی داخل
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ‘ووٹ چوری’ اور انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک زبردست مارچ نکالا اور شام کو عدالت عظمیٰ میں عرضی داخل کی۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد کہا کہ عرضی داخل کر دی گئی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی وکیلوں کی ٹیم کے ساتھ مارچ میں شامل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرانے پہنچے۔ ان کے ساتھ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
کانگریس کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں راہل گاندھی سمیت 11 افراد کے نام شامل ہیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے الیکشن کمیشن کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو بھی فریق بنایا ہے۔ عرضی میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر فہرست سے متعلق معاملات میں عدالتی مداخلت کرنے کے ساتھ ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی فائلیں، اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس دیے اور سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر فہرست سے نہ ہٹایا جائے، فہرست سے نکالے گئے ووٹروں کی بوتھ وار فہرست اور نام ہٹانے کی وجوہات شائع کی جائیں، ووٹر فہرست میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کرائی جائے اور ایس آئی آر کے عمل پر روک لگائی جائے۔ انڈیا اتحاد کے مطالبات میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنا، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے نکالے گئے ناموں کے معاملے میں سپریم کورٹ کی مداخلت اور انتخابی نظام میں شفافیت یقینی بنانا شامل ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حق رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان معاملات میں عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
انڈیا اتحاد چیف الیکشن کمشنر پر ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔ پیر کو نکالے گئے مارچ میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، کانگریس رہنما اشوک گہلوت، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے ارکان پارلیمنٹ سنجے راوت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا ماجھی اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کے رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مارچ میں بڑی تعداد میں شریک مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار کی کرسی چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جمہوریت اسی وقت بچے گی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے ہٹایا جائے گا۔ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ ملک کے عوام انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کو بچانے کے لیے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں متحد ہوئی ہیں اور اب انہیں سزا دینے کا وقت آ گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اختلاف کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
دہلی میں اب جنتر منتر پر نہیں ہوں گے دھرنے اور مظاہرے، تین نئے مقامات طے
نئی دہلی، 12 اکتوبر (یو این آئی) قومی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کے لیے طویل عرصے سے استعمال ہونے والا جنتر منتر اب دھرنے اور مظاہروں کے لیے مقررہ مقام نہیں رہے گا۔
مرکزی وزارتِ داخلہ کی ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر دہلی میں مظاہرین کے لیے تین نئے مقامات رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ نشان زد کیے گئے ہیں۔
دہلی کے پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے جاری کردہ مستقل حکم کے مطابق، جنتر منتر کو مظاہرے کے مقام کے طور پر اب ڈی-نوٹیفائی (منسوخ) کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے شہریوں کے احتجاج کے حق کے لیے موجودہ “مخصوص مقام” کی جگہ مناسب متبادل جگہ تلاش کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر رام لیلا میدان، براڑی گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ کو مظاہرے کا نیا مقام قرار دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تینوں مقامات پر مظاہرے منعقد کرنے کے لیے تفصیلی اور ترمیم شدہ معیاری طریقہ کار الگ سے جاری کیا جائے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
گیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
نئی دہلی، ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر روک لگانے اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی تحقیقات کے مطالبات کے حق میں پیر کے روز یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا، جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے ہٹائے گئے ناموں کے معاملے میں مداخلت کرنے اور انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان مسائل پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
‘انڈیا’ اتحاد کے اس مارچ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما ڈی کے شیو کمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) کی سپریا سولے، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (اودھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے اراکینِ پارلیمنٹ سنجے راؤت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا مانجھی نیز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت متعدد اپوزیشن رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
جموں و کشمیر5 days agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
ہندوستان7 days agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
