دنیا
ریلائنس انڈسٹریز 300 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری میں شراکت دار ہوگی: ٹرمپ
اشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک میں 50 سالوں میں پہلی بار تعمیر ہونے والی 300 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری میں ہندوستان کا ریلائنس انڈسٹریز گروپ شراکت دار بنے گا مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ معلومات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی ہیں انہوں نے کہا، “اس زبردست سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان میں ہمارے شراکت دار اور ہندوستان کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی، ریلائنس کا شکریہ۔”
مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا، ” آج، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ فرسٹ ریفائننگ 50 سالوں میں پہلی نئی امریکی آئل ریفائنری براؤنز وِیلے، ٹیکساس میں شروع کر رہی ہے۔ یہ 300 ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ ہے، جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا، امریکی عوام، توانائی اور جنوبی ٹیکساس کے لوگوں کے لیے نوید ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “ہمارے امریکہ فرسٹ ایجنڈے، اجازت ناموں کو آسان بنانے اور ٹیکس کو کم کرنے کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ ہمارے ملک میں اربوں ڈالر کے سودے واپس آ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ براؤنزویلے پورٹ پر نئی ریفائنری سے امریکی مارکیٹ کو فروغ ملے گا، اس کی قومی سلامتی مضبوط ہوگی، امریکی توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، اور اربوں ڈالر کے اقتصادی فوائد مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ ریفائنری دنیا کی سب سے صاف ستھری ہو گی۔
ریلائنس انڈسٹریز نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
دنیا
پوتن کا عالمی عدم استحکام طویل ہونے کا انتباہ، کثیر قطبی عالمی نظام پر زور
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بین الاقوامی قوانین کے کمزور ہونے، ادارہ جاتی بحران اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ’’انتہائی غیر مستحکم اور مسلسل تبدیل ہوتے‘‘ دور میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایک زیادہ مستحکم کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام پر زور دیا۔
والڈائی ڈسکشن کلب کے 23ویں سالانہ اجلاس کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ دنیا ’’فیصلہ کن موڑ‘‘ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، طب، عسکری سائنس، آبادیاتی تبدیلیوں اور عالمی معیشت میں تیز رفتار پیش رفت معاشروں اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی شکل دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا اپنی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے‘‘ اور انسانیت ’’بالکل نئی اور بے مثال حقیقت‘‘ میں داخل ہو رہی ہے، جہاں خطرات اور مواقع ایک دوسرے سے تیزی سے جڑتے جا رہے ہیں۔
پوتن نے کہا کہ جاری تبدیلیوں کا پیمانہ بہت وسیع ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ایسے نئے خطرات بھی پیدا کر رہی ہے جو پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ٹیکنالوجی لفظی طور پر انسانی عمر میں اضافے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے شاندار امکانات پیدا کر رہی
ہے، تاہم یہ پوری انسانیت کی تباہی کے امکانات کو بھی ایک نئی سطح تک لے جا رہی ہے۔‘‘
روسی صدر کے مطابق یہ گہری تبدیلیاں ممالک کے اندر سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں کیونکہ روایتی سیاسی نظام بدلتے ہوئے معاشروں اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس کے ایک نتیجے میں کئی ممالک میں داخلی سیاسی ’بخار‘ بھی شامل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ روایتی جماعتی نظام تیزی سے تبدیل ہونے والے سماجی ڈھانچوں کی عکاسی کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ حکومتیں داخلی عدم استحکام کے جواب میں اپنی سرحدوں سے باہر اقدامات کر سکتی ہیں، جس سے بین الاقوامی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
پوتن نے کہا، ’’دوسرے لفظوں میں، وہ بدقسمتی سے عدم استحکام کو برآمد کر سکتی ہیں، جس سے کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔‘‘
روسی صدر نے کہا کہ بڑی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کے باعث ممالک اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے زیادہ خطرات مول لے سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تنازعات جاری رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کاش میں اس تجزیے میں غلط ثابت ہوں، لیکن بدقسمتی سے جن مستقل رجحانات کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔‘‘
تاہم پوتن نے اعتماد ظاہر کیا کہ دنیا بالآخر ان کے بقول مغربی بالادستی سے دور ہو کر کثیر قطبی بین الاقوامی نظام کی طرف بڑھے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ طویل مدت میں دنیا جیسے جیسے مغربی بالادستی سے دور ہوگی، بین الاقوامی صورت حال بتدریج بہتر ہوگی اور ایک زیادہ مستحکم، جمہوری اور آزاد کثیر قطبی عالمی نظام وجود میں آئے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس منتقلی میں اگرچہ بڑے خطرات موجود ہوں گے، تاہم پالیسی سازوں کی فوری ترجیح ان خطرات کو کم سے کم کرنا ہونی چاہیے۔
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
ماسکو، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “اگر کالیننگراد سمیت روس پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ناگزیر اور فوراً زیرِ غور آجائے گا۔”
ولادیمیر پوتن نے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ولدای مباحثہ کلب کی سالانہ نشست میں روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی سمیت یوکرین میں جاری جنگ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
روسی وزارتِ خارجہ کے کالیننگراد کے بارے میں بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط میں شامل عبارتوں کا دفاع کرتے ہوئے پوتن نے کہا: “اگر روس سے منسلک کسی بھی علاقے پر براہِ راست حملہ ہوا تو ہمارے ملک کے پاس موجود تمام ہتھیاروں کا استعمال ناگزیر اور فوری ماہیت اختیار کر لے گا۔”
پوتن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ملک کو دھمکانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور کہا: “ہم کسی کو ڈراتے نہیں ۔ روسی وزارتِ خارجہ کا بیان اور بعض ممالک کو بھیجے گئے خطوط دھمکی دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے خلاف دھمکانے کی کوشش کا جواب ہیں۔”
پوتن نے اعادہ کیا کہ ہم کسی پر حملے کا منصوبہ نہیں بنا رہے: “نہ 2029 میں، نہ 2030 میں، نہ 2050 میں ہمارے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ، مگر اگر حملہ ہوا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ یورپی ممالک کے شہریوں کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ہمارے موقف اور اُن کے ممالک کے بعض سیاسی حکمرانوں کے موقف میں فرق ہے۔”
پوتن نے بتایا کہ روس کے سامنے ایک فریق ہے جس کی آبادی روس سے دو گنا ہے اور جس کے پاس بڑی اقتصادی و عسکری صلاحیت موجود ہے اور کہا کہ ایسے خطرے کے مقابلے میں ہماری طاقت اور وسائل محدود رہیں گے، اس لیے ہمیں اپنی برتری استعمال کرنا پڑے گی۔
ولادیمیر پوتن نے کہا: “آج روس کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ یہی ہماری برتری ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
